Friday , October 20 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی کے حق میں ملائم سنگھ یادو کے بیان پر ناراضگی

بی جے پی کے حق میں ملائم سنگھ یادو کے بیان پر ناراضگی

بہار میں تیسرے محاذ سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی علحدگی
پٹنہ۔/15اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار میں اسمبلی انتخابات کے دوران ہی تیسرے محاذ کو زبردست جھٹکا پہنچا جبکہ سماجوادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کی جانب سے موافق بی جے پی بیان دینے پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ( این سی پی) نے آج تیسرے محاذ سے باہر نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ این سی پی جنرل سکریٹری اور ایم پی مسٹر طارق انور نے آج ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ ان کی پارٹی نے 6جماعتوں پر مشتمل تیسرے فرنٹ سے ترک تعلق کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کا یہ فیصلہ ملائم سنگھ یادو کے اس تبصرہ کا ردعمل ہے جس میں سماجوادی پارٹی لیڈر نے کہا تھا کہ بہار میں بی جے پی کی لہر جاری ہے اور زعفرانی پارٹی کیلئے تشکیل حکومت کے امکانات روشن ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے بہار اسمبلی کے دوسرے مرحلہ کے انتخابات کیلئے روہتاس اور اورنگ آباد میں پارٹی امیدواروں کیلئے مہم چلاتے ہوئے یہ بیان دیا تھا،

جس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے رکن پارلیمنٹ نے بدبختانہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ بہار میںدوسرے مرحلہ کے انتخابات ( رائے دہی ) جمعہ کو منعقد ہوں گے، مسٹر طارق انور جو کہ بہار میں پارٹی سربراہ شرد پوار کا چہرہ تصور کیا جاتا ہے بتایا کہ 6جماعتوں کے تیسرے محاذ کی تشکیل کے وقت یہ عہد کیا گیا تھا کہ سیکولرازم کی پاسداری کیلئے کانگریس اور بی جے پی کے خلاف جدوجہد کی جائے لیکن سماجوادی پارٹی سربراہ کے بیان سے بی جے پی کو راست یا بالراست فائدہ ہوگا جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کرلی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی، این سی پی، جن ادھیکار پارٹی ( پپو یادو ایم پی) سماجوادی جنتا پارٹی ( سابق مرکزی وزیر دیویندر پرساد یادو ) نیشنل پیپلز پارٹی ( سابق لوک سبھا اسپیکر پی اے سنگما ) سمراس سماج پارٹی ( سابق مرکزی وزیر ناگمنی ) نے متحد ہوکر تیسرا محاذ ( تھرڈ فرنٹ ) تشکیل دیا تھا۔اگرچیکہ نیشنل کانگریس پارٹی ابتداء میں جنتادل متحدہ، راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے عظیم سیکولر اتحاد سے وابستہ تھے لیکن بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو صرف 3نشستیں مختص کئے جانے پر ناراض ہوکر علحدگی اختیار کی۔ اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ لالو پرساد اور نتیش کمار نے این سی پی کی طاقت کا غلط اندازہ قائم کیا ہے۔ بعد ازاں پارٹی نے سماجوادی پارٹی سے ہاتھ ملالیا  جس نے کانگریس کو حد سے زیادہ نشستیں مختص کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے عظیم سیکولر اتحاد سے ناطہ توڑ لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT