Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / بی جے پی کے شعلہ بیان قائدین پر امیت شاہ کی برہمی

بی جے پی کے شعلہ بیان قائدین پر امیت شاہ کی برہمی

سنجیو بلیان، مہیش شرما ، ساکشی مہاراج اور سنگیت سوم کی پارٹی ہیڈکوارٹرس میں طلبی، سرزنش اور وارننگ ، اشتعال انگیز تبصروں پر مودی کی ناراضگی کا شاخسانہ

ًًنئی دہلی۔18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے گائوں دادری میں بیف کے استعمال کی محض افواہوں پر ایک 50 سالہ مسلم شخص محمد اخلاق کو جنونی ہجوم کے ہاتھوں مارمار کر ہلاک کئے جانے اور بیف کے مسئلہ پر متنازعہ ریمارکس کے سبب مختلف گوشوں کی سخت تنقیدوں کا نشانہ بننے والے چیف بی جے پی قائدین کو آج خود اپنی ہی پارٹی کے صدر امیت شاہ کی سخت سرزنش کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ امیت شاہ نے چند متنازعہ اور شعلہ بیان بی جے پی قائدین کو آج صبح طلب کیا اور اس قسم کے متنازعہ و اشتعال انگیز بیانات کی اجرائی کے خلاف انہیں (بی جے پی قائدین کو) سخت وارننگ دی۔ باور کیا جاتا ہے کہ بہار میں جاری اسمبلی انتخابات ک مہم کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پارٹی کے بعض قائدین کے متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات پر ناخوشی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اشتعال انگیز ریمارکس کے لئے سخت ترین تنقید و مذمت کا سامنا کرنے والے مرکزی مملکتی وزیر وزارت سنجیو بلیان، ہریانہ کے بی جے پی چیف منسٹر منوہر لال کھتر، دادری سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر مہیش شرما، متنازعہ رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج اور رکن اسمبلی سنگیت سوم کو امیت شاہ نے آج صبح بی جے پی ہیڈکوارٹرز طلب کیا اور انہیں اس قسم کے تبصرے کرنے کے خلاف سخت وارننگ دی جن (تبصروں سے) مودی حکومت کا ’ترقیاتی ایجنڈہ‘ متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق امیت شاہ نے ان متنازعہ ریمارک کرنے والے قائدین  سے کہا کہ دادری میں بیف کھانے کی افواہوں پر ایک (مسلم) شخص کو مارمار کر ہلاک کردینے کا واقعہ دراصل امن و قانون کی برقراری میں ریاستی حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے اور اس سے بی جے پی کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ امیت شاہ نے ان بی جے پی قائدین کو بتایا کہ ان کے متنازعہ ریمارکس کے سبب اس مسئلہ پر سماج وادی پارٹی کی ناکامی سے توجہ ہٹ گئی ہے اور تنازعہ کے لئے تمام تر توجہ بی جے پی کے خلاف مرکوز ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے سخت گیر قائدین پر لگام لگانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کے الزام اور تنقیدوں سے پریشان وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپٹی پارٹی قائدین کے ریمارکس پر ناخوشی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا

جس کے بعد ہی بی جے پی کی اعلی قیادت سرگرم ہوگئی۔ چنانچہ امیت شاہ نے آج ان سخت گیر قائدین کو طلب کرتے ہوئے سخت وارننگ دی۔ بی جے پی کے ایک اہم ذمہ دار نے کہا کہ ’’کھتر، ساکشی مہاراج اور مظفر نگر فسادات کے مقدمہ کے ایک ملزم بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم کے علاوہ مرکزی مملکتی وزیر زراعت سنجیو بلیان کی ان کے متنازعہ ریمارکس پر امیت شاہ کے دفتر میں شخصی طور پر سرزنش کی گئی اور وارننگ دی گئی کہ غیر ضروری متنازعہ بیانات کی اجرائی سے گریز کیا جائے۔ بی جے پی ذرائع نے کہا ہے کہ ’’علاوہ ازیں بی جے پی کے تمام قائدین کو یہ سخت بیغام دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری تنازعہ پیدا کرنے سے پرہیز کریں۔ متنازعہ بیانات دینے والے قائدین کو پارٹی قیادت کی ناراضگی سے بھی باخبر کیا گیا۔‘‘ اس حیرت انگیز پیشرفت سے ایک دن قبل ہی بی جے پی کی قدیم ترین حلیف اکالی دل نے دادری میں بیف کھانے کی افواہ پر گزشتہ ماہ ہجوم کے ہاتھوں ایک مسلم شخص کو مارمار کر ہلاک کئے جانے کے واقعہ کو سارے ملک کے لئے باعث ’شرم‘ قرار دیا تھا۔ شرومنی اکالی دل کے رکن پارلیمنٹ نریش گجرال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ بی جے پی کے سخت گیر قائدین متنازعہ بیانات جاری کرنے کے معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات پر بھی توجہ نہیں دے رہے ہیں

جس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سارے سنگھ پریوار کو یہ پیغام دیا جائے کہ اس قسم کی بیہودگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق امیت شاہ نے ہریانہ کے چیف منسٹر، ساکشی مہاراج، مہیش شرما، سنگیت سوم اور دوسروں سے کہا کہ ’’ان تنازعات سے مودی جی سخت ناراض اور ناخوش ہیں۔‘‘ ہریانہ کے چیف منسٹر کھتر نے حال ہی میں متنازعہ ریمارک کیا تھا کہ ’’مسلمان، ہندستان میں رہ سکتے ہیں لیکن وہ بیف کھانا بند کردیں۔‘‘ لیکن ان نازیبا ریمارکس پر مختلف گوشوں کی سخت تنقیدوں کے بعد انہوں نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ مہیش شرما نے دادری واقعہ کو محض ایک معمولی حادثہ قرار دیا تھا۔ سنگیت سوم نے دورہ دادری کے موقع پر کہا تھا کہ پولیس محض بے قصور افراد کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے منظفر نگر طرز پر ’’جوابی کارروائی‘‘ کی دھمکی بھی دی تھی۔ مظفر نگر وہ مقام ہے جہاں 2013ء میں ہولناک فسادات ہوئے تھے۔ مرکزی وزیر ثقافت اور سخت گیر بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج وقفہ وقفہ سے متنازعہ بیانات جاری کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے گائے کا گوشت کھانے والوں کو سزائے موت دینے کی وکالت بھی کی تھی۔ اس سوال پر کہ آیا بیف کے مسئلہ پر ریمارکس کے بارے میں امیت شاہ نے کوئی وارننگ دی ہے؟ ان بی جے پی قائدین نے نفی میں جواب دیا۔

TOPPOPULARRECENT