Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کو مسئلہ رام مندر سے انتخابی فوائد مقصود : شرد یادو

بی جے پی کو مسئلہ رام مندر سے انتخابی فوائد مقصود : شرد یادو

ممبئی ، 5 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جنتادل (یو) شرد یادو نے آج بی جے پی اور آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’رام مندر کا مسئلہ‘‘ محض اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں اُٹھا رہے ہیں۔ یہاں اجتماع سے خطاب میں شرد یادو نے 2014ء کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد والے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی کو اس بات سے منسوب کیا کہ وہ پارٹی فرقہ وارانہ کشیدگیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ ’’بی جے پی آج اس لئے زندہ ہے کیونکہ وہ فسادات کرانے اور ذات پات کے نام پر عوام کو منقسم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن ہمیں اس کے خلاف اپنی تمام تر قوت کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے، چاہے اس کیلئے ہماری زندگیاں قربان ہوجائیں۔‘‘ شرد یادو نے مزید کہا: ’’بی جے پی فرقہ پرستی کے بل بوتے پر پھل پھول رہی ہے۔ انھوں نے آنے والے یو پی انتخابات کو ملحوظ رکھتے ہوئے یکایک رام مندر کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔ وہ رام کے نام پر سیاست چلارہے ہیں۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ ’’رام مندر کا خواب ممکن ہے ہماری زندگی میں شرمندۂ تعبیر ہوجائے اور ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے‘‘۔

شرد یادو نے کہا کہ بی جے پی کی حکمت عملی ہے کہ انتخابات جیتنے کیلئے اقلیتوں کے تعلق سے خوف کا ماحول پیدا کیا جائے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ وہ آپ (دلتوں) کے خلاف ہیں۔ اُن کی پالیسی ہے کہ دلتیں، آدی واسی اور پچھڑے طبقات وہیں رہیں جہاں وہ ہیں۔‘‘ صدر جنتا دل (یونائیٹیڈ) نے یہ بھی کہا: ’’یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا جس میں ایسا ظاہر ہو کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ حقیقت میں انھیں مسلمانوں کی فکر نہیں۔ بی جے پی تو بس یہی چاہتی ہے کہ ہندوؤں کو متحد کیا جائے، اور وہ سیاسی مقاصد کی خاطر مسلمانوں کا خوف دلا رہی ہے۔‘‘ شرد یادو نے کہا کہ بہار میں دلتیں، قبائل اور مسلمان یکجا ہوگئے اور بی جے پی کو (اسمبلی چناؤ میں) شکست فاش ہوگئی۔ ’’بابا صاحب امبیڈکر جیسی شخصیتوں نے ہمیں ذات پات کے نظام کے شکنجوں کو توڑنا سکھایا ہے۔ ووٹنگ ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جو ہمیں اُن سے لڑنے میں مدد کرسکتا ہے جو اس ملک کو تقسیم کررہے ہیں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT