Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / بی ایس پی ، بہن جی کی سمپتی پارٹی ، مایاوتی پر مودی کا طنز

بی ایس پی ، بہن جی کی سمپتی پارٹی ، مایاوتی پر مودی کا طنز

نریندر مودی ’’مسٹر نیگٹیو دلت مین‘‘ مایاوتی کاجوابی وار ، انتخابی مہم کے دوران دو قائدین کے شخصی ریمارکس

بالاؤں ؍ سلطان پور (یوپی) ۔20 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی اور بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کے درمیان ایک دوسرے پر طنزیہ حملوں کادلچسپ تبادلہ ہوا ۔ مودی نے مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کو ’’بہن جی سمپتی پارٹی ‘‘ قرار دیا جس کے جواب میں مایاوتی نے مودی کو ان کے نام کے حروف کے حوالے سے ’’مسٹر نیگیٹیو (منفی) دلت مین‘‘ قرار دیا۔ نوٹ بندی پر مایاوتی کی تنقید و مخالفت کا مذاق اڑاتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’بی ایس پی اب بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) نہیں رہی بلکہ بہن جی سمپتی (اثاثہ ؍ دولت ) پارٹی بن گئی ہے ‘‘ ۔ مایاوتی ’’ بہن جی ‘‘کے نام سے کافی مشہور ہیں۔ اترپردیش میں بندیل کھنڈ کے علاقہ اوراٹی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ اپنے لئے دولت جمع کیا کرتے ہیں وہ عوام کے مسائل کبھی حل نہیں کرسکتے ۔ مودی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) آج کہاں پہونچ گئی ہے ۔ میں نے گزشتہ سال 8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تب دو کٹر حریف ایس پی اور بی ایس پی جو ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اس مسئلہ پر متحد ہوگئے ۔ مجھے حیرت ہوئی جب میں نے رشوت ستانی کے خلاف جنگ شروع کی اور کالے دھن کے بارے میں تفصیلات دریافت کیا تھا وہ ایک ساتھ ہوگئے اور بشمول کانگریس تمام جماعتیں ایک ہی زبان میں بات کرنے لگی تھیں‘‘۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ ’’بہن جی ( مایاوتی ) الزام لگارہی تھیں کہ حکومت کسی تیاری کے بغیر یہ فیصلہ کی ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ آیا حکومت تیار نہیں تھی یا پھر آپ تیار نہیں تھے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ( نوٹ بندی کے فیصلہ پر عمل آوری سے قبل ) ایک ہفتہ کا وقت دیا جانا چاہئے تھا ۔ ملائم نے بھی یہی بات کہی تھی ‘‘ ۔ مایاوتی نے ان ریمارکس پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی نہیں جانتے کہ بی ایس پی پہلے ایک تحریک تھی جو بعد میں سیاسی جماعت بنی ۔ دلتوں ، پچھڑے ہوئے طبقات اور مسلمانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے میں اپنی ساری زندگی وقف کرچکی ہو‘‘ ۔ مایاوتی نے کہاکہ ’’مودی غلط انداز میں بی ایس پی کی تشریح کررہے ہیں ۔ میں دلتوں ، دیگر پسماندہ طوبقات غریبوں اور مسلمانوں کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کرچکی ہوں اور وہ سب مجھے اپنا ( اثاثہ ؍ دولت ) سمجھتے ہیں ‘‘ ۔ وزیراعظم نے مجھے یہ نریندر دامودر داس مودی کی ’’مسٹر نیگیٹیو دلت مین ‘‘ کی حیثیت سے تشریح کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ نریندر کا مطلب منفی (مخالف) ، دامودر داس کا مطلب دلت لیا جاسکتا ہے اور مودی کا مطلب مین اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ وزیراعظم کے کام اور ان کے رویہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے یہ تشریح کی ہے ‘‘ ۔ مایاوتی نے کہاکہ ’’نریندر مودی جو ’جملہ بازی‘ (لفظی اُلٹ پھیر) کے ماہر ہیں بی ایس پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے مایوس ہوگئے ہیں اور اس قسم کے ریمارک کرریہ ہیں لیکن جب انھیں جیسے کو تیسا جواب ملتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کیلئے میں نے آج مجبوراً ایسا ہی کی ہوں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT