Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی پر فرقہ پرست اور انتشار پسند ایجنڈہ اختیار کرنے کا الزام : سونیا گاندھی

بی جے پی پر فرقہ پرست اور انتشار پسند ایجنڈہ اختیار کرنے کا الزام : سونیا گاندھی

نئی دہلی ۔ 19 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت اور اس کے آقاؤں پر کانگریس کی وراثت کو تباہ کردینے کا الزام عائد کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج برسراقتدار بی جے پی پر زبردست تنقید کی اور کہا کہ اس نے فرقہ پرست اور انتشار پسند ایجنڈہ اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح طور پر یہ تقسیم جو برسراقتدار پارٹی کی جانب سے کی جارہی ہے، تاکہ ووٹ حاصل کئے جاسکیں اور یہ پالیسیاں جو طاقتور کی تائید میں ہے، کمزوروں کی قیمت پر اختیار کی جارہی ہیں۔ سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ کام کا نظریہ، سیکولرازم پر عمل آوری، رواداری، سب کو ساتھ لینا اور مساوات کے نظریات ترک کردیئے گئے ہیں۔ اس سے بی جے پی کے ایجنڈہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ مخصوص رائے دہندوں کیلئے پرکشش ہوسکتا ہے تاکہ بی جے پی کے حق میں ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ 2014ء کے عام انتخابات میں شدید انتخابی ناکامی کے بعد کانگریس دوبارہ واپس آنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن اس کی کامیابی سخت جدوجہد سے ممکن ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں ہماری پارٹی کو بعض دھکے لگے ہیں لیکن بہار انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہیکہ اگر ہم سخت محنت کریں تو ہم ان رکاوٹوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ کانگریس سیاسی پارٹی سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے ۔ یہ ایک عوامی تحریک ہے۔ انہوں نے اندرا گاندھی کی عظیم ترین طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام سے راست رابطہ میں تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس صرف عوام کے ساتھ جل جل کر کام کرنے سے اپنے مقاصد حاصل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس عوام کے درمیان رہ کر ہی کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ ان کے مسائل اٹھا سکتی ہے۔ ان سے ہمدردی کرسکتی ہے۔ ان کی ضرورت کے وقت مدد کرسکتی ہے۔ اسی طرح عوام سے پارٹی کے روابط مستحکم ہوں گے۔ ہمیں صرف انتخابات کے وقت ہی نہیں بلکہ ہر وقت عوام کیلئے کام کرنا چاہئے اور ان سے رابطہ میں رہنا چاہئے۔ یوتھ کانگریس کو اندرا جی کے 20 نکاتی پروگرام کو عصری تقاضوں کے مطابق بنانا اور اس کے مقاصد کے حصول کیلئے مخلصانہ جدوجہد کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT