Tuesday , October 24 2017
Home / اداریہ / بی جے پی کا مشن اتر پردیش

بی جے پی کا مشن اتر پردیش

آپ نے سب کو جو اچھے دن دیئے
کیا وہی دن آرہے ہیں اس جگہ بھی عنقریب
بی جے پی کا مشن اتر پردیش
پانچ ریاستوں میں طویل انتخابی عمل گذشتہ دنوں اختتام کو پہونچا ۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کو آسام میں اقتدار مل گیا اور اس نے چار ریاستوں میں پارٹی کو ہوئی شکست کو پس منظر میں ڈال کر آسام میں کامیابی کا جشن منانا شروع کردیا ہے ۔ ملک کا میڈیا بھی بی جے پی کے ساتھ ہی کھڑا ہے ۔ اس نے بھی بنگال ‘ کیرالا ‘ ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں پارٹی کو ہوئی شکست کا تذکرہ کرنا ضروری نہیں سمجھا بلکہ آسام میں اسے ملی کامیابی کو اتنا زیادہ اجاگر کیا گیا ۔ یہ بی جے پی کی تشہیری حکمت عملی کا حصہ ہے اور میڈیا اس میں اپنا رول بھی پوری طرح سے ادا کر رہا ہے ۔ اب بی جے پی نے ملک کی سب سے اہمیت کی حامل اور حساس ترین ریاست اتر پردیش پر نظریں ٹکالی ہیں۔ پارٹی چاہتی ہے کہ اسے اتر پردیش میں بھی اقتدار حاصل ہوجائے ۔ پارٹی یہ امید کر رہی ہے کہ جس طرح سے اسے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں عوام نے اپنے ووٹ دئے تھے اسی طرح اسمبلی انتخابات میں بھی اسے ووٹ دئے جائیں گے ۔ یہ پارٹی کی خام خیالی ہی ہوگی ۔ اتر پردیش کی سیاست ‘ حالانکہ قومی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن اس کا قومی سیاست سے تقابل نہیں کیا جاسکتا اور نہ دونوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ بی جے پی نے اتر پردیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کو یو پی والے کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ہے اور وہ رائے دہندوں پر صرف مودی کے ذریعہ اثر انداز ہونا چاہتی ہے ۔ اس کے پاس فی الحال تو یو پی میں پیش کرنے کیلئے کوئی چہرہ دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ایکشن پلان ہے جس کے ذریعہ وہ رائے دہندوں کو رجھانے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ وقفہ وقفہ سے رام مندر کے مسئلہ پر کسی نہ کسی گوشے سے بیان بازیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لیکن یہ سلسلہ بھی رائے دہندوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ اس مسئلہ کو ریاست کے عوام نے کہیں پس پشت ڈال دیا ہے ۔ بی جے پی کیلئے مشکل یہ ہے کہ ریاست میں چیف منسٹری کے دعویدار کے طور پر کسے پیش کیا جائے ۔ یہاں سینئر قائدین میںاختلافات سامنے آسکتے ہیں۔ کسی ایک کو پیش کرکے دوسرے کو ناراض کرنے کا خطرہ پارٹی مول لینے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ یہاں کئی قائدین اس عہدے کے دعویدار ہوسکتے ہیں۔
اتر پردیش کی سیاست میں گذشتہ دس برسوں میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ اسمبلی انتخابات میں ریاست کے عوام اپنی رائے کو تقسیم کرنے کی بجائے کسی ایک جماعت کو اقتدار سونپنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اتر پردیش میں پہلے تو بہوجن سماج پارٹی نے حکمرانی کی اس کے بعد سماجوادی پارٹی کو اس کے بل پر ہی قطعی اکثریت مل گئی تھی ۔ ایسے میں بی جے پی ہو یا کانگریس ہو اپنے قومی وجود کے باوجود اتر پردیش میں بے اثر ہوکر رہ گئے تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں یہاں اچھی کامیابی ملی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ یہی ووٹ اسے اسمبلی انتخابات میں بھی حاصل ہونگے ۔ لوک سبھا کا سیاسی منظر نامہ اور ہوتا ہے اسمبلی انتخابات کا منظر نامہ اور ہوتا ہے ۔ عوام کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ چہرے مختلف ہوتے ہیں اور حکمرانی کا ایجنڈہ یہاں اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ جس طرح عوام نے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اور نریندر مودی کے وعدوں پر اعتبار کیاتھا اس سے انہیں مایوسی ہوئی ہے اور اس مایوسی کا اظہار بھی اتر پردیش میں دیکھنے کو مل سکتاہے ۔ جس طرح قومی سطح پر وعدوں کو فراموش کردیا گیا ہے اسی طرح ریاستی سطح پر بے یقینی کی کیفیت بی جے پی کیلئے مضر ثابت ہوسکتی ہے ۔ پارٹی ابھی تو کسی ایسے چہرے کی تلاش میں ہے جو سب کیلئے قابل قبول ہوسکے اور ساتھ ہی وہ ریاست کے عوام کیلئے بھی قابل قبول ہوسکے ۔ اگر قائدین کو پسند ہو اور عوام اسے ناپسند کریں تو حالات اور بھی نامساعد اور پارٹی کیلئے مضر ہوسکتے ہیں۔
جس طرح سے پارٹی نے در پردہ سرگرمیاں شروع کردی ہیں اسی طرح سے یہ تاثر بھی عام ہوتاجارہا ہے کہ انتخابات سے قبل فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کو بھی ہری جھنڈی دکھادی گئی ہے اور وہ اپنے بل پر حالات کو پراگندہ کرنے اور ماحول میں تناؤ اور منافرت پیدا کرنے کیلئے سرگر م ہوگئے ہیں۔ متنازعہ تبصرے اور بیانات کے ذریعہ حالات کو بگاڑا جا رہا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح لوک سبھا انتخابات سے قبل مظفرنگر فسادات برپا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کیا گیا اسی طرح اب ماحول کو بگاڑ کر اسمبلی انتخابات میں بھی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی تاہم ایسا ہونا آسان نہیں ہے کیونکہ اتر پردیش کے رائے دہندوں نے دو مرتبہ اسمبلی انتخابات میں جس سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اس سے بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT