Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / بی جے پی کو ڈسپلن پر بات کرنے کا اخلاقی حق نہیں

بی جے پی کو ڈسپلن پر بات کرنے کا اخلاقی حق نہیں

ریاستی وزراء کے حامیوں کے احتجاج پر شیوسینا اور کانگریس کا ردعمل
ممبئی۔/14جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) حالیہ کابینہ میں ردوبدل پر چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ پنکج منڈے کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کے دوران شیوسینا نے آج کہا کہ مسئلہ کو منظر عام پر لانے کی بجائے ٹیلی فون کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم اپوزیشن کانگریس نے کہا کہ حکمران جماعت کو یہ اخلاقی حق نہیں ہے کہ حکومت میں ڈسپلن شکنی پر تبصرے کرے ، کیونکہ وزیر اعظم اور چیف منسٹرس کو بے عزت کرنے میں شیوسینا کی تاریخ ہے۔ حالیہ کابینہ میں ردوبدل کے موقع پر منڈے سے تحفظ آب کا قلمدان چھین لیا گیاتھا جس کے خلاف ان کے حامیوں نے ضلع احمد آباد میں احتجاج کرتے ہوئے چیف منسٹر فڈ نویس کے پتلے نذر آتش کئے تھے۔ سماجی میڈیا پر بی جے پی میں داخلی چپقلش کو بھی بے نقاب کردیا گیا۔ گوکہ منڈے سے کہا گیا کہ سنگاپور میں گلوبل واٹر لیڈر سمیٹ میں شرکت کریں لیکن وہ اس محکمہ کے وزیر برقرار نہ رہنے کی وجہ سے شرکت سے قاصر رہے۔ تاہم فڈ نویس جو کہ جرمنی کے دورہ پر ہیں فی الفور ہدایت دی کہ منڈے کو مذکورہ اجلاس میں شرکت کرنا ہوگا۔ شیوسینا کے ترجمان ’ سامنا ‘ کے اداریہ میں کہا گیا کہ بی جے پی ہمیں یہ نصیحت کرتی ہے کہ حکومت کی ایک حلیف جماعت ہونے کے ناطے ڈسپلن پر کاربند رہیں لیکن ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ چیف منسٹر کے خلاف احتجاج کئے جارہے ہیں۔ اس طرح کے مظاہرے وزیر مالگذاری کے ساتھ کھڈسے کے استعفی پر بھی کئے گئے تھے۔ شیوسینا نے کہا کہ کابینی وزراء میں داخلی اختلافات کی ٹیلی فونی مذاکرات کے ذریعہ یکسوئی کی جاسکتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی کا یہ دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کے کرشمہ کی وجہ سے پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن مغربی بنگال، تاملناڈو، کیرالا اور بہار جیسی ریاستوں میں نریندر مودی کی قسمت کا ستارہ روشن نہیں ہوسکا۔ ’ سامنا ‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے کارکنان ، چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کے مجسمے نذر آتش کررہے ہیں کیونکہ وہ ریاست پر حکمرانی میں ناکام ہوگئی ہیں ،پوری ریاست جل رہی ہے لیکن بی جے پی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔شیوسینا کے تبصرہ پر رد عمل ظاہر کرنے والے کانگریس ترجمان النصیر زکریا نے کہا کہ انہیں اپنے آپ پر شرم کرنی چاہیئے کیونکہ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی توہین او ر تضحیک کرنے میں شیوسینا طویل ریکارڈ رکھتی ہے اور انہیں حکومت میں ڈسپلن شکنی پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT