Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / بی جے پی کیرالا میں کمیونسٹوں کے مقابل

بی جے پی کیرالا میں کمیونسٹوں کے مقابل

غضنفر علی خان
کیرالا ہمارے ملک کی وہ جنوبی ریاست ہے جہاں تقریباً صد فیصد آبادی خواندہ ہے جہاںکے عوام کا سیاسی تاریخی اور سماجی شعور بہت زیادہ پختہ ہے ‘ پڑھے لکھے لوگوں کی آبادی اور ان کے شعور و آگہی کی یہی پختگی ہیکہ آج تک یہاں کوئی فرقہ پرست طاقت یا جماعت کبھی اقتدار حاصل نہ کرسکی ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا تو یہاں وجود نہیں ہے اور یہاں نہ کبھی کنول کھلا ہے اور نہ بھگوا پرچم سربلند ہوا ہے ۔ اب بی جے پی اور آر ایس ایس بلکہ سارا سنگھ پریوار سیاسی جنون کا شکار ہوگیا ہے کہ سیاسی بصیرت رکھنے والی اس ریاست میں فرقہ پرستی کا ماحول پیدا کیا جائے ‘ یہ بات کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہمارے ملک میں کوتاہ ذہنی ‘ تنگ نظری اور باہمی منافرت کی سوداگری یہی آر ایس ایس ‘ بی جے پی اور ہندو توا کی حامی طاقتیں کرتی ہیں ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کیرالا میں پیش قدمی کے طور پر وہاں ریالیاں نکالنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل بھی ہورہا ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہیکہ یہاں کے عوام فرقہ پرستی ‘ مذہبی تعصب سے قطعی نابلد ہیں ۔ ان کے وہ افیون جس کی لت شمالی ہندوستان اور بعض دیگر علاقوں میں بی جے پی نے لگائی ہے‘ یہی لت کیرالا کے عوام کو بھی لگانا چاہتے ہیں ۔ ان کے صاف ستھرے ذہنوں کو آلودہ کرنا چاہتی ہیں ۔ اس سعی لاحال کیلئے نہ صرف امیت شاہ بلکہ ان کے ہمراہ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ بھی ہیں جو ملک کے تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس میں سب سے زیادہ ناکام اور ناکارہ چیف منسٹر ثابت ہوچکے ہیں ۔

اترپردیش ہر اعتبار سے ایک ایسی ریاست ہے جہاں نہ صرف مسلمان بلکہ دلتوں اور پسماندہ طبقات خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ‘ جہاں ہر دن ملک کی بیٹیوں پر ظلم و زیادتی ہوتی ہے ‘ جہاں برسر عام ان کی آبرو ریزی ہوتی ہے ‘ جہاں معصوم بچے بڑی تعداد میں سرکاری اسپتالوں میں فوت ہوتے ہیں ‘ غرض یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں کوئی طبقہ مطمئن اور خوش نہیں ہے ۔ ان ناکامیوں کے باوجود یوگی آدتیہ ناتھ کو ’’ ہندو توا‘‘ کا چہرہ بناکر بی جے پی ڈھول پیٹ رہی ہے بلکہ کیرالا میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں ۔ یہ بات صحیح ہیکہ کسی بھی پارٹی کے کارکنوں کو ہلاک کرنے کا کسی دوسری پارٹی کو حق نہیں ہے لیکن یہ دونوں متنازعہ پارٹیاں یہ بھول رہی ہیں کہ ان کے حمایتوں نے کیسی کیسی دلخراش وارداتیں کیں ‘ یہاں ہر دن ڈر لگا رہتا ہے کہ پھر کوئی محمد اخلاق ‘ کوئی جنید ‘ کوئی اور مسلمان محض شبہ کی بنیاد پر برہم ہجوم کے حملوں میں مارا جائے گا ۔ یہ ہندو توا کا وہ چہرہ ہے جس پر ملک سے محبت اس کیلئے قربانی دینے کی معمولی جھلک بھی نہیں ہے ۔ کیرالا میں بائیں بازو کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے اور یہ پارٹی 1960ء کے دہے سے ناقابل شکست رہی ہے ۔ 2014ء کے عام انتخابات میں اس ریاست کی جملہ 140 اسمبلی نشستوں میں صرف ایک پر بی جے پی کے امیدوار منتخب ہوسکے ‘ نہ ماضی میں بی جے پی نے یہاں کوئی کامیابی حاصل کی اور نہ آئندہ کبھی یہ امید کی جاسکتی ہے ۔ جن جگران ( عوامی بیداری) کے نام سے چلائی جانے والی اس مہم کے بارے میں کیرالا کے چیف منسٹر پی وجنین نے خوب کہا ہیکہ یہ مہم دراصل ( ماتھے پر لگایا جانے والا نشان) دہشت پسندی ہے اور اس کا واحد مقصد یہ ہیکہ کیرالا کی موجودہ سوسائٹی کو مذہبی منافرت کی اساس پر تقسیم کیا جائے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں کے قتل کی چھان بین یہاں کی کمیونسٹ حکومت کررہی ہے لیکن ان ہی وارداتوںکو محض ایک بہانہ بناکر تلک دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے مہم چلانے امیت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کی خوش فہمی اور ان میں سیاسی سوچھ بوجھ کے فقدان کا ثبوت ہے ۔ کمیونسٹ حکومت مغربی بنگال میں 26برس سے زیادہ عرصہ تک رہی ‘ ابھی بھی تریپورہ میں پارٹی حکمراں ہے لیکن یہاں کی حکومت نے کبھی فرقہ پرستی کو بڑھنے نہیں دیا ‘ کبھی کسی گاؤ رکھشک نے کسی محمد اخلاق یا جنید کا قتل نہیں کیا ‘ کبھی مسلمانوں کی وطن پرستی پر شبہ نہیں کیا ‘ کبھی مسلمانوں کے عقائد پر تنقید کرتے ہوئے ان کے پرسنل لا پر حملے کئے ‘ کبھی ان کمیونسٹ حکومتوں میں کیرالا ‘ تریپورہ یا سابق حکومت مغربی بنگال میں احکام قرآنی میں تبدیلی لانے کی بات کہی یا سنی گئی ۔

اب رہا سوال بی جے پی اور اس کی درپردہ تائید کرنے والی آر ایس ایس دونوں کا مقصد صرف ایک ہے کہ ہمارے سیکولر اور تکثریت والے ملک کو بھگوا یا زعفرانی رنگ دیں ۔ ہندو توا کا طوق جنت نشان ہمارے ہندوستان کے گلے میں ڈال دیں ‘ ملک کی سیکولر پارٹیاں ہندو توا کا بول بالا ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ان میں سب سے آگے کمیونسٹ پارٹیاں ہیں ( جو رفتہ رفتہ اپنا اطلاق اور تاثر کھوتی جارہی ہیں ) کیرالا میں ان ہی کمیونسٹوں سے فرقہ پرست طاقتیں ٹکرا رہی ہیں ۔ ایک بات تو طئے شدہ ہیکہ کمیونسٹ پارٹیوں اور فرقہ پرستوں کے مابین اس تصادم میں بالآخر سیکولر ازم کی حامی طاقتوں کو ہی کامیابی ہوگی ۔ شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں عارضی کامیابی کے بعد اقتدار کے نشہ میں بدمست بی جے پی یہ سمجھ رہی ہیکہ سیکولرازم کے مضبوط حلقہ کیرالا کو وہ اپنی ان کوششوں سے جیت لے لیکن جس ریاست اور اس کے عوام میں وہاں کے رائے دہندوں میں تمام مذاہب کا احترام اور سب کا یکساں حق ہونے کی بوند پڑی ہو وہ ایک آدتیہ ناتھ یا ایک امیت شاہ کی چند ریالیوں سے بی جے پی کی فرقہ پرستی کا زہر ہرگز حلق سے نہیں اتاریں گے ۔ کیرالا ہمارے ملک کی ریاستوں سے جداگانہ موقف رکھتا ہے ۔ یہاں صرف ہندی زبان بولنے والے صرف ہندو توا کا راگ الاپنے والوں کا داؤ نہیں چل سکتا ۔ زبان خود ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ کیرالا میں ملیالم زبان ہی بولی اور سمجھی جاتی ہے ‘ یہاں امیت شاہ کی ہندی تشہیر یا یوگی آدتیہ ناتھ کی ’’ شدھ ہندی ‘‘ میں چرب زبانی نہیں چل سکتی ۔ کمیونسٹ حکومت بیحد مستحکم ہے یہاں کوئی سیاسی اغراض یا اقتدار کے حصول کیلئے پرفریب سیاسی داؤ پیچ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ جنوبی ریاستوں میں صرف کرناٹک میں بی جے پی نے ماضی قریب میں اثر پیدا کیا تھا لیکن وہ صرف چند برس رہا ‘ دیگر جنوبی ریاستوں ٹامل ناڈو ‘ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سیاست نہ کامیاب ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT