Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کا چونکا دینے والا انکشاف

بی سی کمیشن کا چونکا دینے والا انکشاف

58فیصد مسلم خاندان کو کسی بھی فلاحی اسکیم سے فائدہ نہیں ہوا

حیدرآباد۔/19 اپریل، ( سیاست نیوز) بی سی کمیشن نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 58 فیصد مسلم خاندان ایسے ہیں جنہیں حکومت کی ایک بھی فلاحی اسکیم سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اراضیات کی تقسیم اور مکانات کی تقسیم میں بھی مسلمانوں سے ناانصافی ہوئی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے مسلم تحفظات بی سی ای میں توسیع کرنے کیلئے راملو کی قیادت میں بی سی کمیشن تشکیل دیا ہے، بی سی کمیشن نے حیدرآباد میں ایک ہفتہ تک سماعت کا اہتمام کرنے کے بعد ریاست کے تمام اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی ، سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ جس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات سے کئی مسلم خاندان محروم ہیں۔ تلنگانہ میں 58فیصد مسلم خاندان کو حکومت کی ایک بھی فلاحی اسکیم سے فائدہ نہیں ہوا ہے جبکہ ایس سی طبقات کے 21فیصد ایس ٹی طبقات کے 24فیصد اور بی سی طبقات کے 20فیصد خاندانوں کو حکومت کی فلاحی اسکیمات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ بغیر سود کے قرض اسکیمات میں صرف 28فیصد مسلم خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے جبکہ ایس سی طبقات کے خاندانوں کو 57فیصد، ایس ٹی طبقات کے خاندانوں کو 47  فیصد، بی سی طبقات کے 61فیصد خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اراضیات تقسیم کی اسکیمات میں مسلمانوں سے بہت بڑی ناانصافی ہوئی ہے۔ صرف 2.4 فیصد مسلم خاندانوں کو مفت اراضی ملی ہے جبکہ ایس سی طبقات میں 3.9 فیصد خاندان، ایس ٹی طبقات میں 4.1 فیصد خاندان، بی سی طبقات میں 3.1 فیصد خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے۔
ریاست تلنگانہ میں صرف 37فیصد مسلمانوں کے پاس پکے مکانات ہیں، 56.6 فیصد مسلم خاندانوں کے پاس نیم پکے مکانات ہیں۔ طبی امداد کے معاملہ میں 44فیصد مسلم خاندان سرکاری ہاسپٹلس میں اپنا علاج کراتے ہیں جبکہ 55فیصد ایس سی اور 51 فیصد ایس ٹی طبقات سرکاری ہاسپٹلس کا رُخ کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT