Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی کی فرقہ پرستی سے ہندوستان کے جمہوری نظام کو سنگین خطرہ

بی جے پی کی فرقہ پرستی سے ہندوستان کے جمہوری نظام کو سنگین خطرہ

ایوارڈس واپسی پر آئی پی ایس او کی گول میز کانفرنس ، مختلف تنظیموں کے قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔21اکٹوبر(سیاست نیوز) قومی سطح پر بڑھتی فرقہ پرستی اور آزادی اظہار خیال پر پابندی کے واقعات میںاضافہ کی وجہہ سے ملک کے دانشور طبقے میںپائی جانے والی برہمی کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کی بڑی ناکامی قراردیتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سیدعزیزپاشاہ نے کہاکہ اتر پردیش کے دادری میں گائے کے گوشت کے استعمال کی افواہ پر ایک نہتے شخص اخلاق حسین کو موت کے گھاٹ اتارنے کا واقعہ ہندوستان کے جمہوری نظام اور قومی سالمیت کے لئے ایک بہت بڑا سوال بن گیا ہے اور اس کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں گائے اور مذہب کے نام پر فرقہ پرستوں کے ہاتھوں انجام دئے گئے واقعات کے ہندوستان کی صدیوں قدیم گنگا جمنی تہذیب کے متعلق سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ثقافتی تہذیب کے علمبردار شخصیتیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی قومی سالمیت اور امن وبھائی چارہ کو فروغ دینے کے لئے صرف کردیا آج حکومت ہند کی جانب سے انہیں دئے گئے ایوارڈس واپس کرنے پر مجبور ہیں۔کل ہند امن ویکجہتی(اے آئی پی ایس او) کے زیر اہتمام ’’ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ کی واپسی‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے صدارتی خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ اب تک مختلف مذاہب‘ ذا ت پات کے 42دانشواروں نے ساہتیہ اکیڈیمی او رپدما بھوشن ایوارڈ اور اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے دی گئی رقومات کو واپس لوٹاتے ہوئے قومی سطح پر بڑھتی فرقہ پرستی کے خلاف جو اظہار مذمت کی ہے اس کی سابق میںکوئی نظیر نہیںملتی۔ ایوارڈ واپس لوٹانے کے واقعات ظلم وبربریت اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے جو کہ اس ملک کا دانشور طبقے اس قسم کی اوجھی سیاست جو قومی سالمیت کے لئے خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کریگا۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ دادری ‘ کرناٹک او رکشمیر کے واقعات کو علاقائی حکومتوں سے منسوب کرتے ہوئے خود کو صاف ستھرا پیش کرنے والے بی جے پی صدر امیت شاہ یہ کس طرح بھول گئے کہ ہندوستان میں نفرت کی سیاست بھارتیہ جنتا پارٹی کی دین ہے اور مرکزی میں بی جے پی اقتدار میںانے کے بعد فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے کافی مضبوط ہوگئے ہیں اور ائے دن کسی نہ کسی طرح اقلیتوں کو ہراساں وپریشان کرنے کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں جبکہ ان تمام واقعات پر وزیر اعظم ہند کی خاموشی فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو استحکام پہنچارہے ہیں ۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ دادری کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت اور ردعمل ظاہر کرنے سے مودی ہمیشہ گریز کرتے رہے ۔ صدر کل ہند اسٹوڈنٹ فیڈریشن سید ولی اللہ قادری نے کہاکہ بی جے پی ایک فرقہ پرست سیاسی جماعت ہے جس سے ہندوستان کے جمہوری نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے سکیولر ذہن کی حامل سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لانا ضروری ہے۔انہوںنے قومی سطح پر تعلیم کو زعفرانی بنانے کی سازشوں کا بھی اس موقع پر حوالہ دیا او رکہاکہ کٹر فرقہ پرست لوگوں کو تعلیمی اداروں کا سربراہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جومستقبل میںزعفرانی دھشت گردی کو طاقتور بنانے کی وجہہ بھی بن سکتا ہے۔ صدر اے ائی پی ایس او تلنگانہ ریاست ڈاکٹر سدھاکر نے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس کی واپسی کو ہندوستان کے دانشوار طبقے کا مستحسن اقدام قراردیا۔ ڈاکٹر تروپتی یادیا نے کہاکہ ماضی میں ہندوستان کے عوام گائے کاگوشت استعمال کرتے تھے مگر سازش کے تحت گائے کو دیوی کا روپ دیکر مقدس بنادیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ گائے کو مقد س ماننے والے لوگ ہندوستان کی حقیقی تاریخ سے ہی ناواقف ہیں۔ انہوں نے گائے اور مذہب کے نام پر اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو ضروری قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT