Saturday , March 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی مذہب کی سیاست پر عمل پیرا ، نوجوانوں کو مشتعل نہ ہونے کا مشورہ

بی جے پی مذہب کی سیاست پر عمل پیرا ، نوجوانوں کو مشتعل نہ ہونے کا مشورہ

ابوالکلام آزاد کی خدمات کو خراج ، گاندھی بھون میں جلسہ ، کانگریس قائدین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ انگریزوں کے ہوش اڑانے والے مولانا ابوالکلام آزاد کو مرکزی بی جے پی حکومت نظر انداز کررہی ہے اور انگریزوں کی چاپلوسی کرنے والے ویرساورکر کو ہیرو بناکر پیش کررہی ہے ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام گاندھی بھون کے پرکاشم ہال میں منعقد کردہ مولانا ابوالکلام آزاد کی 128 ویں یوم پیدائش تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا سابق رکن پارلیمنٹ ایم انجن کمار یادو جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین ، سید عظمت اللہ حسینی ، عظمیٰ شاکر ترجمان سید نظام الدین ، صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، سابق کارپوریٹر محمد واجد حسین ، سابق سکریٹری جاوید احمد ، خواجہ غیاث الدین ، اعجاز خان کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے تقریب کی صدارت کی اور نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ اس موقع پر پرنسپل نظامیہ طبی کالج ڈاکٹر شہزادی سلطانہ سپرنٹنڈنٹ نظامیہ طبی ہاسپٹل ڈاکٹر پروین سلطانہ اسوسی ایٹ پروفیسر و صدر تلنگانہ یونانی میڈیکل ڈاکٹر آفیسرس اسوسی ایشن ڈاکٹر محمد سلیم مجاہد آزادی بالکرشنا مدیراج کے علاوہ مختلف کالجس کے لکچرارس اور اساتذہ کو بھی اس موقع پر تہنیت پیش کی گئی اور مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات پیش کئے گئے ۔ محمد علی شبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی ذات میں ایک انجمن تھے وہ مجاہد آزادی ، صحافی ، مفسر قرآن اور بہترین مقرر تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی ملک کے لیے قربان کردی وہ تقسیم ہند کے خلاف تھے ۔ جدوجہد آزادی میں جیل بھی گئے ۔ اپنی شریک حیات کی بیماری کے باوجود انگریزوں سے معافی نہیں مانگی اور نہ ہی پیرول کی درخواست دی ۔ وہ جیل میں قید تھے تب ہی ان کی شریک حیات چل بسی بعد ازاں جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو ان کے حامیوں نے ان سے ان کی شریک حیات کے نام پر اپنی جانب سے جمع کردہ دولت سے ٹرسٹ قائم کرنے کی اجازت چاہی ۔ مولانا نے انکار کرتے ہوئے جمع کردہ دولت کو گاندھی جی کی شریک حیات کستور با گاندھی  کے ٹرسٹ میں جمع کرادیا ۔ انہیں تین مرتبہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا وہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم بنے اور صحت مندانہ تعلیم کی بنیاد رکھی جس میں اخلاق تہذیب و تمدن اور کردار کو کافی اہمیت دی گئی تھی ۔ آزادی کی تحریک میں حصہ نہ لینے والی آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کررہی ہے ۔ مولانا آزاد کی خدمات و قربانیوں کو فراموش کررہی ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ سروے ستیہ نارائنا نے مولانا آزاد کی زندگی کو مثالی قراردیا اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ انجن کمار یادو نے مولانا آزاد کو سیکولرازم کے علمبردار قرار دیتے ہوئے ان کی جدوجہد آزادی اور کانگریس کے لیے خدمات بحیثیت وزیر تعلیم کارکردگی نوجوان نسل کے لیے عملی نمونہ قرار دیا ۔ بی جے پی پر مذہب کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور بھڑکاؤ بھاشن سے متاثر نہ ہونے کا نوجوانوں کو مشورہ دیا ۔ ایس کے افضل الدین نے مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نے ہندوستان کے بٹوارے کی مخالفت کی تھی اور ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے پسماندہ طبقات کو برابر انصاف دلانے کے لیے دستور سازی میں انہوں نے جو رول ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ سابق چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی اور محمد علی شبیر کی وجہ سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات حاصل ہوئے ہیں جس سے 10 لاکھ مسلمانوں کو فائدہ پہونچا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی کا مکتوب پڑھ کر سنایا اور کہا کہ کانگریس ہمیشہ آزاد کی بڑے پیمانے پر یوم پیدائش تقریب کا اہتمام کرتی ہے ۔ جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ مولانا آزاد ایک سونچ اور فکر کا نام ہے جنہوں نے ماڈرن ایجوکیشن کی بنیاد رکھی کسی بھی قوم کی ترقی  کا انحصار اس کی تعلیم پر منحصر ہے ۔ آزاد نے دستور میں مسلمانوں کو برابر کا حق دلانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT