Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی اقامتی اسکولس میں اساتذہ کے تقررات ، اقلیتی اقامتی اسکولس ندارد

بی سی اقامتی اسکولس میں اساتذہ کے تقررات ، اقلیتی اقامتی اسکولس ندارد

اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک ، خواجہ فخر الدین تلنگانہ اقلیت کانگریس کا بیان
حیدرآباد ۔ 7 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ قائم ہونے سے قبل بی سی اقامتی اسکولس میں حکومت نے 1593 ٹیچرس کے تقررات کی منظوری دے دی ہے جب کہ قائم شدہ اقلیتی اقامتی 71 اسکولس کو نظر انداز کرتے ہوئے ریٹائرڈ ٹیچرس اور کنٹراکٹ پر اساتذہ و دیگر عملے کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ سال 2016-17 کے دوران تلنگانہ حکومت نے ریاست میں 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں جس میں 8 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ حکومت نے ان اسکولس میں سرکاری تدریسی و غیر تدریسی عملہ کا تقرر نہیں کیا ہے بلکہ ریٹائرڈ ٹیچرس اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کنٹراکٹ پر خدمات حاصل کی گئی اور غیر تدریسی عملہ بھی کنٹراکٹ پر خدمات انجام دے رہا ہے ۔ ساتھ ہی حکومت نے آئندہ سال 2017-18 کے تعلیمی سال کے دوران تلنگانہ کے تمام 119 اسمبلی حلقوں میں 119 بی سی اقامتی اسکولس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ بھی قابل ستائش فیصلہ ہے ۔ سماج کے تمام طبقات کو حکومت کے فائدے ملنے چاہئے ۔ مگر نا انصافی اور سوتیلا سلوک کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے ۔ جو اسکولس ابھی قائم نہیں ہوئے ہیں ان اسکولس میں بچوں کو پڑھانے کے لیے 1593 ٹیچرس کا تقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کو محکمہ فینانس نے منظوری دے دی ہے ۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے بی سی اقامتی اسکولس میں سرکاری ملازمین کے تقررات کیے جارہے ہیں جس میں پرنسپلس ، ٹیچرس ، پی ای ٹی ٹیچرس ، لائبریرین ، آرٹ ، ڈرافٹ ، اور میوزک ٹیچرس کے تقررات کیے جارہے ہیں ۔ ساتھ میں جونیر اسسٹنٹ کی جائیدادیں بھی شامل ہیں ۔ لیکن اقلیتی اقامتی اسکولس کو اس معاملے میں یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ صرف اقلیت ہونے کی وجہ سے انہیں فراموش کیا جارہا ہے ۔ حکومت اس کی وضاحت کریں ۔ دسہرہ کے موقع چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنے فارم ہاوز پر پارٹی کے اقلیتوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد آئندہ ڈھائی سال تک 500 کردینے کا وعدہ کیا تھا ۔ دو ماہ قبل کابینہ اجلاس میں مزید 89 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرنے کی منظوری دی گئی ۔ جس سے ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد 160 ہورہی تھی ۔ تاہم اچانک 40 اسکولس کی تعداد گھٹا دینے کا فیصلہ کرکے اس کی تعداد 120 تک محدود کردی گئی ۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اقلیتی اور بی سی طبقات کے اسکولس کی تعداد مساوی ہے جب کہ اقلیتی اقامتی اسکولس میں تعلیم کا آغاز ہوگیا ہے ۔ بی سی طبقات کے اسکولس قائم نہیں ہوئے ۔ باوجود اس کے ان اسکولس کے لیے 1593 اساتذہ تقرر کرنے کی منظوری دی گئی اور اقلیتی اقامتی اسکولس میں سرکاری ملازمین کی کوئی منظوری نہیں دی گئی ۔ اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے کانگریس خامیوں کو پیش کررہی ہے تو کانگریس پر ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے اور حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT