Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / بی جے پی دیاشنکرسنگھ کی گرفتاری میں حائل ‘ مایاوتی کا الزام

بی جے پی دیاشنکرسنگھ کی گرفتاری میں حائل ‘ مایاوتی کا الزام

بی ایس پی ارکان کی بدگوئی اچھی علامت نہیں : مرکزی وزیر ‘  سیاست میں تشدد اور بدگوئی کا کوئی مقام نہیں : موریا
لکھنو۔ 24جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی پر اپنی تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے  بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے آج الزام عائد کیا کہ وہ سماج وادی پارٹی حکومت یو پی پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے اور دیاشنکر سنگھ کی گرفتاری میں تاخیر کی جائے ‘ حالانکہ انہوں نے مایاوتی کے خلاف اہانت انگیز تبصرہ کیا تھا ۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ اُن کی پارٹی کے قائدین کے تبصرے بی جے پی قائد دیاشنکر سنگھ کے تبصرے کے خلاف احتجاج تھے جسے بھگوا پارٹی نے غلط سمجھ لیا اور اسے فضاء آلودہ کرنے اور اسے ذات پات پر مرکوز کرنے کا نام دے دیا ۔ مایاوتی نے عہد کیا کہ بی ایس پی کے کارکن یو پی میں برسراقتدار آجائیں تو اکھلیش یادو جو انہیں ’’ بوا ‘‘ کہتے ہیں اس بات کا تیقن اُن سے نہیں حاصل کریں گے کہ انہیں گرفتار نہ کیا جائے اور اُن کے خلاف سخت کارروائی نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دیاشنکر سنگھ کے اپنی ماں ‘ بیوی اور دختر کو پیش کرنے کے مطالبہ پر مبنی نعرہ بازی کو بی جے پی آلودہ ذہنیت اور ذرائع ابلاغ میں تشہیر کا حربہ نہیں سمجھتی ‘ جب کہ بی ایس پی کے کارکنوں نے بطور احتجاج دیا شنکر سنگھ کے خاتون ارکان خاندان کے خلاف تبصرے کئے تھے ۔ دریں اثناء مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے منوج سنہا نے آج کہا کہ بی ایس پی اور بی جے پی قائدین کی ایک دوسرے کے خلاف بدگوئی کوئی اچھی علامت نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کا آغاز مایاوتی زیرقیادت پارٹی نے کیا تھا ‘ تاہم یہ صحتمند سیاست کی علامت نہیں ہے ۔

سنہا نے کہا کہ بی جے پی صحتمند سیاست میں یقین رکھتی ہے ۔ یہ اپنے حامیوں کے پُرغرور الفاظ کے استعمال کو بھی برداشت نہیں کرتی ۔ باغی بی ایس پی قائد سوامی پرساد موریا نے آج کہا کہ سیاست میں بدگوئی اور تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اس حقیقت کا لحاظ کئے بغیر کونسا شخص پُرغرور زبان استعمال کررہاہے اور کس کے خلاف ایسا کررہا ہے اس ذہنیت سے متعلقہ شخص کی اہانت ہوتی ہے ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ جس طریقہ سے بی جے پی کے خارج شدہ قائد دیا شنکر سنگھ کی مذمت کی جارہی ہے کیونکہ اُن کا تبصرہ غیر جمہوری تھا ‘ یہی اصول بی ایس پی کارکنوں کے اُن کے خاتون ارکان خاندان پر کئے ہوئے تبصروں پر نافذ ہوتا ہے ۔ موریا نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے اور بدگوئی یا تشدد میں ملوث نہیں ہونا چاہیئے ۔ دریں اثناء دیا شنکر سنگھ کی بیوی سواتی سنگھ نے آج گورنر یو پی رام نائک سے ملاقات کی اور شکایت کی کہ اُن کے خلاف مبینہ طور پر بی جے پی کارکنوں نے بدگوئی کی ہے ۔ اُن کے ارکان خاندان کے خلاف فحش زبان استعمال کی ہے ۔ سواتی نے کہا کہ وہ بی ایس پی کارکنوں کی جن کی قیادت نسیم الدین صدیقی کررہے تھے مایاوتی کی ایما پر بدگوئی کرنے کی پولیس میں شکایت درج کروا چکی ہے ۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی پولیس میں داخل کیاہے جس میں بی ایس پی کارکنوں نے جمعرات کے دن ایک جلسہ کے دوران بدگوئی کی تھی ۔ انہوں نے گورنر سے اس معاملہ کا جائزہ لینے اور سخت کارروائی کرنے کی خواہش کی ۔

TOPPOPULARRECENT