Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / بی جے پی مخالف محاذ کی ممتاکی تجویز کا اپوزیشن کی جانب سے خیرمقدم

بی جے پی مخالف محاذ کی ممتاکی تجویز کا اپوزیشن کی جانب سے خیرمقدم

کانگریس ‘ جنتادل ( یو) اور عام آدمی پارٹی کی جانب سے تائید ‘ بی جے پی کی ممتابنرجی پر سخت تنقید
کولکتہ ۔ 6نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے اشارہ دیا تھا کہ وہ قومی سیاست میں بڑا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ کئی سیاسی پارٹیوں نے ان کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ درست اتحاد کی بی جے پی کی ’’ فرقہ پرست سیاست‘‘ کے خلاف ضرورت ہے ۔ کانگریس ‘ جنتا دل ( یو) ‘ سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے ممتا بنرجی کے تبصرہ کا خیرمقدم کیا ہے جو مسلسل کئی واقعات سے گذشتہ ہفتہ قومی سیاست کے دہل جانے کے پس منظر میں منظر عام پر آیا ہے ۔ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ہم اب تک تنہا جنگ لڑرہے ہیں ‘ اگر کوئی اتحاد کیلئے آگے آتا ہے تو یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے ‘ جو کچھ بھی ہوگا وہ ہمارے ملک اور وفاقیت کے جذبہ کے تحت ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے آپ کو قوم دشمن قرار دیا جارہا ہے ‘ کسی کو بھی ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے ‘ کوئی بھی ہندوستانی قوم دشمن نہیں ہے ۔ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر زبردست تنقید کرتے ہوئے ملک کی صورتحال کو ایمرجنسی کے مماثل قرار دیا اور کہا کہ 8 سیمی کارکنوں کا بھوپال میں قتل اور انکاؤنٹر کا بہانہ ‘ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی ‘ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی گرفتاری اور این ڈی ٹی وی پر امتناع عائد کرنے کے اقدامات اسی کا اشارہ دیتے ہیں ۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت راہول گاندھی کی گرفتاری کی ذمہ دار ہیں ۔ ممتا بنرجی نے واضح طور پر ٹھوس اقدام کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کانگریس کو سرگرم ہوجانا چاہیئے ۔ ربط پیدا کرنے پر کُل ہند کانگریس کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ شخصی طور پر ان کا احساس ہے کہ ہم سب کو بی جے پی کے خلاف متحد ہوجانا چاہیئے ۔ انہیں ترنمول کانگریس کی تجویز پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن قطعی فیصلہ اس سلسلہ میں پارٹی کے پالیسی ساز افراد ہی کرسکتے ہیں ۔ پارٹی ہائی کمان اس سلسلہ میں ایک موقف اختیار کرے گا ۔ جنتا دل ( یو) کے معتمد عمومی اعلیٰ و قومی ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ ہم ممتا بنرجی کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ ماضی میں بھی انہوں نے ہماری تائید کی تھی ۔ اگر کوئی سیکولر محاذ قائم ہوتا ہے جو ممتادیدی کی جانب سے کیا جائے تو جنتادل یو خوشی سے اس میں شریک ہوگا ۔ تمام سیکولر اور ہم خیال طاقتوں کو بشمول کانگریس متحد ہوکر بی جے پی اور اُس کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف جنگ کرنی چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی فرقہ پرستی سیکولر ہندوستان کے نظریہ کے لئے ایک خطرہ ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری امرسنگھ نے بھی تیاگی کے خیالات کا اعادہ کیا۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی قائد اروند کجریوال اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا دی کے خوشگوار تعلقات ہیں لیکن پالیسی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرسکتی ہے ۔ تاہم بی جے پی نے اس تجویز کا مذاق اڑا تے ہوئے کہا کہ ممتابنرجی کو اپنی ریاست کی دیکھ بھال کرنی چاہیئے اس کے بعد قومی سیاست کا خواب دیکھنا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT