Thursday , May 25 2017
Home / مضامین / بی جے پی حکومت کے اشاروں پر ٹاملناڈو میں سیاسی بحران !

بی جے پی حکومت کے اشاروں پر ٹاملناڈو میں سیاسی بحران !

ظفر آغا

لیجئے، ابھی چینائی ( مدراس ) میں جیہ للیتا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کہ ان کی پارٹی انا ڈی ایم کے ٹوٹنے کی کگار پر پہنچ گئی۔ اجی ٹوٹنا کیسا وہاں تو تلواریں کھنچی ہیں۔ ٹاملناڈو کے موجودہ وزیر اعلیٰ او پنیر سیلوم اور جیہ للیتا کی مشیر خاص ششی کلا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ یہ دونوں وہی ہیں جو جیہ للیتا کی زندگی میں ان پر جان چھڑکتے تھے اور دونوں ہی جیہ للیتا کے خصوصی سمجھے جاتے تھے۔ پنیر سیلوم تو ہر اس موقع پر جیہ للیتا کے کام آئے جب ان کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے جیل جانا پڑا۔ بحیثیت ایک وفادار سپاہی جیہ للیتا کی غیر موجودگی میں پنیر سیلوم نے بے حد وفاداری سے جیہ للیتا کا کام سنبھالا اور ان کے جیل سے باہر آتے ہی انہیں وزارت اعلیٰ کا عہدہ واپس سونپ دیا۔ چنانچہ جب جیہ للیتا کا انتقال ہوا تو پنیر سیلوم کو ہی پارٹی نے وزیر اعلیٰ نامزد کیا۔
اللہ رے اقتدار کی اونچ نیچ، وہ جیہ للیتا جن کی وفاداری کا صلہ پنیر سیلوم کو ٹاملناڈو کی وزارت اعلیٰ کے طور پر ملا تھا یہ بات اندر اندر جیہ للیتا کی دوسری وفادار شخصیت کو کھائے جارہی تھی اور اس شخصیت کا نام ہے ششی کلا۔ دنیا واقف ہے کہ جیہ للیتا بغیر ششی کلا کے زندہ نہیں رہ سکتی تھیںکیونکہ ششی کلا ہی جیہ للیتا کی زندگی تھیں۔ جیہ للیتا نے شادی نہیں کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ٹاملناڈو کی مشہور فلمی شخصیت اور انا ڈی ایم کے پارٹی کے بانی جی رامچندرن سے جیہ للیتا کا عشق تھا۔ لیکن وہ پہلے سے ہی شادی شدہ تھے اس لئے رامچندرن اور جیہ للیتا کی شادی نہ ہوسکی۔ دونوں کے درمیان اس قدر گہرا رشتہ تھا کہ رامچندرن کی موت کے بعد ان کی پارٹی نے رامچندرن کا سیاسی وارث جیہ للیتا کو تسلیم کرلیا جنہوں نے بخوبی انا ڈی ایم کے کا سیاسی پرچم ٹاملناڈو میں بلند رکھا لیکن شادی نہ ہونے کے سبب جیہ للیتا کی ذاتی زندگی میں ایک خلاء تھا اور اس خلاء کو بقول مبصرین ششی کلا نے پورا کیا۔ ششی کلا برسوں سے جیہ للیتا کے ساتھ انہی کے مکان میں رہتی تھیں، وہ ان کے گھر کی کرتا دھرتا تھیں بلکہ یوں کہیئے کہ جیہ للیتا کے سیاہ وسفید کی مالک بھی ششی کلا ہی تھیں۔ حد یہ ہے کہ دو مرتبہ جیہ للیتا کو کرپشن چارج میں سزا ہوئی اور وہ جیل گئیں تو ان کے ساتھ ششی کلا کو بھی سزا ہوئی اور جیہ للیتا کے ساتھ ششی کلا نے بھی جیل کاٹی۔ جیسا کہ سبھی واقف ہیں کہ جیہ للیتا ٹاملناڈو کی قدآور سیاسی شخصیت تھیں اور ان کی گہری قربت سے ششی کلا بھی آہستہ آہستہ انا ڈی ایم کے پارٹی کی ایک شخصیت بنتی چلی گئیں اور جب جیہ للیتا کا انتقال ہوا اور پنیر سیلوم کو وفاداری کا صلہ وزارت عظمیٰ کے طور پر ملا تو جیہ للیتا کے ساتھ جیل جانے والی ان کی وفادار رفیق کے سینہ پر گویا سانپ لوٹ گیا۔ بس پھر کیا تھا، اقتدار کا جو اصول ہے وہی جیہ للیتا کے مکان پوش گارڈن ( جہاں ششی کلا آج تک مقیم ہیں ) میں سیاسی سازش کے تانے بانے شروع ہوگئے، جیسا کہ ان حالات میں ہوتا ہے وہی وہاں بھی ہوا ہوگا۔ ششی کلا کے معتمدوں نے اب ان کے کان بھرے کہ آپ نے جیہ کی ہمیشہ جوتیاں سیدھی کیں اور ان کے ساتھ جیل تک گئیں لیکن لڈو پنیر سیلوم کھارہے ہیں۔ آخر کار ششی کلا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور بس پھر وہ کھل کر سیاست میں کود پڑیں۔ پہلے دن پارٹی کی جنرل سکریٹری منتخب ہوئیں اور پھر ان کی پارٹی نے انہیں وزارت اعلیٰ کے عہدہ کیلئے چن لیا۔
اقتدار پر فائز پنیر سیلوم بھلا خاموشی سے کیسے اقتدار ترک کردیتے، انہوں نے علم بغاوت بلند کردیا اور راتوں رات جیہ للیتا کی سمادھی پر جاکر قسم کھائی کہ وہ تو اب کرسی چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ لیکن خود انا ڈی ایم کے پارٹی پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہے اس لئے ان کو کسی کی مدد چاہیئے تھی۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات گرم ہے کہ اقتدار میں برقرار رہنے کیلئے انہوں نے مرکزی حکومت کی مدد لی ہے۔ بی جے پی کو مرکز میں انا ڈی ایم کے کی مدد چاہیئے ، ایک تو راجیہ سبھا میں بی جے پی کے کم ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں انا ڈی ایم کے کی حمایت کی سخت ضرورت ہے اور پھر جون میں ملک کی صدارت کے عہدہ کا چناؤ ہے جس میں انا ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کا رول بہت اہم ہوسکتا ہے۔ ان اسباب سے مرکزی حکومت کو ٹاملناڈو میں ایک حامی حکومت درکار ہے ، بھلا کمزور پنیر سیلوم سے بہتر اس کام کو اور کون انجام دے سکتا ہے اس لئے پنیر سیلوم کے پاس اکثریت نہ ہوتے ہوئے بھی وہ ابھی برطرف نہیں کئے جارہے ہیں۔
لب لباب ہے کہ ٹاملناڈو کی سیاست اور بالخصوص انا ڈی ایم کے کی سیاست پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایک طرف پنیر سیلوم اور ششی کلا دست باگریباں ہیں تو دوسری طرف مرکزی حکومت اپنی گھاٹ میں ہے۔ ان حالات میں ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ایک بازار ہے جو چینائی میں گرم ہے۔ اس رسہ کشی کے بیچ ایک نازک مسئلہ یہ ہے کہ ٹاملناڈو میں ہمیشہ سے دہلی یعنی ہندوستان کے غلبہ کے خلاف بھی ایک جذبہ رہا ہے۔ اس لئے خطرہ یہ ہے کہ اگر ٹامل سیاست میں دہلی کی بالا دستی بڑھی تو ٹاملناڈو میں ہندوستان کے خلاف ٹامل جذبات پھر بھڑک سکتے ہیں۔ اس لئے پنیر سیلوم اور ششی کلا کی سیاسی رسہ کشی میں دہلی کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے، مگر اس ٹامل سیاسی فلم میں آگے کیا ہوتا ہے اس کا انتظار ابھی اگلے ایپی سوڈ تک کرنا ہوگا۔ چلیئے تب تک ہم ایک چھوٹا سا بریک لیں، اور آپ سے پھر اگلے ہفتہ اسی کالم میں ملاقات ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT