Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی مخالف جماعتوں کے عظیم اتحاد کیلئے نتیش کمار کی تجویز کی تائید

بی جے پی مخالف جماعتوں کے عظیم اتحاد کیلئے نتیش کمار کی تجویز کی تائید

متبادل معاشی پالیسیوں کی شرط ۔ قدم بہ قدم آگے بڑھنے پر زور ۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی کا رد عمل

حیدرآباد ۔ یکم مئی ( پی ٹی آئی ) سی پی آئی نے چیف منسٹر بہار نتیش کمار کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے کہ قومی سطح پر تمام مخالف بی جے پی جماعتوں کا ایک عظیم اتحاد قائم کیا جانا چاہئے ۔ تاہم پارٹی نے کہا کہ ایسا کوئی اتحاد متبادل اور موافق غریب معاشی پالیسیوں پر مشتمل ہونا چاہئے ۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نتیش کمار کی تجویز دیکھی ہے ۔ ہمارا رد عمل اس پر مثبت ہے ۔ نتیش کمار کی جانب سے ایسی تجویز ایک اچھی علامت ہے ۔ اس کیلئے کچھ معمولی شرائط ہونگی ۔ ایک شرط یہ ہے کہ معاشی پالیسیاں واضح ہونی چاہئیں۔ یہ پالیسیاں عظیم اتحاد کیلئے منفی نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ اتحاد بی جے پی کا متبادل ہونی چاہئے اور اس کی پالیسیاں بی جے پی کی پالیسیوں کی متبادل ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو بھی اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے اور اسے ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے جو موافق غریب ہو اور کارپوریٹس کے خلاف ہو کیونکہ کارپوریٹ شعبہ غریبوں کی قیمت خود فائدہ حاصل کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کانگریس کو اپنی معاشی پالیسیوں پر ایسے انداز میں نظر ثانی کرنی چاہئے کہ وہ مخالف کارپوریٹ اور موافق غریب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیںکہ تمام کارپوریٹس کو قومیایا جائے بلکہ سرمایہ دارانہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ کچھ لوگوں کو اضافی فائدے حاصل کرنے کا موقع نہ ملنے پائے جیسا موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کرپشن کے خلاف ایک عہد ہونا چاہئے ۔ اس طرح کی مثبت تبدیلیوں کو اگر پیش کیا جاتا ہے تو اس پر عوامی تائید حاصل ہوگی ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ تمام مخالف بی جے پی جماعتیں اس اتحاد کا حصہ نہیں ہوسکیں گی انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد انتخابات سے قبل کچھ حد تک تیار ہوسکتا ہے اور انتخابات کے بعد اسے قطعی و حتمی شکل حاصل ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں تمام جماعتوں کا اس اتحاد میں شامل ہونا مشکل ہے ۔ ایسے گروپس ہیں جو ریاستوں میں ایک دوسرے کے خلاف انتخابات لڑتے ہیں۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ مخالف بی جے پی اتحاد انتخابات سے قبل کے ماحول میں کچھ حد تک تیار ہوگا اور مابعد انتخابات کی صورتحال میں اسے قطعی شکل مل سکتی ہے ۔ انہوں نے اقل ترین مشترکہ پروگرام کی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر اتحاد میں شامل ہونے والی جماعتیں متحد ہوسکتی ہیں تو پھر اس سے دوسری جماعتوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی ترغیب مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقل ترین مشترکہ پروگرام جیسی اسکیم ہونی چاہئے ۔ نتیش کمار کو چاہئے کہ وہ اس طرح کی متبادل معاشی پالیسیاں تیار کرنے کیلئے بھی کام کریں۔ اس کے بعد یہ مزید پرکشش ہوسکتا ہے اور اس کو عوام کی زیادہ تائید حاصل ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 کے انتخابات سے قبل مخالف بی جے پی جماعتوں کا وسیع تر اتحاد قدم بہ قدم ہونا چاہئے ۔ اس کیلئے سازگار ماحول ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں میں بھی اس کا تجربہ ہونا چاہئے ۔ جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں ایسا نہیں ہوسکتا لیکن اب اتر پردیش اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ جو لوگ بی جے پی کے مخالف ہیں انہیں ساتھ آنا چاہئے ۔ ایسا ماحول پیدا کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتوں کیلئے اس اتحاد کا حصہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اگر متبادل پالیسیاں پیش کی جاتی ہیں تو کمیونسٹ جماعتیں اس کی تائید کرسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT