Thursday , May 25 2017
Home / ہندوستان / بی ایس پی کی تائید کے ذریعہ اکھلیش نے شکست قبول کرلی: رجیجو

بی ایس پی کی تائید کے ذریعہ اکھلیش نے شکست قبول کرلی: رجیجو

غازی آباد۔10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر کرن رجیجو نے آج چیف منسٹر یو پی اکھلیش یادو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی کے ساتھ انتخابی نتائج کے بعد معلق اسمبلی وجود میں آنے کی صورت میں اتحاد کی پیشکش کرتے ہوئے پہلے ہی اپنی شکست قبول کرلی ہے۔ حالانکہ ابھی رائے شماری بھی شروع نہیں ہوئی۔ مرکزی وزیر مملکتی برائے داخلہ کرن رجیجو نے 48 ویں سی آئی ایس ایف یوم تاسیس تقریب میں بحیثیت چیف گیسٹ شرکت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو پر یہ الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتحاد کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔ ایس پی اور کانگریس کو تشکیل حکومت کے لیے اگر کافی نشستیں حاصل ہوسکتیں تو اکھلیش یادو بی ایس پی سے اتحاد کی بات نہ کرتے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہا کہ ایگزٹ پولس میں بی جے پی کو یو پی میں دیگر سیاسی پارٹیوں پر سبقت ظاہر کی جارہی ہے لیکن یہ غلط ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ان کی پارٹی سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ یو پی میں قطعی اکثریت حاصل کرلے گی۔ نئی دہلی کے انتخابی نتائج کے بارے میں پیش قیاسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام پیش قیاسیاں غلط ثابت ہوگئیں اور نتائج بالکل برعکس ظاہر ہوئے۔ اسی طرح بہار اسمبلی انتخابات کے بارے میں بھی تمام بڑے چینلوں کی انتخابی پیش قیاسیاں غلط ثابت ہوچکی ہیں اور عام آدمی پارٹی نے ریاست دہلی میں حکومت تشکیل دی۔ انہوں نے کہا کہ بھگوا پارٹی کے لیے 285 نشستوں کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ وہ نشستوں کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے تاہم کانگریس اور سماج وادی پارٹی اتحاد یو پی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلے گا۔ دریں اثناء ایگزٹ پولس میں یو پی، اتراکھنڈ اور گووا میں کانگریس کی شرمناک شکست کی پیش قیاسیوں کی پرواہ کئے بغیر کانگریس نے دعوی کیا کہ وہ تمام پانچ ریاستوں بشمول یو پی میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد ذریعہ کامیابی حاصل کرلے گی۔ رائے شماری کل مقرر ہے اور پیش قیاسی کی گئی ہے کہ انتخابی نتائج ایک فرد کے خلاف ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سینئر کانگریس قائد جنرل سکریٹری امور اترپردیش غلام نبی آزاد نے کہا کہ سماج وادی پارٹی۔کانگریس اتحاد یو پی الیکشن میں ایگزٹ پولس کے دعوئوں کے باوجود کامیابی حاصل کرے گا۔ دریں اثناء بی جے پی پارلیمانی بورڈ کا اجلاس کل دوپہر منعقد ہوگا جس میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر غور کیا جائے گا جن کا اعلان ہوچکا ہوگا۔ ایگزٹ پولس میں بھگوا پارٹی کے لیے خوش خبری ہے۔ جن میں اہم ریاست اترپردیش بھی شامل ہے جہاں بی جے پی کے سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھرنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ اس پس منظر میں صورتحال پر غور کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کے لیے بی جے پی کی اعلی ترین فیصلہ ساز کمیٹی کا اجلاس اہمیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی صدر بی جے پی امیت شاہ ان 12 ارکان میں شامل ہیں جو اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دیگر افراد میں مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ، ارون جیٹلی، نتن گڈکری، سشما سوراج، وینکیا نائیڈو، اننت کمار، تھاورچند گیہلوٹ اور جے پی نڈا شامل ہیں۔ پارٹی کے ذریعہ نے کہا کہ اجلاس کل یقینی طور پر منعقد کیا جائے گا تاہم انتخابی نتائج کے اعلان پر اس کا انحصار ہوگا۔ اسے اتوار تک ملتوی بھی کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT