Friday , April 28 2017
Home / اداریہ / بی جے پی کی کامیابی

بی جے پی کی کامیابی

صبح ہوجائے اگر جلد تو مشکل ہوگی
پھر پلٹ کر تری محفل ہی میں آنا ہے ہمیں
بی جے پی کی کامیابی
ہندوستانی سیاست میں آئے دن بھونچال آتے رہتے ہیں، جس کے باعث عوام الناس کو درست فیصلے کرنے کی اخلاقی تربیت نہیں ہوپاتی۔ ملک کی جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اس میں اگر عوام کے راست فیصلے کے بارے میں بحث چھیڑی جائے تو مختلف عنوانات کا آتش فشاں پھٹ پڑے گا۔ اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کو مودی کی لہر قرار دینے والے شاید یہ بھول گئے کہ پنجاب میں یہ لہر بری طرح ناکام ہوئی۔ یہاں کسی لیڈر کی لہر کی بات نہیں ہے بلکہ مخالف حکمرانی جذبات نے کام کر دکھایا ہے۔ اترپردیش میں چونکہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حکمرانی کے باعث بی جے پی اقتدار سے 14 برس دور تھی ان برسوں میں بی جے پی نے مقامی سطح پر اپنے کیڈرس کو مضبوط بنانے اور مخالف حکمرانی لہر کو ہوا دینے کی حکمت عملی بنائی تھی جس میں وہ صدفیصد کامیاب رہی۔ مودی کی لہر یا جادو کا جہاں تک سوال ہے یہ جادو ملک کی دیگر ریاستوں میں کیوں نہیں چلا۔ پنجاب میں کانگریس کو اس لئے کامیابی ملی کہ یہاں شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کی 10 سالہ حکومت سے عوام بیزار آ چکے تھے۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کے خلاف عوام نے ووٹ دیا۔ گوا اور منی پور میں عوام کی منقسم رائے نے بی جے پی اور کانگریس کو برابری پر لڑا کھڑا کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی طاقت کے بارے میں جن تجزیہ کاروں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے اس سے قطع نظر ان انتخابات میں صرف مخالف حکمرانی لہر نے کام کردیا ہے۔ اترپردیش میں مودی کی حکمت عملی کام آئی ہے کیونکہ بی جے پی کو گذشتہ بہار انتخابات میں جس طرح کے تجربات ہوئے ہیں ان کے پیش نظر اترپردیش میں ایسی غلطیوں کو نہیں دہرایا گیا۔ اترپردیش میں بی جے پی نے کسی بھی لیڈر کو پارٹی کا چیف منسٹر امیدوار نامزد نہیں کیا تھا اور مودی کو ہی سامنے رکھ کر ساری انتخابی مہم پر زور دیا گیا۔ یوپی کے 7 مرحلوں کی رائے دہی کیلئے بی جے پی نے مقامی رجحان کو ذہن میں رکھ کر انتخابی مہم کا طریقہ اور لیڈر تبدیل کئے تھے۔ یوپی میں بی جے پی کی کامیابی کی ایک اور وجہ کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ٹکٹ دینا تھا۔ تقریباً 100 نشستوں پر ایسے امیدوار کھڑا کئے گئے تھے جو دیگر پارٹیوں سے نکل کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور یہی قائدین مقامی سطح پر عوام کیلئے پسندیدہ لیڈر تھے اور کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دینے کی حکمت عملی نے بی جے پی کا موقف مضبوط کیا ہے۔ پارٹی قیادت نے کیڈرس کی وفاداری کا منہ دیکھ کر ٹکٹ نہیں دیا بلکہ کامیاب ہونے کی طاقت رکھنے والے قائدین کو ٹکٹ دیا تھا جیسا کہ مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات میں امیدواری کا انتخاب پس اسی خطوط پر کیا گیا تھا۔ اس سے ہٹ کر کانگریس، سماج وادی پارٹی یا بی ایس پی، عام آدمی پارٹی نے بھی بی جے پی کو مضبوط بنانے والی نادانیاں کی تھیں، جب کبھی اپوزیشن کمزور ہوتی ہے تو وہ عوام کی رائے پر دھیان دینے کی کوشش نہیں کرتی۔ اسے صرف اپنی بقا یا احیاء کی فکر رہتی ہے۔ اس کے برعکس یوپی میں نریندر مودی نے جارحانہ طرز کی انتخابی مہم اختیار کرکے عوام کے ذہن کو اپنی جانب موڑ لیا۔ ان کا یہ جادو دیگر ریاستوں میں نہیں چل سکا، اس کی وجہ دیگر چار ریاستوں پنجاب، گوا، منی پور اور اتراکھنڈ میں مودی اور ان کی ٹیم نے محنت نہیں کی اور حکمت عملی کا سارا زور یوپی پر ہی مرکوز رہا جس میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ نوٹ بندی کے خلاف عوام کا غم و غصہ بھی عارضی ہی ثابت ہوا۔ اترپردیش کی 403 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو دوتہائی اکثریت یعنی 305 پر اپنا کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ 1991ء میں رام جنم بھومی بابری مسجد تحریک کے دوران ہی بی جے پی کو عوام کی اکثریتی رائے کی وجہ سے 425 نشستوں کے منجملہ 221 پر کامیابی ملی تھی۔ اس وقت یو پی ایک غیرمنقسم ریاست تھی۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں جو مظاہرہ کیا تھا اس کا تسلسل اسمبلی انتخابات میں بھی نظر آیا۔ اس کامیابی کے بعد بی جے پی کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جس طرز پر انتخابی مہم چلا کر عوام کے سامنے وعدوں اور اعلانات کی فہرست رکھی گئی تھی انہیں پورا کرنے اور عوام کو ان کی توقع کے مطابق حکمرانی دینے میں کامیاب ہونا ہی اصل کامیابی ہوگی۔ پنجاب اور دیگر 3 ریاستوں کے ووٹرس نے مقامی سطح پر درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے پارٹیوں کے حق میں ووٹ دیا ہے تو اب یہاں منتخب ہونے والی پارٹیوں اور ان کی قیادت کو عوام کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ایک اچھی حکمرانی فراہم کرنا ان کا اولین فریضہ ہوگا۔
مودی حکومت میں ایرانڈیا کو بھاری خسارہ
مالیاتی منصوبوں کو کامیاب بنانے والی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانے والی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ہوابازی صنعت کے اہم ادارہ ایرانڈیا کو 321 کروڑ روپئے کا خسارہ ہوا ہے جبکہ گذشتہ سال اکٹوبر میں ہی ایرلائن نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی پروازوں کے ذریعہ 105 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کردہ سی اے جی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ سال 2012ء سے 3 سال میں اس کمپنی کو 6415 کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ یہ خسارہ اس وقت ہوا ہے جب ایرانڈیا نے اپنے وسیع تر اہم بوئنگ 777-200 طویل ساخت والے طیاروں کو اتحاد ایرویز کو فروخت کردیا اور یہ سودا نہایت ہی کم قیمت میں کیا گیا۔ ان طیاروں کی فروخت کی وجہ ایرانڈیا کی جانب سے سود کی رقم ادا کرنے سے قاصر ہونے کے بعد ان طیاروں کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت سے بچنے کیلئے طیاروں کو فروخت کیا گیا۔ ایک ایسے وقت میں ساری دنیا میں نئی نئی ایرلائنز کمپنیاں فضائی سرویس میں قدم رکھ رہی ہیں۔ ایرانڈیا کو خسارہ سے دوچار کرنے والے حالات کو نظرانداز کردیا گیا۔ سی اے جی نے ایرانڈیا کو ہونے والے خسارہ کیلئے 6 وجوہات کی جانب نشاندہی کی ہے ان میں مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی، اثاثہ جات کی قدر گھٹا کر فروخت کرنے، اچھے طیاروں کی عدم دستیابی کے علاوہ بیرونی ملکوں کے ساتھ باہمی معاہدات میں غلط انتظامی امور کی انجام دہی کو بھی اہم وجہ بتایا گیا ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کو گھاٹے کا سودا بتا کر طیاروں کو چلایا جارہا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ میان پاور میں بدانتظامی بھی مانی جارہی ہے۔ ملک کے عام شہریوں کیلئے ان اعدادوشمار میں کتنی سچائی ہے کا پتہ چلانا ممکن نہیں لیکن حکومت نے عوام کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہے ایک دن اس ملک کے خزانہ کو خلاش بنادینے کا موجب ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT