Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / بی جے پی پر اُتر پردیش اسمبلی میں پارلیمنٹ کی تقلید کا الزام

بی جے پی پر اُتر پردیش اسمبلی میں پارلیمنٹ کی تقلید کا الزام

ایوان میں مسلسل احتجاج اور ہنگامہ آرائی پر ریاستی وزیر محمد اعظم خاں کا ریمارک

لکھنؤ۔/21اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں مختلف مسائل پر اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے آج تیسری مرتبہ وقفہ صفر درہم برہم ہوگیا۔ آج صبح 11بجے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی ارکان نے سرکاری اسکولوں کو تمام سرکاری ملازمین، عوامی نمائندوں اور ارکان عدلیہ کے بچوں کو بھیجنے سے متعلق ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کا مسئلہ اُٹھا جبکہ کانگریس اور راشٹریہ لوک دل ارکان نے نیشکر کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر کے خلاف ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کیا تاہم وزیر پارلیمانی اُمور اور سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم علی نے کہا کہ بی جے پی صرف ایوان کا وقت ضائع کررہی ہے جبکہ عوامی مفاد کے مسائل پر بحث کیلئے اجلاس میں دو یوم کی توسیع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ( بی جے پی ) اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں اور انہیں عوامی مسائل پر بحث سے کوئی سروکار نہیں ہے اور پارلیمنٹ کی طرح اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے وقت ضائع کررہے ہیں۔ ریاستی وزیر محمد اعظم بظاہر پارلیمنٹ کے حالیہ اختتام پذیر اجلاس کا حوالہ دے رہے تھے جہاں پر تنازعہ میں ھنسے ہوئے بی جے پی لیڈر کے استعفی کے مطالبہ پر اپوزیشن کے مسلسل احتجاج سے تعطل پیدا ہوگیا تھا۔ بعد ازاں کانگریس رکن پنکج ملک نے کہا کہ پارٹی کے ارکان اسمبلی نے نیشکر کے کسانوں کو بقایا جات کی ادائیگی کا مسئلہ اٹھایا لیکن حکومت نے اس اہم مسئلہ پر طمانیت بخش جواب نہیں دیا۔قبل ازیں اسمبلی میں وقفہ صفر امن و قانون کی صورتحال پر بحث کے مطالبہ پر اپوزیشن ارکان کے احتجاج کی نذر ہوگیا اور اس کے دوسرے دن بھی ’ چلو اسمبلی ریالی ‘ کے دوران پارٹی کارکنوں پر پولیس لاٹھی چارج کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر ہنگامہ برپا کردیا جس کے باعث وقفہ صفر منعقد نہیں ہوسکا تھا۔

TOPPOPULARRECENT