Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / بی سی کمیشن سے نمائندگیاں

بی سی کمیشن سے نمائندگیاں

مسلم تحفظات کے حصول کے لئے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی کوششیں اور تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقات سے کی گئی نمائندگیوں سے یہ امید قوی ہوگئی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کو ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے گی۔ کمیشن کے سربراہوں نے بھی مسلمانوں کی پرجوش نمائندگیوں کو دیکھ کر ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کا یقین دلایا ہے۔ کمیشن نے اپنی پانچ روزہ سماعت کے دوران عوامی انفرادی، اجتماعی، ادارہ جاتی اور تنظیمی نمائندگیوں کو پرسکون طور پر وصول کیا۔ مساجد عیدگاہ کمیٹیوں، مسلم اسوسی ایشنوں، اسلامک اسنوزنٹس اسوسی ایشنوں ویلفیر سوسائٹیز کی جانب سے کی گئی نمائندگیوں کے علاوہ فرداً فرداً شہریوں نے بھی مسلم تحفظات کے لئے اپنی نمائندگی کو حق اور فریضہ سمجھ کر کمیشن کے سامنے اپنی حاضری کو یقینی بنایا۔ اضلاع کے مسلمانوں اور مختلف تنظیموں کے جذبہ کی بھی ستائش کی جاتی ہے۔ وقت کے فاصلے پر کھڑے ہوکر ماضی میں رونما ہونے والے واقعات ان کے ذہنوں میں ہیں اسی لئے تحفظات کے لئے حکومت کی پالیسی اور وعدہ کو پورا کرانے کی کوششوں کو اولین فریضہ سمجھا۔ بے غرض اور بے لوث جذبہ کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے۔ بحیثیت مسلمان بحیثیت تلنگانہ شہری اپنی نازک کیفیت کا اندازہ کرنا ضروری تھا۔ ان کی پسماندگی کے ساتھ لاتعلقی اور بے حسی کا رویہ رکھنے والی حکومتوں نے اب تک خطرناک کیفیت سے دوچار کردیا ہے۔ اس کو تبدیل کرنا ضروری سمجھا جارہا ہے تو ایک مردہ معاشرہ میں ڈھل جانے سے گریز کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لئے عملی میدان میں قدم رکھنا ایک مثبت تبدیلی ہے۔ عوام نے محسوس کرلیا ہے کہ سیاستدانوں پر تکیہ کرنے سے حصول مقصد غیر یقینی ہوتا رہا ہے۔ قوم کا مستقبل بنانے اور بگاڑنے کا ذمہ دار سیاسی قوت کو سمجھا جائے تو اس کا ثبوت بی سی کمیشن سے کی جانے والی سیاسی قوت کی صفر نمائندگی سے مل سکتا ہے۔ تلنگانہ کے سیاسی منظرنامہ پر خود کو مسلمانوں کی بڑی پاور پارٹی سمجھنے والی جماعت اپنے رائے دہندوں کے لئے جوابدہ بن چکی ہے۔ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تلنگانہ کے مسلمانوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی حالت کو جب تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کی بہتری کے لئے موثر  کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ کی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 12.68 فیصد (44.64 ) لاکھ ہے۔ تحفظات نہ ہونے سے ہر شعبہ میں وہ پیچھے ہیں۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کو ہر شعبہ میں ترقی دینے کے لئے ماضی کی کمیٹیوں کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاتا تو کئی مسائل کی یکسوئی ممکن تھی۔ سچر کمیٹی 2006ء نے مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں پہلے ہی حکومت کو تفصیلی طو رپر واقف کردیا ہے۔ مسلمانوں کی ہر شعبہ میں یکساں نمائندگی اور یکساں مواقع حاصل ہونے کی راہ ہموار کی جاتی تو کئی شکایات دور ہوجاتیں۔ ہر دور میں حکومت نے مسلمانوں کو ’’لڈو‘‘ کھلانے کا وعدہ کرکے للی پپ دے کر گزر گئی۔ کانگریس پارٹی ہو یا کوئی اور جماعت ہر ایک نے ایک دوسرے کے سیاسی و نفسیاتی کزن ہونے کا ہی ثبوت دیا ہے۔ مسلمانوں کی ترقی اور ان کے مستقبل کے بارے میں سچی فکر کرنے کا دعویٰ رکھنے والے سیاستدانوں نے تحفظات کے معاملہ میں ہمیشہ ووٹ کے ہی مزے حاصل کئے۔ اس کوتاہی کے باوجود مسلمانوں نے اپنے ووٹ کی طاقت کا احتساب نہیں کیا اور نہ ہی تجربات و مشاہدات سے سبق حاصل کیا۔ اب جبکہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تحفظات دیئے جانے کا وعدہ کیا گیا تو اس وعدہ کی تکمیل کے لئے حکومت پر دبائو بنائے رکھنا ضروری تھا۔ اس تحریک کو مضبوط بنانے میں قارئین سیاست نے اہم رول ادا کیا۔ گویا یہی ایک سچی اور حقیقی کوشش تھی کہ بی سی کمیشن کے سامنے مسلمانوں نے انفرادی، اجتماعی اور تنظیمی طور پر نمائندگی کی ہے۔ اب توقع کی جاتی ہے کہ ان لاکھوں نمائندگیوں کا جائزہ لینے کے بعد بی سی کمیشن دیانتدار طریقہ سے رپورٹ پیش کرے گی اور اس رپورٹ کی اساس پر حکومت اپنے وعدہ کی تکمیل کی جانب موثر قدم اٹھائے گی۔ تحفظات کے لئے بنائے جانے والے قانون اور عدالتوں کے درمیان تصادم کی گنجائش پیدا ہونے والی غلطی کی گئی تو پھر مسلمانوں کے تحفظات کا حصول سیاسی فریب کاری کا ایک اور تماشہ ہوجائے گا۔ حکومت تلنگانہ کو تحفظات کے سلسلہ میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے حقائقء کو نقاب پہناکر فیصلہ کرے گی تو رکاوٹیں بہرحال کھڑی رہیں گی۔ تاملناڈو کی خطوط پر 69 فیصد تحفظات دینے کا عزم رکھنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ کسی غلطی کے بغیر مسلمانوں کے حق میں تحفظات کا موثر قدم اٹھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT