Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن سے تحفظات کے حق میں لاکھوں افراد کی نمائندگی

بی سی کمیشن سے تحفظات کے حق میں لاکھوں افراد کی نمائندگی

مخالفت میں بھی نمائندگیاں وصول ، آج سماعت کا آخری دن ، چیرمین بی ایس راملو

حیدرآباد۔18ڈسمبر(سیاست نیوز)چیرمین بی سی کمیشن بی ایس راملو نے کہاکہ معاشی طور پر پسماندگی کاشکار مسلمانوں کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے تشکیل دی گئی سدھیر کمیٹی کی تجویز کے مطابق 9سے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے نمائندگیوں کا آغاز کیاگیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 5ڈسمبر کو بی سی کمیشن کا ایک اجلاس منعقد کیاگیا جس میں یہ فیصلہ لیاگیا ہے مسلم تحفظات کے ضمن میں نمائندگیوں کے لئے چار روزہ اجلاس منعقد کریگا۔ انہوں نے کہاکہ 14ڈسمبر سے کمیشن نے مسلم تحفظات کے ضمن میںسنوائی کا سلسلہ شروع کیا اور17ڈسمبر نمائندگی کے لئے آخری تاریخ مقررکی گئی تھی مگر اس دوران مختلف تنظیموں کی جانب سے کمیشن کی جانب سے کی جارہی سنوائی کی تاریخ میںتوسیع پر اصرار کیاگیا جس میں مزیددوروز کے لئے تاریخ میںتوسیع کی گئی ۔ آج یہاں سنوائی کے پانچویں روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمن کمیشن بی ایس راملو بتایا کہ19ڈسمبر تک کمیشن میں نمائندگیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔بی ایس راملو نے مزیدکہاکہ اب تک تیرہ ہزار سے زائد نمائندگیاں کی گئی ہیں جن میںاکثریت مسلمانو ںکو بارہ فیصد تحفظات کی حمایت میںہیں۔انہوںنے کہاکہ چند ایک نمائندگیاں مسلمانو ں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے دیگر پسماندہ طبقات کو دئے جانے والے تحفظات کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کئے بغیرکام کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اور کچھ نمائندگیوں میں مسلم تحفظات کی یکسر مخالفت بھی کی گئی ہے ۔بی ایس راملو نے کہاکہ مسلم تحفظات کی مخالفت میں ہندوتوا تنظیمیں پیش پیش رہی ہیں۔ چیرمین کمیشن بی ایس راملو نے کہاکہ ریاست کے تمام اضلاع سے نمائندگیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کئی لوگ بسوں کے ذریعہ حیدرآباد آئے او رکمیشن سے رجو ع ہوکر نمائندگی کی ہے ۔ چیرمن راملو نے کہاکہ ایک نمائندگی کے پیچھے کم سے کم دس لوگ اور نمائندگی سے وابستہ ہزاروں لوگ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح لاکھوں لوگوں کی نمائندگی اب تک کمیشن سے کی جاچکی ہے ۔انہو ں نے کہاکہ آج کانگریس پارٹی کے وفد نے کمیشن سے رجوع ہوکر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے نمائندگی کے دوران عدالت میں مسلم تحفظات کو چیالنج کرنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس سے بچنے کی بھی تجاویز کمیشن کو دی ۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ خواتین بھی کافی تعدادمیں کمیشن سے رجوع ہوکر مسلم تحفظات کی ضروریات پر مشتمل یادواشت پیش کررہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ مختلف تنظیموں کی جانب سے پیش کی گئی یادواشتوں سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ریاست کی آبادی کا بڑا حصہ مسلم تحفظات کی حمایت میں ہے مگر وہ نہیںچاہتے کہ دیگر پسماندہ طبقات کو دئے جانے والے تحفظات کے تناسب میںکمی لائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ کمیشن اس بات پر بھی غور کررہا ہے کہ انے والے دنوں میں کمیشن کے دیگر اراکین سے مشاورت کے بعد اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے ایک رپورٹ تیا رکی جائے جس کے لئے اب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیںکیاگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT