Sunday , April 30 2017
Home / Top Stories / بی جے پی نے گوا اور منی پور میں انتخابی نتائج کا ’سرقہ ‘کرلیا

بی جے پی نے گوا اور منی پور میں انتخابی نتائج کا ’سرقہ ‘کرلیا

رقمی طاقت نے عوام کی طاقت کو ماندکردیا، بی جے پی کی اقتدار پر قبضہ کی سرگرمیوں پر چدمبرم اور ڈگ وجئے کا تبصرہ
نئی دہلی 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے آج بی جے پی کو گوا اور منی پور میں انتخابات ’’ہتھیا لینے‘‘ کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ جو پارٹی جو دوسرے نمبر پر آئے اُسے تشکیل حکومت کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ ایک اور کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ یہ عوام کی طاقت پر رقم کی طاقت کی جیت ہے۔ چدمبرم نے ٹوئٹ کیاکہ جو پارٹی انتخابی نتائج پر دوسرے نمبر کا مقابلہ حاصل کرے اُسے تشکیل حکومت کا حق نہیں ہوتا ہے۔ بی جے پی گوا اور منی پور میں عملاً انتخابات کا سرقہ کررہی ہے۔ سابق وزیر فینانس اور وزیرداخلہ کا ریمارک اِس پس منظر میں ہے کہ بی جے پی نے گوا اور منی پور میں تشکیل حکومت کا دعویٰ کیا جہاں وہ واحد سب سے بڑی جماعت بننے میں ناکام رہی۔ لیکن نتائج کے بعد چھوٹی پارٹیوں اور بعض آزاد ایم ایل ایز کی تائید کے ساتھ اقتدار پر قابض ہونے کے جتن کررہی ہے۔ اِن دونوں ریاستوں میں کانگریس اسمبلی انتخابات کے نتائج میں جو 11 مارچ کو اعلان کئے گئے، واحد سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ گوا میں گورنر پہلے ہی بی جے پی لیڈر اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کو تشکیل حکومت کے لئے مدعو کرچکے ہیں اور پاریکر نے مرکزی وزارت سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ منی پور میں بی جے پی نے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ اُسے 3 چھوٹے این ڈی اے شرکاء کی تائید و حمایت حاصل ہے جس کے علاوہ ایک کانگریس ایم ایل اے اور واحد ترنمول کانگریس لیجسلیچر بھی تائید کررہے ہیں جس کے ساتھ 60 رکنی اسمبلی میں اُن کی حمایت میں عددی طاقت 32 ہورہی ہے۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ڈگ وجئے نے کہاکہ اِن سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ رقم کی طاقت نے عوام کی طاقت کو ماند کردیا ہے۔ اُنھوں نے ٹوئٹ کیاکہ میں گوا کے عوام سے معذرت چاہتا ہوں کہ ہم حکومت کی تشکیل کے لئے تائید نہیں جٹا پائے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس گوا میں پیسے کی طاقت کے بل بوتے پر سیاست چلانے والی فرقہ پرست قوتوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی۔ کانگریس نے منی پور میں 28 نشستیں اور گوا میں 17 جیتے ہیں جس کے برخلاف بی جے پی کے ترتیب وار 21 اور 13 سیٹیں ہیں۔
گوا کے کانگریس لیجسلیٹرس قیادت سے ناراض
اِس دوران گوا کے کانگریس لیجسلیٹرس کے گروپ نے افسردگی کا اظہار کیا اور ساحلی ریاست میں اسمبلی چناؤ کے نتیجہ میں واحد سب سے بڑی پارٹی بننے کے باوجود تشکیل حکومت میں ناکامی کے لئے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مورد الزام ٹھہرایا۔ پاناجی میں نومنتخب لیجسلیٹر وشواجیت رانے نے آج پی ٹی آئی کو بتایا کہ مجھے کافی مایوسی ہوئی جس طرح ہمارے پارٹی قائدین نے گوا اسمبلی چناؤ کے نتائج کے بعد کی صورتحال سے نمٹا ہے۔ ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے لیکن پارٹی قیادت فیصلہ کن سرگرمی میں ناکام ہیں۔ یہ پارٹی قائدین کی طرف سے سنگین بدانتظامی ہے اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے انتخاب میں تاخیر نے ہمیں نقصان پہنچایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT