Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / بی جے پی کا رامائن میوزیم

بی جے پی کا رامائن میوزیم

ترک تعلقات کچھ آسان نہیں مگر
یہ مرحلہ ترے لئے دشوار تو نہیں
بی جے پی کا رامائن میوزیم
ایودھیا میں رامائن میوزیم بنانے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ رکھنے والی مرکزی حکومت نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل پھر ایک بار مندر مسئلہ کا سہارا لیا ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ووٹ بنک بنانے کی کوشش سپریم کورٹ کی حالیہ اس رولنگ کے مغائر ہے کہ انتخابات کو کسی مذہب کے نام پر لڑا نہیں جاسکتا مگر بی جے پی اور اس کی بغل بچہ زعفرانی تنظیموں نے ایک سیکولر ملک کی جمہوریت اور دستور کو اپنے من پسند ایجنڈہ کی زد میں لا کھڑا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اترپردیش میں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں اور دیومالائی کہانیوں کے کردار کو سیاسی موضوع بناتے ہوئے اب تک سیکولر ملک کی جڑوں کو کمزور کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ اترپردیش ریاست ذات پات اور فرقہ پرستانہ سیاست کیلئے جانی جاتی ہے اور پھر 25 سال بعد ایودھیا کو سیاسی موضوعات کا محور بنایا جارہا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی کو یہ گر مل گیا ہیکہ اسے اپنی سیاسی ساکھ مضبوط بنانا ہے تو ملک کے رائے دہندوں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے۔ رام مندر کی تعمیر میں ناکام بی جے پی کو اسمبلی انتخابات سے قبل اترپردیش کے عوام کے سامنے خود کو رام کا سچا بھگت ثابت کرنے کی مجبوری ہے۔ اس لئے کروڑہا روپئے کے خرچ سے ایک شاندار رامائن میوزیم بنانے کی تیاریوں سے متعلق خبروں کو تیزی سے گشت کروایا جارہا ہے۔ رام کا نام ہر سیاسی پارٹی کیلئے ووٹوں کی ہنڈی ثابت ہوتا ہے تو حکمراں سماج وادی پارٹی نے بھی ایودھیا کا سہارا لینا شروع کیا اور چیف منسٹر اکھیلیش یادو نے حال ہی میں ایودھیا کے مجوزہ رام لیلا سنٹر میں ایک عالمی درجہ کا تھیم پارک بنانے کا اعلان کیا۔ سماج وادی پارٹی نے یوپی کے ہندو مقدس مقامات کو عصری تقاضوں سے آراستہ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ایودھیا، متھرا اور وارانسی میں سیاحت کو فروغ دینے والے کام و پراجکٹ انجام دیئے جائیں گے۔ اترپردیش میں کانگریس کو اپنے آخری 1989ء کی حکومت کے بعد سے کوئی سیاسی مضبوط موقف حاصل نہیں ہوسکا۔ اس لئے وہ بھی موافق ہندوتوا چہروں کو ایک جعلی سیکولر چہرے کے ساتھ آگے کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کو 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں بدترین شکست سے باہر نکلنے کی شدید فکر لاحق ہوگئی ہے۔ مایاوتی اس مرتبہ اپنی سیاسی طاقت کے حصول کیلئے دلتوں، مسلمانوں کے ووٹوں کو قریب کرنے کوشاں ہے۔ اس لئے مرکزی حکومت کی رامائن پالیسی کے خلاف وہ انتخابی مہم چلائیں گے۔ رام کے نام کے بغیر بی جے پی کا وجود صفر رہ جاتا ہے۔ اس لئے اترپردیش کے اہم انتخابات میں کامیاب ہونے کیلئے کسی بھی حد تک کوشش کرسکتی ہے۔ اس وقت رامائن اور مسلم پرسنل لاء کے موضوع کو اہمیت دینے کا مطلب یہی ہیکہ بی جے پی کو یوپی میں دوبارہ اقتدار پر لایا جائے۔ ہندو ووٹوں کو مضبوط کرنے کیلئے بی جے پی کے پاس رام اور مسلمان دو اہم موضوعات ہیں۔ یکساں سیول کوڈ کا ڈھنڈورہ پیٹ کر بی جے پی یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہیکہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کی محافظ ہے۔ بی جے پی اس ووٹ لالچ میںسیاسی پختہ کاری سے محروم ہورہی ہے۔ قومی سطح پر ایک مضبوط پارٹی بن کر ابھرنے کے بعد وہ علاقائی سطح پر پارٹی کو اقتدار دلانے کیلئے قوی موضوعات کو داؤ پر لگا کر ایک بھیانک سیاسی غلطی کی زد میں آجائے گی۔ رامائن میوزیم کے شور سے اسے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ عوام کا احساس قوی ہوچکا ہے کہ ایودھیا کا برسوں سے سیاسی استحصال کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے خاص کر بی جے پی نے ایودھیا کے حق میں کوئی بہتر خدمت انجام نہیں دی۔ ایودھیا کو صرف سیاسی طاقت کا پلیٹ فارم بنانے سے یہ علاقہ ترقیات کے معاملہ میں بہت پیچھے ہے۔ اگرچیکہ ہر سال یہاں ایک کروڑ سے زائد ہندوستانی یاتری دورہ کرتے ہیں۔ ان کیلئے کوئی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ ترقی ٹھپ ہے۔ ہر پارٹی ایودھیا کو رام مندر کی ہی نظر سے دیکھتی ہے لیکن وقت کے ساتھ مندر پر سیاست کرنے کی فضاء بھی بدل چکی ہے۔ بی جے پی کو اپنے لئے پروپگنڈہ کے نئے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ یکساں سیول کوڈ، مسلمان، مسلم خواتین، رام مندر، رامائن جسے ایجنڈہ کے ذریعہ ٹوئیٹر، فیس بک اور واٹس ایپ سے وابستہ نسل کو بے وقوف بنانے میں مدد نہیں ملے گی۔ کمیونکیشن کے ان نئے ذرائع کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی کافی زیادہ ہیں۔ سب سے بڑا نقصان سیاسی ساکھ کا کمزور ہونا ہے۔
ڈبیٹ کارڈ جعلسازی اور بینکس
ہندوستانی بنکوں کو بڑے پیمانہ پر اے ٹی ایم کارڈ کے ہیک کئے جانے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس سے 3.2 ملین ڈبیٹ کارڈ کو متاثر کیا جاچکا ہے۔ حکومت نے اس پر فوری توجہ دیتے ہوئے بنک صارفین سے وعدہ کیا ہیکہ وہ ڈبیٹ کارڈ کیس سے سختی سے نمٹے گی۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی نے بنکرس سے رابطہ کرکے بنک کے لین دین نظام کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈبیٹ کارڈ کے ہیک کردیئے جانے کا یہ واقعہ ہندوستان میں مالیاتی ڈیٹا کی سب سے بڑی جعلسازی ہے۔ کئی متاثرین نے غیرمجاز رقومات کی منتقلی کی شکایت کی ہے۔ چین میں کسی مقام سے ہندوستانی بنکوں کے اے ٹی ایم کارڈس کو ہیک کرلئے جانے کی خبر تشویشناک ہے۔ ایس بی آئی، ایچ ڈی ایف سی بنک، آئی سی آئی سی آئی بنک، یش بنک اور اگزس بنک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ابتداء میں بنکوں کو ان کے کسٹمرس کی جانب سے رقومات کی غیرمجاز منتقلی کی شکایات ملنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں 32 لاکھ کسٹمرس کے کارڈس کو ہیک کردیا گیا۔ سب سے زیادہ ویزا اور ماسٹر کارڈ استعمال کرنے والوں کو نقصان ہوا ہے۔ رام مندر اور رامائن میوزیم کی سیاست میں مصروف نریندر مودی حکومت کیلئے ملک کے اندر سائبر حملوں کا مسئلہ سنگین ہے۔ یہ معاملہ لاکھوں بنک کسٹمرس کے مالیہ سے مربوط ہے۔ اگر حکومت نے ڈیٹا شکنی کے اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو پھر ہندوستانی سرکاری یا مالیاتی معیشت کو دھکہ پہنچانے والے گروہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مودی حکومت کی بنک پالیسی اور لاکھوں بنک اکاونٹس کھولنے کی ترغیب کے بعد دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت میں اندیشے پیدا ہونا یقینی ہے اس سے دیہی عوام کے اندر مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگا؟۔

TOPPOPULARRECENT