Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ نہیں : ٹی آر ایس

بی جے پی کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ نہیں : ٹی آر ایس

ریاست کی ترقی اور مفادات ملحوظ ، کے پربھاکر ٹی آر ایس ایم ایل سی کی وضاحت
حیدرآباد۔23 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے واضح کیا کہ بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کا کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہے۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کا معاہدہ صرف ترقی کی بنیاد پر ہے اور ریاست کے مفادات کی تکمیل کے لیے ٹی آر ایس نے مرکزی حکومت کے بعض فیصلوں کی تائید کی ہے۔ پربھاکر نے وضاحت کی ٹی آر ایس این ڈی اے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اپوزیشن یو پی اے میں شامل ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو ملک میں حقیقی سکیولر شخصیت قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر نے کبھی بھی سکیولرازم اور پارٹی کے سکیولر اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں این ڈی اے نے ٹی آر ایس سے مشاورت کی تھی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی تجویز کے مطابق دلت قائد کو صدارتی امیدوار مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے نے امیدوار کے انتخاب کے بعد سب سے پہلے چیف منسٹر کو اس کی اطلاع دی اور ملک میں دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو باوقار عہدے پر فائز کرنے کے لیے ٹی آر ایس نے بی جے پی امیدوار رام ناتھ کووند کی تائید کی ہے۔ پربھاکر نے کانگریس پارٹی سے سوال کیا کہ اس نے امیدوار کے اعلان سے قبل ٹی آر ایس سے مشاورت کیوں نہیں کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کے اس الزام کی کے پربھاکر نے مذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ صدارتی امیدوار کے سلسلہ میں بی جے پی اور ٹی آر ایس میں خفیہ معاہدہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سیاسی مقصد براری کے لیے میرا کمار کو امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس کو چاہئے کہ اپنے سیاسی اغراض کے لیے میرا کمار کو استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جئے پال ریڈی ایک معمولی قائد کی طرح بیان بازی کررہے ہیں حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹی آر ایس ایک سکیولر جماعت ہے اور سکیولرازم پر سمجھوتہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو ٹی آر ایس پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ٹی آر ایس حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لیے کام کررہی ہے اور گزشتہ تین برسوں میں حکومت کی کارکردگی سے تمام طبقات مطمئن ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش نہیں آئے اور امن و قانون کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بھلائی اور ترقی کے لیے ٹی آر ایس حکومت سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے۔ کے پربھاکر نے کہا کہ صدارتی امیدوار کی تائید پر سکیولر اصولوں کو قربان کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ ٹی آر ایس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ریاست کی ترقی کے لیے مرکزی حکومت سے متعلق تعاون حاصل کیا جائے۔ مرکز میں حکومت چاہے کسی پارٹی کی کیوں نہ ہو، ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعاون کے لیے رجوع ہوں۔

TOPPOPULARRECENT