Monday , August 21 2017
Home / مضامین / بی جے پی ،انتخابی مجبوری اور نظریاتی کشمکش کے درمیان محصور

بی جے پی ،انتخابی مجبوری اور نظریاتی کشمکش کے درمیان محصور

محمد جسیم الدین نظامی
مرکز میں برسر اقتد ار جماعت بی جے پی نے اتر پردیش ریاستی یونٹ کے نائب صدر دیاشنکر سنگھ کو مایاوتی کے خلاف انکی’’ فحش کلامی‘‘ پر پہلے انہیں انکے عہدے سے برطرف کردیا اور پھر پارٹی سے خارج کرتے ہوئے کم ازکم اپنی روایتی سوچ و فکر سے پہلی بار انحراف بلکہ ’’روایت شکن ‘‘ ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان کے بیان پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے بی جے پی نے ان کے خلاف یہ فیصلہ لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ پنجاب اور اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر’’ مجبوری‘‘ میں لیا گیا ہے۔انتخابی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نظریاتی کشمکش سے گزر رہی ہے۔بہوجن سماج پارٹی کی صدر، ریاست کی سابق وزیر اعلی اوردلت لیڈر مایاوتی کو دیاشنکر سنگھ نے ’’ویشیا ‘‘سے بھی بدتر بتایا تھا،جسکے انتخابات پرپڑنے والے منفی اثرات کو محسوس کرتے ہوئے برسراقتدارطبقہ کو فوری طورپر ایکشن لینے پر مجبورہونا پڑا۔ورنہ آپکو یاد ہوگا اس سے پہلے ساکشی مہاراج، یوگی آدتیہ ناتھ، سادھوی نرنجن جیوتی ،سادھوی پراچی ،اور گری راج سنگھ سمیت کئی ایک بی جے پی قائدین، مخالفین کے خلاف اشتعال انگیز، فحش اور قابل اعتراض بیانات دیتے رہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کارروائی کرنا تو دور، پارٹی صدر امیت شاہ یا وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ کبھی ان پر روک لگائی اور نہ ہی تحمل برتنے کا مشورہ دیا۔ تجزیہ نگاروںکا خیال ہے کہ دو سال پہلے ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے اتر پردیش کی جملہ80 نشستوں میں سے 73 پر فتح حاصل کی تھی۔ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کی کامیابی کے لئے اتر پردیش میں اسے جیت ملنا انتہائی ضروری ہے۔ ابھی تک تصور کیا جا رہا تھا کہ ریاست کا دلت مایاوتی سے بیزار ہوکر کسی دوسرے متبادل کی تلاش میں ہے۔ بی جے پی کی پوری کوشش اسے اپنی جانب کھینچنے کی ہے اور اسی مقصد سے ریاستی یونٹ کی کمان کیشو پرساد موریہ کو سونپی گئی۔ مگر بہار سے سبق نہ سیکھ کر امیت شاہ اتر پردیش میں بھی وہی حکمت عملی اپنا رہے ہیں جنہیں وہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ حکمت عملی سوشل انجینئرنگ کی طرف سے ذات پات عدم مساوات اور ریاست کے ووٹروں کو ’’فرقہ وارانہ پولرائزیشن ‘‘کی بنیاد پر بانٹ کر انتخابی فائدہ اٹھانے پر ٹکی ہے۔ دلتوں کو محض اپنی طرف راغب کرنے کے لئے آر ایس ایس اور بی جے پی نے باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو اپنایا اور ان کی 125 ویں یوم پیدائش کو دھوم دھام سے منایا اوراس پروگرام میں خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوئے۔لیکن ان سب کی راہ میں ایک ایسی رکاوٹ آ رہی ہے جس کا کوئی توڑ بی جے پی کے پاس نہیں ہے ، اوروہ ہے شدت پسند ہندو تنظیموںکا بے قابو ہوجانا۔ سال 2014 میں مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف ہندو نظریاتی تنظیموں اور عناصر کا حوصلہ اتنا بڑھا کہ وہ کہیں بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے نہیں ہچکچا رہے ہیں۔  مرکز میں این ڈی اے حکومت  کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پیدا ہونے والے سیاسی و سماجی مسائل نے دنیا بھر میں ملک کی شبیہ کو نقصان پہونچایا ہے۔ موجودہ حکومت  کے انتخابی وعدوں اور عمل میں تضاد واضح طورپر دیکھا جارہا ہے۔ نئی حکومت آنے کے بعد سے بر سر اقتدار گروپ سے وابستہ اکثریتی طبقے میں عدم تحمل کا عنصر تشدد کی شکل میں آرہا ہے ۔ دراصل ان سیاسی طاقتوں نے اپنی سیاست کی’’ بنیاد‘‘ ہی فرقہ وارانہ جذبات اور’’ تفریق ‘‘پر رکھی ہے۔یہی ان کے فکر و نظراور ان کی سیاست کا مرکزی محور رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تفریق ، اور اشتعال انگیزی کو وہ اپنی سیاسی کامیابی بلکہ بقا کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کا آسان ترین نسخہ ان کے نزدیک یہی ہے کہ ملک کی فرقہ وارانہ فضا مسموم رہے۔ سماجی سطح پر، دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر اس وقت غیرمعمولی خود اعتمادی سے سرشار ہیں اورانتہائی سرکش ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس وقت جو زبردست سیاسی سرپرستی حاصل ہے، وہ اس سے قبل کبھی حاصل نہیں تھی۔حکومت کی یا تو بھرپور تائید انہیں حاصل ہے یا، حکومت ان کے سامنے بے بس ہے۔ دونوں صورتوں میں ، حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ان کی خطرناک سرشی کو لگام دینے کی اپنی دستور ذمہ داری ادا کرسکے۔

اس کے لئے یقینا برسر اقتدار طبقہ ذمہ دار ہے اور وہ عناصر ذمہ دار ہیں جو اس طبقہ کی نظریاتی سرپرستی کرتے ہیں۔ اس طبقہ کی نظریاتی اساس، قوم پرستانہ اور تہذیبی جارحیت ہے۔ ان کے نزدیک ’’قوم پرستی ‘‘کا مطلب وطن اور اہل وطن سے سچی محبت او ر خیر خواہی نہیں بلکہ ’’ مخصوص تہذیب کی بالادستی‘‘ اور اکثریت کے مذہب اور روایات کا’’ مکمل غلبہ‘‘ ہے ۔اس طرح کا نظریہ جو مزاج پیدا کرتا ہے ، فسطائی رجحان اس کا لازمی خاصہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدم برداشت کا ماحول صرف مسلم اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اْن سب کے خلاف ہے جو اس طبقہ سے کسی بھی طرح کا نظریاتی، سیاسی بلکہ پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں ۔حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور ہونے کی وجہ سے دلت اسٹوڈنٹس مضطرب ہوگئے، عدم اطمینان کی آگ تو ملک بھر میں پھیل رہی تھی، ادھر نام نہاد گاؤ رکشا دلوں نے اتر پردیش کے دادری میں محمد اخلاق کو قتل کرنے کے علاوہ راجستھان، ہریانہ ،مدھیہ پردیش اور گجرات میں بھی مسلمانوں اور دلتوں کو اپنی تشدد کا شکار بنانا شروع کر دیا۔ ممبئی میں امبیڈکر بلڈنگ کو زبردست مخالفت کے باوجود زمیندوز کر دیا گیا جس کے خلاف وہاں زبردست ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے ہوئے۔ اسی درمیان گجرات میں مردہ گائے کی کھال اتار رہے کچھ دلت نوجوانوں کو سر عام لوہے کی چھڑوں سے مارپیٹ کرنے کا معاملہ سامنے آیا اور وہاں بہت سے دلتوں نے اس ظلم سے تنگ آکر کر خود کشی کی کوشش کی ۔بعدمیں دلتوں نے مردہ گائے کو سرکاری عمارتوں کے سامنے ڈال کر اور ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے سے انکار کر کے اپنی شدید مخالفت کا اظہارکیا۔ اس آگ میں دیاشنکر کی فحش اور سخت قابل اعتراض تبصرہ نے گھی کا کام کیا کیونکہ یہ تبصرہ دلتوں کی سب سے زیادہ مقبول اور طاقتور خاتون لیڈر کے خلاف کی گئی تھی۔دیاشنکر سنگھ کے اخراج کا کوئی خاص اثر ہونے کا امکان نہیں ہے تاہم ان کے تبصرے سے بی جے پی کا مکمل کھیل بگڑتا نظر آ رہا ہے۔ اس تبصرے کو خواتین اور دلت ان کے وقار پر جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تصور کررہے ہیں ۔اور انہیں یہ بھی احساس ہے کہ اگر پنجاب اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات سر پر نہ ہوتے تو بہت ممکن ہے کہ دیاشنکر سنگھ کے خلاف اس طرح کی کوئی کارروائی نہ ہوتی۔ جیسا کہ دیگر بی جے پی قائدین کے خلاف اب تک نہیں کی گئی۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ انتخابی مجبوری بی جے پی کو ایک سمت میں دھکیلتی ہے لیکن اس کے کارکنان اور ربی جے پی قائدین کی نظریاتی پس منظر اور تربیت انہیں مخالف سمت میں دھکیلتے ہیں۔ یہی سیاسی نظریات اور سیاسی مجبوریوں کے درمیان وہ کشمکش ہے جو اس کے لئے مشکلات کھڑی کرتا رہے گا۔

حالیہ واقعات گواہ ہیں کہ کس طرح سیاسی قائدین کا ایک بیان سیاسی کارکنوں کو سڑکوں پر لے آتا ہے۔ جومعاشرے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش میں شعوری یا غیرشعوری طور پر شریک بھی بن جاتے ہیں۔ لوجہاد سے لے کر بیف اور گاؤرکشا کے نام پرافواہیں پھیلائی جاتی رہی ہیں اور ان افواہوں پر فساد اور یہاں تک کہ قتل بھی کر دئے جاتے ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ کسی نہ کسی سیاسی نظریے کے حامی ہوتے ہی ہیں۔ پکڑے جانے پر بھلے ہی سیاسی جماعت ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ طاقت اور داداگیری کی طرف ان جماعتوں کا ایک چوردروازہ کھلتا ہے جہاں دھول اڑاتی ایک فوج ہمیشہ تیار کھڑی نظر آتی ہے۔ہندوستان کی مرکزی دھارے کی سیاست اس قدر پستی اورگراوٹ کا شکارہوگئی ہے کہ اب سیاسی قائدین سرعام کچھ بھی کسی بھی دوسرے لیڈر یا پارٹی کے خلاف بول دیتے ہیں اور اپنے بیان کو توڑمروڑکر پیش کرنے کا میڈیا پر الزام عائد کرکے’’ اخلاقی احتساب‘‘ سے بری ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ان حرکتوںکی وجہہ سے پچھلے دوسا ل سے ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصہ میں شدید درجہ کا ’’احساس عدم تحفظ‘‘اور’’ مایوسی‘‘ پیدا ہوگئی ہے۔ اس سہمی ہوئی آبادی میں صرف مسلم اقلیتیں شامل نہیں ہیں بلکہ، دلت،آدی واسی ، پسماندہ طبقات، غریب و محروم طبقات اور برسر اقتدار طبقہ کے نظریاتی حریف وغیرہ سب شامل ہیں۔ لہذا اس صورت حال میںمسلم قائدین ہی ملک قوم کو مایوسی اورخوف کے دلدل سے نکال سکتے ہیں، اگر وہ اسلام کے آفاقی پیغام کے حامل ہیں۔ چونکہ وہ کسی طبقاتی کشمکش، یا ذات پات کی لڑائی میں فریق نہیں بن سکتے۔ ان کی لڑائی کسی مخصوص ذات ، فرقہ یا طبقہ کے خلاف نہیں ہوسکتی لیکن انسانوں میں ناروا تفریق پیدا کئے بغیر حق و انصاف کی جدوجہد میں مظلوموں کا بھرپور ساتھ دے سکتے ہیں۔بہرحال مقصد تحریر یہ ہے کہ جب تک مسلمانان ہند ،وسائل سے محروم ،دبے کچلے اورمظلوم طبقے کے ساتھ اتحاد کرکے ان کی محرومیوںکے بھی نقیب بن کرکوئی سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش نہیں کرینگے ،ملک کے حالا ت مزید بد ترہوتے جائنگے۔چونکہ کوئی بھی خالص مسلم پارٹی نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوگی بلکہ فسطائی طاقتوںکو متحدہونے کا سنہری موقع فراہم کردیگا۔لہذا ضروری ہے کہ مسلمانوںکے مذہبی ،سماجی اورسیاسی قائدین ملک کے پسماندہ اورمحروم طبق کے ساتھ مل کر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں ۔ اوراگرایسا نہیں ہوا تو ملک کے موجودہ سیاسی حالات سیفرقہ پرستوں کو تو شاید فائدہ ہو جائے لیکن ملک کا سماجی تانا بانا مکمل طورپر بکھر کر رہ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT