Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کے بغیر تحفظات کا حصول غیر یقینی : زاہد علی خان

بی سی کمیشن کے بغیر تحفظات کا حصول غیر یقینی : زاہد علی خان

حکومت اپنا وعدہ پورا کرے ‘ زندہ دلان کی تقریب سے ایڈیٹر سیاست کا خطاب ‘ ٹی آر ایس تحفظات دینے کا وعدہ پورا کرے گی :  ڈپٹی چیف منسٹر
حیدرآباد ۔ 11؍ اکٹوبر ( دکن  نیوز)  جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے لئے جب جدوجہد کی جارہی تو اُس وقت ارباب اقتدار نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنایاجائیگا لیکن اقتدار کے اتنے دن گذر جانے کے باوجود حکومت اپنے اس وعدہ پر کوئی عمل آوری نہ کی جس کی وجہ سے سیاست نے مسلسل ایک ماہ سے اس بات کی آواز کو بلند کر دیا ہے ۔ تحفظات کا وعدہ جو عوام سے کیاگیا اُسے پورا کر دکھائیں ۔ اور بڑے آرزو و ارمانوں کو لیئے ریاست تلنگانہ کی عوام بالخصوص مسلمانوں  نے ٹی آر ایس کو اقتدار حوالے کیا ہے اور خود ہمارے وزیر اعلیٰ مسلمانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور وہ ایک ہمدرد سیکولر ہیں اور ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تعلیمی ‘معاشی روزگار کو مضبوط و مستخکم کرنے کے لئے ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ کام انجام دیئے گئے ہیں جس کی نظیر تلنگانہ کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ٹی آر ایس کو اقتدار میں آئے 15 ماہ کا عرصہ گذر چکا تحفظات کی فراہمی کے ضمن میں ان کی کوئی توجہ نظر نہیں آتی ۔ جناب زاہد علی خان کل شام زندہ دلان حیدرآباد کی سالانہ تقاریب کے دوسرے روز کل ہند مزاحیہ مشاعرہ میں موجود ایک بڑے اجتماع سے صدارتی خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی موجودگی میں مسلمانوں کے لئے تحفظات کی فراہمی کے ضمن میں توجہ دلائی تو للت کلاتھورانم تالیوں سے گونج اُٹھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ صرف اس پر ہے کہ ان تحفظات کا چیف منسٹر نے خود وعدہ کیا تھا اس لئے اس کی عمل آوری کے لئے بے حد ضروری  ہے کہ اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور قانونی طور پر تحفظات کو حاصل کرنے کے لئے سوائے بی سی کمیشن کے کسی اور سفارش کے ذریعہ مسلمانوں کو تحفظات حاصل نہ ہوسکیں گے ۔ انہوں نے چیف منسٹر سے کہا کہ وہ فوری بی سی کمیشن قائم کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔9 ویں شیڈول سے توقعات کم ہیں جب تک بی سی کمیشن قائم نہیں کیا جائیگا تحفظات غیر یقینی ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں ہمارا توکل اس خالق دو جہاں پر ہے جس سے کسی بھی صورتحال میں رزق کے دروازے کھول کر بتایاجس کی وجہ سے 70 کے دہے میں مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد خلیجی ممالک اور مغربی ممالک پہنچ کر روزگار حاصل کی اور وہاں شب و روز محنت کرتے ہوئے اس ملک و ریاست کا نام روشن کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہے ۔ انہوں نے طنزیہ طور پر یہ بھی کہا کہ وہ مسلمانوں کے نام پر کسی اور کو اپنا ہمنوا بنالیتے ہیں ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر نے زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی اس تحفظات کے ضمن میں مدلل تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا جو وعدہ کیا ہے اسے ضرور پورا کریں گے ۔ اس لئے اس میں تاخیر ہو رہی ہے کہ مرکز میں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر تحفظات کے ضمن میں کھل کر کہنے کے بجائے ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ تعلیمی ‘ معاشی و روزگار کے موقف کو مضبوط کرنے کا ذکر کرتے ہوئے شادی مبارک اسکیم اور نوجوانوں کو روزگار کے علاوہ تعلیم کے لئے بیرونی ممالک بھیجنے کی تفصیل پیش کی اور کہا کہ اب تک حکومت نے ایک لاکھ شادیوں میں مدد کی اور اس موقع پر انہیں 51 ہزار روپئے دیئے گے ۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں ہندو مسلم اتحاد کے ذریعہ زور پیدا ہوا  اور اس ریاست کے وجود میں آنے کے بعد گنگا جمنا تہذیب کو مزید فروغ دیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ گنیش و بونال تہوار میں امن و امان کی فضاء کو استحکام بخشنے کے لئے کے سی آر نے اپنے ماتحتوں کو سخت احکام دیئے ہیں یہی نہیں بلکہ عید الاضحی سے قبل اضلاع اور دیہاتوں سے بڑے جانور کی منتقلی میں پولیس بندوبست کا نظم کیا گیا اور اس بات کی کوشش بھرپور طور پر کی کی گئی کہ شہر کے اطراف و اکناف جانور نہ پکڑے جائیں ۔  انہوں نے کہاکہ حکومت حجاج کرام کی واپسی کے لئے موثر انتظام کی ہے ۔ الحمد اللہ تمام حاجی مدینہ منورہ و مکہ معظمہ میں بخیر و خوبی کے ساتھ عبادت میں مشغول ہیں۔ جن عمارتوں میں یہ قیام کئے ہوئے ہیں اُن کی تمام سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں ۔ زندہ دلان حیدرآباد کے اس مشاعرے میں محکمہ تہذیبی و سیر و سیاحت نے بھی تعاون کیا ۔ سب سے پہلے نجیب احمد نجیب کو آواز دی گئی ۔ انہوں نے مخصوص انداز میں مزاحیہ اشعار سنائے اُس کے بعد بے دھڑک مدراسی ‘ تمیز احمد ‘ نشترامروہی ‘ مصطفی علی بیگ ‘ زینت احسان قریشی‘ ‘ چچاپالموری(محبوب نگر)اقبال شانہ ( بودھن) مصطفی علی بیگ ‘ فرید سحر ‘ سردار اثر ‘ وحید پاشاہ قادری‘ ڈاکٹر معین  امر بمبو ‘  اقبال شانہ نے مزاحیہ کلام پیش کیا جس پر سامعین قہقہہ زار ہوگئے ۔ ممبئی سے آئی ہوئی شاعرہ زینت احسان قریشی جب اپنا کلام سنا رہی تھی تو بوندا باندی کا سلسلہ شروع ہوا اور سامعین اٹھنے لگے جس پرفیروز رشید نے انہیں روکا لیکن  بارش کی تیز رفتاری  سے للت کلاتھورانم دیکھتے ہی دیکھتے خالی نظر آیا ۔ شہر کے دور دراز مقامات سے مرد و خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد مشاعرہ میں دیکھی گئی سنیل کمار تنگ‘ شاہد عدیلی ‘ فیروز رشید کلام نہ سنا سکے ۔ اس مشاعرہ میں ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی بھی موجود تھے ۔ غلام احمد نورانی معتمد عمومی نے استقبال کیا ۔ شاہد عدیلی کنوینر کے فرائض انجام دیئے ۔
شعراء کو طنزیہ شاعری کی جانب دھیان دینے جناب زاہد علی خان کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 11؍اکٹوبر (دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے دوران تقریر شعراء پر زور دیا کہ وہ اپنی شاعری میں سیر و تفریحی و مزاحیہ پہلو کو رکھنے کے بجائے طنزیہ شاعری کی طرف دھیان دیں اس لئے کہ دیکھا گیا کہ ہندی زبان کے شعراء اپنے شاعری میں زیادہ تر طنز کو اہمیت دیتے ہیں اس لئے کہ ان دنوں جو موجودہ سماج ہے ان میں انتی زیادہ برائیاں جنم پا چکی ہیں ان سے ان کو دور کرنے کے لئے طنز ‘ تیر و نشتر ہی بڑی اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں جس کے لئے اُردو  زبان کے شعراء کا اس طرف دھیان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ میں آج کئی لڑکیاں جہیز و لین دین اور مانگ کے ہونے کے بناء بن بیاہی بھیٹی ہوئی ہے ۔ اس لئے سماج و معاشرہ میں شعور کو بیدار کرنے اور جہیز کی لعنت کے خاتمہ اور شادیوں میں اسراف سے بچنے کے لئے شعراء کو بھی آگے آنا بے حد ضروری ہے ۔ آج یہ عملی اقدام روزنامہ سیاست دوبہ دو ملاقات پروگرام کے ذریعہ شہر ہی نہیں بلکہ تلنگانہ کے اضلاع میں کر رہا ہے  جہاں پر آسانی سے شادی کے کرنے اور رشتوں کے انتخاب میں والدین کی مدد کی جاتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خان کل ہند مزاحیہ مشاعرہ میں کیا جو للت کلاتھورانم باغ عامہ (نامپلی) میں  منعقد ہوا ۔ جس کا اہتمام زندہ  دلان حیدراآباد نے کیا ۔

TOPPOPULARRECENT