Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی کے لیے’’ ووٹ کٹوا ‘‘ کا جادو نہیں چلا

بی جے پی کے لیے’’ ووٹ کٹوا ‘‘ کا جادو نہیں چلا

حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بہار انتخابات میں باشعور رائے دہندوں نے ووٹوں کی تقسیم کی سازش کا شکار نہ ہوتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ ریاست بہار میں ہی نہیں بلکہ ملک کے کسی حصہ میں بہاری ہوں وہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی جماعت کو بہار میں عوام نے ’’ ووٹ کٹوا ‘‘ کے نام سے پکارنا شروع کردیا تھا ۔ اتنا ہی نہیں جماعتی امیدواروں کو عوام اس بات کی ترغیب دے رہے تھے کہ وہ مقابلہ سے باہر ہوجائیں چونکہ ان کی موجودگی بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مضبوط کرے گی لیکن قیادت نے 6 نشستوں پر مقابلہ کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے امیدواروں کے حق میں نہ صرف جلسے منعقد کئے بلکہ پیدل دورے کرتے ہوئے انہیں کامیاب کروانے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن بہار میں انہیں مسلمانوں کے لیڈر کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا گیا ۔ جس طرح بنگلورو میں انہیں اور ان کے امیدواروں کو مسترد کردیا گیا تھا اسی طرح بہار میں بھی ان کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا ۔ جماعت کے بہار انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے ساتھ ہی مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس اقدام کو بی جے پی کی سازش قرار دینا شروع کردیا تھا اور یہ کہا جانے لگا تھا کہ جماعت مسلم ووٹ تقسیم کرے گی ۔ ان تجزیہ نگاروں کی رائے کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے بہار کے مسلمانوں نے جماعت کو ’ ووٹ کٹوا ‘ کا خطاب دے ڈالا اور خود صدر جماعت نے شکست کے بعد ایک چیانل پر اس بات کا اعتراف کیا کہ کئی لوگوں نے ان کے بہار کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان کی جماعت نے غلط وقت پر یہ فیصلہ کیا ہے ۔ جماعت کی جانب سے سیاسی تجزیہ نگاروں اور مخالف بی جے پی جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کے ایجنٹ کے الزام کی یہ کہتے ہوئے تردید کی جارہی تھی کہ 6 نشستوں پر مقابلہ سے کیا فرق پڑیگا جب کہ سیاسی تجزیہ نگار یہ دعویٰ کررہے تھے کہ 6 نشستوں پر جماعت کا مقابلہ اکثریتی ووٹ کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور پورے بہار میں اکثریتی ووٹ متحد ہوتا چلا جائے گا ۔ لیکن عظیم اتحاد کے قائدین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازشوں کے خلاف جو حکمت عملی تیار کی ۔ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جو کوشش کی جارہی تھی اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہونے لگی تھی لیکن عوام میں جو شعور بیدار ہوا اس کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت یا قائد کے بس کی بات نہیں ہے ۔ عوام نے مجلسی قائدین پر یہ الزام تک عائد کردیا کہ وہ جو ٹی وی چینل پر مباحث میں حصہ لے رہے ہیں وہ بھی اسپانسر کردہ ہیں ان الزامات کے درمیان مجلس کے 6 امیدواروں کے علاوہ این ڈی اے کی شکست کے بعد بہار میں یہ نعرہ لگایا جارہا ہے کہ ’’ بہار میں باہری نہیں چاہئے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT