Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کی تشکیل میں چیف منسٹر کا ٹال مٹول رویہ

بی سی کمیشن کی تشکیل میں چیف منسٹر کا ٹال مٹول رویہ

ٹی آر ایس حکومت اپنے وعدہ کو نبھانے تیار نہیں : شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا ۔ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ کے سی آر نے اقتدار حاصل کرنے کے چار ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سدھیر کمیشن تشکیل دیا تھا ۔ وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے چیف منسٹر نے کابینہ کے اجلاس میں جائزہ لینے اور اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کا اعلان کرتے ہوئے پھر ایکبار مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ یہ بات سب جانتے ہیں بی جے پی مسلم تحفظات کے خلاف ہے ۔ کانگریس کی جانب سے مسلمانوں کو دئیے گئے تحفظات کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مخالفت کی ہے ۔ بی جے پی کے ایجنڈے میں مسلم تحفظات نہیں ہے پھر بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے قرار داد مرکز کو روانہ کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات میں توسیع دیتے ہوئے 12 فیصد کرنے کے لیے ابھی تک حکمران ٹی آر ایس کے تمام قائدین نے سدھیر کمیشن کا بہانہ بناتے رہے جب کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کردی تو مرکز پر دباؤ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ریاست کے مسلمان چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس کے بدلتے ہوئے تیور کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت انتخابی منشور سے ریاست کے مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو نبھانے تیار نہیں ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ اگر حکومت مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کرے گی تو مسلمان بھی حکومت کو سبق سکھائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT