Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / بی جے پی اور اسکے دوست نوٹوں کی منسوخی سے واقف تھے

بی جے پی اور اسکے دوست نوٹوں کی منسوخی سے واقف تھے

حکومت کے فیصلہ کا قبل از وقت منتخب انداز میں افشاء ،2000 کے نئے نوٹ ’چورن‘ کے کاغذ کے مترادف : کانگریس
نئی دہلی ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میںوزیراعظم نریندر مودی کو اپنی سخت ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آج الزام عائد کیا کہ ’بی جے پی اور اس کے دوستوں کو‘ 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کے بارے میں قبل از وقت منتخب انداز میں معلومات کا افشاء کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ اپریل سے نومبر تک زائد از ایک کروڑ روپئے مالیتی بیرونی کرنسی کا تبادلہ اور سونا خریدنے والوں کے ناموں کو منظرعام پر لایا جائے۔ بڑی نوٹوں کی منسوخی کیلئے 8 نومبر کو کئے گئے حکومت کے فیصلہ پر بحث کیلئے مقررہ شیڈول کی معطلی کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے طنز و مزاح اپناتے ہوئے عام آدمی کو درپیش مسائل پر وزیراعظم مودی کی بے حسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آنند شرما نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اس بات کا اعلان کریں کہ لوک سبھا انتخابات کیلئے ان کے پاس 23,000 تا 24,000 کروڑ روپئے کہاں سے آئے۔ اس رقم کا تخمینہ رقومات کی منتقلی اور تبادلوں پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم نے کیا ہے۔

آنند شرما نے برجستہ سوال کیا کہ آیا اترپردیش غازی پور میں چند دن قبل منعقدہ وزیراعظم کی ریالی کے انتظامات کیلئے چیک جاری کیا گیا تھا یا پھر کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ نقد رقومات ادا کی گئی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بڑی کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے قبل منتخب پیمانے پر اس اطلاع کے افشاء کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی بی جے پی یونٹوں نے (8 نومبر کے فیصلہ سے عین قبل تک بھی) کروڑوں روپئے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہیں‘‘۔ ایک مرحلہ پر جب بحث جاری کی گئی تھی کہ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے اپوزیشن جماعتوں کے جذبات و احساسات کی سماعت کیلئے ایوان میں وزیراعظم کی موجودگی کا مطالبہ کیا تاکہ اس مسئلہ پر ارکان کی تشویش کا ازالہ کیا جاسکے۔ مایاوتی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ لوک سبھا کا اجلاس کیونکہ آج دن بھر کیلئے ملتوی کیا جاچکا ہے چنانچہ مودی کو اس ایوان میں موجود رہتے ہوئے کم سے کم بڑی جماعتوں کے بیانات کی سماعت کرنا چاہئے تھا۔ آنند شرما نے میڈیا اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے مالیاتی ادارہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو مارچ میں ہی فیصلہ کی اطلاع مل چکی تھی۔

حتیٰ کہ ایک گجراتی اخبار نے اپریل میں ایک خبر شائع کی تھی جس میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی تھی۔ آنند شرما نے مطالبہ کیا کہ اپریل سے تاحال ایک کروڑ یا اس سے زائد رقومات کا بیرونی کرنسیوں کے ذریعہ تبادلہ کرنے اور سونا خریدنے والوں کے ناموںکا افشاء کیا جائے اور اس ضمن میں مکمل تحقیقات کی جائیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور حکومت اس کو راز میں نہیں رکھ سکتی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ایک بے وقت اور بلاسوچے سمجھے اٹھایا گیا قدم ملک بھر میں معاشی افراتفری پھیلا چکا ہے جس سے چند مٹھی بھر لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن کروڑوں عوام پریشان ہیں۔ آنند شرما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بڑی کرنسیوں سے پیدا شدہ کالے دھن سے مقابلہ کرنے کیلئے حکومت نے اور بھی بڑی یعنی 2000 روپئے کی نوٹ جاری کی ہے جو ایک ایسے کاغذ کی طرح نظر آرہی ہے جس پر ’چورن‘ فروخت کیا گیا ہو۔ شرمانے کہا کہ اس فیصلہ کے وقت عوام پریشان تھے اور مودی جاپان کی بلٹ ٹرین میں سیر و تفریح کررہے تھے جس سے معلوم ہوتا ہیکہ ان کی حکومت عوام کی پریشانیوں سے بے خبر اور بے حس ہے۔

TOPPOPULARRECENT