Saturday , August 19 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی نے پیسہ کے زور پر عوامی رائے کا سر قہ کرلیا ‘ راہول

بی جے پی نے پیسہ کے زور پر عوامی رائے کا سر قہ کرلیا ‘ راہول

منی پور اور گوا میں حکومت سازی پر کانگریس نائب صدر کی تنقید ۔ گورنر گوا پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام

نئی دہلی 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) گوا اور منی پور میں حکومتیں قائم کرنے بی جے پی کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے آج پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کی رائے کا پیسے کے زور پر سرقہ کر رہی ہے اور ان ریاستوں میں جمہوریت کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس نائب صدر نے الزام عائد کیا کہ کہ گوا کے گورنر نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گورنر کے دفتر کا بیجا استعمال کرنا ٹھیک ہے ۔ ان دونوں ریاستوں ( منی پور اور گوا ) میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہاں بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ گوا اور منی پور میں عوام کی رائے کا پیسے اور دولت کے بل پر سرقہ کیا جا رہا ہے ۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے نتائج پر پہلی مرتبہ اظہار خیال کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ ہماری لڑائی نظریاتی ہے ۔ بی جے پی نے منی پور اور گوا میں جو کچھ بھی کیا ہے وہ ان کا نظریہ ہے اور اسی کے خلاف ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال ہے کہ بی جے پی نے منی پور اور گوا میں عوام کی رائے کا سرقہ کرنے کتنا کچھ خرچ کیا ہے ۔ یہی اصل سوال ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کتنی جلدی میں انہوں نے کام کیا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بی جے پی نے گوا اور منی پور میں عوامی رائے کا سرقہ کرنے کتنی رقم خرچ کی ہے ۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کانگریس نے تشکیل حکومت کیلئے ادعا پیش کرنے میں تاخیر کیوں کی تھی ۔

یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ گورنر گوا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا ہے راہول نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے تشکیل حکومت کا ادعا پیش کرنے سے قبل ہی منوہر پریکر کی تائید میں مکتوب جاری کردیا گیا ہے ۔ راہول نے کہا کہ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے انہیں ایک مکتوب دکھایا ہے جس میں گورنر کی جانب سے منوہر پریکر کو چیف منسٹر گوا مقرر کردیا گیا ہے جبکہ ایوان میں کوئی عددی طاقت ثابت نہیں کی گئی اور نہ کوئی کارروائی ہوی ہے ۔ ایسے میں ہمارے لئے اپنی حکومت کیلئے دعوی پیش کرنا مشکل تھا جبکہ گورنر خود جانبدارانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی در اصل سماج میں نفرت کو ہوا دیتے ہوئے حاصل کی گئی ہے ۔ اس دوران وزیر فینانس ارون جیٹلی نے گوا اور منی پور میں عوامی رائے کا سرقہ کرنے کانگریس کا الزام مسترد کردیا ہے اور کہا کہ کانگریس حد سے کچھ آگے جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی بہت زیادہ شکایت کر رہی ہے ۔ اس نے بی جے پی پر گوا میں عوامی رائے کے سرقہ کا الزام عائد کیا ہے ۔ اس نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جو مسترد کردی گئی ہے ۔ اس نے یہ مسئلہ لوک سبھا میں بھی اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ ارون جیٹلی نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں یہ بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منوہر پریکر کی قیادت میں 21 ارکان اسمبلی کی تائید کو دیکھتے ہوئے گورنر کی جانب سے 17 ارکان اسمبلی والی اقلیتی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت نہیں دی جاسکتی تھی ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے گوا میں صرف 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس نے کچھ دوسری جماعتوں کی تائید حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا ۔ گورنر نے اسے قبول کرلیا اور منوہر پریکر کو چیف منسٹر گوا کی حیثیت سے حلف بھی دلادیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT