Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بی سی کمیشن کے بغیر 12فیصد تحفظات کیسے؟

بی سی کمیشن کے بغیر 12فیصد تحفظات کیسے؟

حیدرآباد۔18نومبر ( سیاست نیوز) جمعیت العلماء کے صدر و سابق رکن قانون سازکونسل حافظ پیر شبیر احمد نے ٹی آر ایس حکومت سے مسلمانوں سے کئے گئے 12فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن تشکیل دینے کے بجائے سدھیر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا اور ورنگل کے مسلمانوں سے وزراء کے علاوہ ان سے رجوع ہونے والے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی ‘ ارکان پارلیمنٹ سے مسلم تحفظات کے بارے میں وضاحت طلب کرنے کا مشورہ دیا ۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور کے ذریعہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے اقتدار حاصل ہونے کے چار ماہ بعد وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا جبکہ 16ماہ گذر جانے کے باوجود مسلمانوں سے کئے گئے وعدے پر عمل آوری کیلئے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے سدھیر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے وقت ضائع کیا جارہا ہے ۔ سدھیر کمیٹی کی کوئی قانونی اور دستوری حیثیت نہے ہے اور نہ ہی اس کمیٹی کو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرنے کا کوئی حق ہے ۔ حلقہ لوک سبھا ورنگل کے ضمنی انتخابات کے پیش نظر تمام وزراء وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کررہے ہیں مگر مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے بی سی کمیشن کی تشکیل کا کوئی اعلان نہیں کررہے ہیں ۔ وعدے کے مطابق شہر میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بے گھر افراد میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس تقسیم کیا ہے جو قابل ستائش ہے جس کا جمعیت العلماء خیرمقدم کرتی ہے ۔ تاہم چیف منسٹر نے مسلمانوں سے کئے گئے 12فیصد مسلم تحفظات پر ردعمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا ہے جس سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آلیر میں پانچ زیر دریافت مسلم قیدیوں کا بے رحمانہ قتل کیا گیا ہے اس کی برسرخدمات ہائیکورٹ جج یا سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے تاہم ایس آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے انکاؤنٹر کے حقائق کو منظر عام پر آنے سے روک رہی ہے ‘ کیونکہ ایک پولیس ٹیم دوسرے ملازمین کے خلاف رپورٹ دینے کی امید نہیں ہے کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی ڈپارٹمنٹ سے ہے اور رہاستی حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ وہ ورنگل کے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 12فیصد مسلم تحفظات کے بارے میں وزراء کے علاوہ ٹی آر ایس کے عوامی منتخبہ نمائندوں سے وضاحت طلب کریں ۔

TOPPOPULARRECENT