Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کے خلاف قومی محاذ بنانے فاروق عبداللہ اور لالو پرساد کی تجویز

بی جے پی کے خلاف قومی محاذ بنانے فاروق عبداللہ اور لالو پرساد کی تجویز

دونوں قائدین کی تجویز سے ممتابنرجی کا اتفاق، تعاون کی پیشکش، ہم خیال سکیولر جماعتوں سے بات چیت پر زور
کولکتہ۔27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکز میں بی جے پی کو چیلنج کرنے کے لئے غیر کانگریس اور غیر بی جے پی جماعتوں کے چند قائدین نے ایک دفاعی محاذ کے قیام کی آج تجویز پیش کی اور کہا کہ اس امکان کا جائزہ لینے کے لئے بہت جلد وہ ایک ساتھ مل بیٹھیں گے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی، جنہوں نے مغربی بنگال کی چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنی دوسری میعاد کے لئے آج عہدہ کا حلف لیا۔ اس نظریہ کی تائید کی اور کہا کہ ہم خیال جماعتوں کی جانب سے اگر ایسا کوئی محاذ تشکیل دیا جاتا ہے تو وہ اس ضمن میں تعاون کریں گے۔ آر جے ڈی کے سربراہ لالوپرساد یادو نے جو ممتا بنرجی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے یہاں پہونچے تھے، اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی (بی جے پی) اور سنگھ پریوار کو شکست دینا ضروری ہے کیوں کہ یہ دونوں ملک میں پھوٹ ڈالنے کے درپے ہیں۔ مودی حکومت کی قیادت میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ لالو یادو نے کہا کہ تمام ہم خیال اور دیگر سکیولر جماعتوں کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کے خلاف محاذ کے قیام کے لئے مل بیٹھیں اور بات چیت کریں۔ جموں و کشمیر کی نیشنل کانفرنس کے بزرگ لیڈر فاروق عبداللہ نے جو خود بھی ممتا بنرجی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے کولکتہ پہونچے تھے، اس موقع پر کہا کہ مرکزی سطح پر ایک وفاقی محاذ کے قیام کا قوی امکان ہے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ کئی ہم خیال جماعتیں اور قائدین ہیں۔ ممتا بنرجی بھی ان میں ایک ہیں۔ ملک کے سکیولر تانے بانے اور جمہوریت کے لئے یہ ایک عظیم دن ہوگا۔ اترپردیش کے چیف منسٹر اکھلیش یادو تاہم تیسری قومی محاذ کے قیام کے بارے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے اور کہا کہ ہم صرف انہیں (ممتا بنرجی)  کو مبارکباد دینے کے لئے یہاں آئے ہیں۔ ممتا بنرجی نے تیسرے محاذ سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ اگر ایسا کوئی محاذ تشکیل دیا جاتا تو میں تعاون کے لئے تیار ہوں۔ ہمیں اس ضمن میں ہم خیال جماعتوں سے تبادلہ خیال کرنا ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان پر ممتا بنرجی نے بھی تیسرے محاذ کے قیام کا اشارہ دیا تھا تاہم انہوںنے پارٹی ترنمول کانگریس کو چیف منسٹر دینے کے لئے ماذی کی حلیف کی جانب سے اس مرتبہ بائیں بازو محاذ سے مفاہمت کی سخت مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ کانگریس نے قومی سطح پر ایک سنگین اور فاش غلطی کی ہے۔ ان کے یہ الفاظ بھی مستقبل میں کانگریس کے ساتھ تیسرے محاذ کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹ کا اشارہ دیتے ہیں۔ ممتا بنرجی کی حلف برداری تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی کی نمائندگی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کی لیکن کانگریس کے کسی بھی قائد نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی جس سے ان دونوں جماعتوں کے درمیان دوریوں میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جبکہ خود کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے بی جے پی کے موثر قومی متبادل کے طور پر کانگریس کو مستحکم کرنے کے لئے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، شردپوار کی این سی اور جنگ موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ناصرف کانگریس سے قریب لانے بلکہ اس پارٹی میں دوبارہ انضمام کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT