Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / بے روزگاری کے دَلدل میں پھنسا پورا ہندوستان

بے روزگاری کے دَلدل میں پھنسا پورا ہندوستان

صابر علی سیوانی
ہندوستان کا فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے ۔ شہروں میں تو ذرائع آمدنی کی کمی نہیں ہے ، لیکن دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ اس لئے پائی جاتی ہے کہ وہاں روزگار کے وسائل محدود ہیں ۔ لیکن اگر بے روزگاری کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس وقت ملک میں کم از کم 12 کروڑ افراد بے روزگار ہیں ۔ حکومت اس بنیادی مسئلے پر وعدہ اور یقین دہانی کے ذریعہ ہندوستانیوں کو ضرور خوش کرتی رہتی ہے ، لیکن عملی طور پر اس کی توجہ اس سب سے اہم اور سب سے بڑے مسئلے پر مرکوز نہیں ہورہی ہے ۔ بے روزگاری صرف اس لئے نہیں ہے کہ لوگ کام کرنا نہیں چاہتے ہیں ، بلکہ بے روزگاری اس لئے ہے کہ لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہیں ۔ این ڈی اے جب اقتدار میں آئی تھی تو اس نے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن اب جبکہ اس حکومت کے دو سال ہونے والے ہیں ، ان دو برسوں میں ایسی کوئی عملی تدبیر حکومت کے ذریعہ نہیں کی گئی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ ہنر مندوں اور کاریگروں کو تو کسی نہ کسی طرح سے چھوٹے موٹے کام مل جاتے ہیں ، جس سے ان کی روزی روٹی کا سامان فراہم ہوجاتا ہے ، لیکن سب سے بڑا مسئلہ ان نوجوانوں کا ہے جن کے پاس ڈگریاں تو ضرور ہیں ، لیکن یہ ڈگریاں انھیں روزگار فراہم نہیں کرتی ہیں ، کیونکہ ان کی ڈگریاں غیر تکنیکی ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ ڈگری یافتہ ہونے کے باوجود بھی روزگار کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے فراہم ہوں ، اس کی فکر حکومت کو کرنی چاہئے ۔ کیونکہ بے روزگاری بہت سی لعنتوں کو جنم دیتی ہے ۔ ان میں سے ایک لعنت جرائم کا  پیشہ ہے ۔ ایسے نوجوان جو بے روزگار ہیں انھیں کسی نہ کسی طرح سے اپنی مصروفیات جاری رکھنے کے لئے کسی نہ کسی کام میں لگنا پڑتا ہے اور کچھ سماج دشمن عناصر ایسے بھی ہیں ، جو انھیں غلط راہ پر لگادیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو کر سماج مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔
آیئے ایک نظر ڈالتے ہیں ملک میں بے روزگاری کی تباہ کن تصویر پر تاکہ اندازہ ہوسکے کہ حکومت اس مسئلے سے لاعلم ہے ۔ حکومت کی توجہ پر مسئلہ کس قدر سنگین شکل اختیار کرچکا ہے ۔ لیکن آج بیس پچیس سال کا ہر چوتھا ہندوستانی نوجوان بے روزگار ہے ۔ یہ ایک ایسا خوفناک اعداد و شمار ہے ، جس میں خود بخود تمام دوسرے ڈرانے والے اعداد و شمار آتے ہیں ۔ سال 2011 کی مردم شماری سے حاصل اس اعداد و شمار کے مطابق ملک میں موجود کل مین پاور اس میں سے 12 کروڑ لوگ یا 24 کروڑ ہاتھوں کے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہے ۔ یہ لوگ یا تو اپنے خاندان کے دوسرے کمانے والے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں یا ایسے کام میں زبردستی لگے ہوئے ہیں جہاں حقیقت میں ان کی ضرورت نہیں ہے ۔
بے روزگاری کی سب سے زیادہ مار 20-24 سال کی عمر گروپ والے نوجوانوں پر پڑی ہے ۔ اس عمر گروپ کی تقریباً 23 فیصد آبادی کے پاس کوئی بھی کام نہیں ہے ۔ اس کے بعد 15-19 اور 25-29 سال کی عمر والے لوگ بے روزگار ہیں ، جبکہ 25-29 سال کی عمر والے 18 فیصد ہندوستانی بے روزگار ہیں ، جبکہ 25-29 سال کی عمر والے 17.4 فیصد نوجوانوں کے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہے ۔ یہ خطرناک صورت حال اس لئے بھی ہے کیونکہ دیکھا جائے تو اس طرح 15-29 سال کا ہر چوتھا نوجوان بے روزگار ہے ۔ ان اعداد و شمار کے کئی مفہوم نکالے جاسکتے ہیں ۔ مثلاً کرائم ریکارڈ بیورو آف انڈیا کے مطابق ملک میں خطرناک ڈھنگ سے بڑھ رہے جرائم کی رفتار میں سب سے بڑا رول اسی 15 سے 29 سال کے عمر والوں کا ہے ۔ تو کیا ان بڑھ رہے جرائم کی وجہ ملک میں بڑھتی بے روزگاری ہے ؟ بھلے سماجی ماہرین اس کی کئی دوسری وجہیں بھی گناتے ہیں ، لیکن ایک بڑی وجہ تو یہ ہے ہی ۔ یہ بات اس لئے بھی درست ہے کہ کیونکہ اس عمر گروپ کے ذریعہ کئے جانے والے جرائم میں 60 فیصد جرائم ، معاشی جرائم ہوتے ہیں ۔ یہی نہیں 70 فیصد سے زیادہ ایسے مجرمین نے یا تو پوچھ تاچھ میں اعتراف کیا ہے یا ان کے جرائم کی کیس ہسٹری سے یہ بات اجاگر ہوئی ہے کہ ان کے اس میدان میں قدم بڑھانے کی وجہ ان کی بے روزگاری یا پھر ان کی غربت ہے ۔
اس قابل افسوس ماحول میں ایک ڈرانے والی بات اور بھی ہے کہ ناخواندہ نوجوانوں کے مقابلے پڑھے لکھے نوجوان کہیں زیادہ بے روزگار ہیں ۔ اس زمرے میں زیادہ پڑھے لکھے نوجوان کم پڑھے لکھے نوجوانوں سے زیادہ بے روزگار ہیں ۔ مثال کے طور پر سب سے زیادہ بے روزگار ہیں تکنیکی ڈگری یا ڈپلوما ہولڈرس ، جبکہ ملک میں یہ عام تصور ہے کہ کوئی تکنیکی کورس کرلیا جائے تو کوئی نہ کوئی کام مل ہی جاتا ہے ۔ مگر بے روزگاری کا منظر نامہ اس کی تصدیق نہیں کرتا ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پڑھے لکھے بے روزگاروں کی مجموعی تعداد میں سے 16.9 فیصد ایسے نوجوان بے روزگار تکنیکی ڈگری یا ڈپلومہ ہولڈرس ہی ہیں ، جبکہ میٹریکولیشن یا سکنڈری تک کی پڑھائی کرنے والے 14.5 فیصد نوجوان ہی بے روزگار ہیں ۔ اگر بے روزگاری کے شکار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ 15 فیصد سے زیادہ بے روزگار ایسے ہیں ، جو کم سے کم میٹریکولیشن تک پڑھے لکھے ہیں ۔ ویسے اس تناظر میں ایک gender بحران بھی صاف دکھائی دیتا ہے ۔ دراصل تقریباً 12 کروڑ بے روزگار افراد میں سے مرد بے روزگاروں کی تعداد خواتین بے روزگاروں سے بہت معمولی ہی سہی لیکن زیادہ ہے ۔ جہاں کُل مرد بے روزگاروں کی تعداد تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ہے ، وہیں خواتین بے روزگاروں کی تعداد 5 کروڑ 19 لاکھ کے آس پاس ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کے مقابلے 3 لاکھ خواتین کم بے روزگار ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں روزگار کا ڈھانچہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے ۔ ساتھ ہی روزگار کی دنیا خواتین کے لئے زیادہ فرینڈلی ہوئی ہے ۔ اس میں صرف تکنیکی وجہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ کام کے تئیں خواتین کا زیادہ ذمہ دارانہ رویہ بھی ہے ۔
بے روزگاری کے اس منظر نامے میں کچھ بے ترتیبی یا بھیڑ چال بھی اجاگر ہوئی ہے ۔ ان میں ایک یہ ہے کہ آئی ٹی آئی اور پالی ٹکنیک سے نکلے ڈپلوما ہولڈرس سب سے زیادہ بے روزگار ہیں ۔ اس سے دو بڑی باتیں صاف طور پر سمجھ میں آتی ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ ان اداروں سے نکلے ٹکنیشنس پر صنعتی ادارے بھروسہ نہیں کرتے یا پھر یہ ادارے مانگ سے زیادہ پیداوار کرتے ہیں ۔ ان دونوں باتوں میں سے پہلی بات ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ ایک نہیں تمام ایسی رپورٹس آچکی ہیں کہ آئی ٹی آئی اور پالی ٹکنیک اداروں سے نکلے ڈپلوما ہولڈرس ہنرمندی کے معاملے میں بہت پیچھے رہتے ہیں ۔ کوئی بھی بہتر صنعتی ادارہ انھیں اپنے یہاں نہیں لینا چاہتا ہے ۔
ویسے تو سابق وزیر برائے فروغ وسائل انسانی جے رام رمیش اور انفوسیس کے سابق سربراہ نارائن مورتی یہی الزام آئی ٹی آئی جیسے تکنیکی اداروں پر بھی لگاچکے ہیں  جن کا پوری دنیا میں کافی نام ہے ۔ مورتی اور جے رام رمیش کے مطابق مشکل سے 15-20 فیصد آئی ٹی آئی سے فارغ التحصیل نوجوان واقعی کام کے لائق ہوتے ہیں۔ ایسے میں آئی آئی ٹی سے نکلے ٹکنیشنس کے بارے میں سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنے ہنرمند اور باصلاحیت ہوں گے ؟ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ آئی ٹی آئی سے پلمبنگ کا ڈپلوما لے کر نکلنے والا کوئی پلمبر تب تک کام کے لائق نہیں ہوتا ، جب تک کہ وہ ورک سائٹ پر کم سے کم دوچار نل نہ توڑے ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بے روزگاری کو بڑھانے میں گھٹیا تعلیمی اداروں کا بھی اہم رول ہے اسے اس بات سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک طرف ملک میں جہاں اتنے بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا مسئلہ ہے ، وہیں ٹھیک اسی وقت ہنرمند کاریگروں کا بھی بڑا بھاری مسئلہ ہے ۔ ملک میں تقریباً ہر شعبے کو بڑے پیمانے پر مکمل ٹرینڈ اور مکمل ہنرمند کاریگروں کی ضرورت ہے کیونکہ زیادہ تر شعبے یا تو ان کی کمی سے جوجھ رہے ہیں یا پھر نیم ہنرمند کاریگروں سے کام چلارہے ہیں ۔ اس لئے ملک میں 2 کروڑ 70 لاکھ پڑھے لکھے بے روزگار صرف اس لئے بے روزگار نہیں ہیں کہ ملک میں کام ہی نہیں ہے ۔ یہ تمام اس لئے بے روزگار ہیں کیونکہ کاغذوں پر تو وہ پڑھے لکھے تربیت یافتہ ہیں مگر عملی طور پر وہ کسی کام کے لائق نہیں ہیں ۔
بہرحال وجہ کوئی بھی ہو ، بے روزگاری کو دور کرنے کے لئے قدم تو حکومت کو ہی اٹھانے ہوں گے ۔ حکومت کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ بڑی تعداد میں ہر جگہ موجود ہر قسم کے انسٹی ٹیوٹس صرف کاغذوں پر ہی تکنیکی طور پر ہنرمند کاریگروں کا اضافہ نہ کریں بلکہ انھیں کام کرنے کے لائق بھی بنائیں ۔ ساتھ ہی ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے ایسی تربیت گاہیں فراہم کی جائیں جہاں سے تربیت پا کر وہ روزگار کے مواقع سے استفادہ کرسکیں اور ایک کامیاب شہری بن کر زندگی بسر کرسکیں ۔ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو چھوٹے موٹے ہی سہی روزگار دلائے تاکہ وہ کسی کا محتاج نہ بنیں ، ورنہ یہی نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو کر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ملک کا نقصان کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ خالی انسان یعنی بے کار شخص کے دل میں طرح طرح کے فتور اور وسوسے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور وہ اس میں مبتلا ہوکر اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی نقصان کربیٹھتا ہے ۔ بے روزگاری سے نجات دلانے کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک گیر پیمانے پر ایسے اقدامات کرے تاکہ گھر کے کم از کم ایک فرد کو روزگار کی طمانیت حاصل ہوسکے اور اگر حکومت یہ کام کرتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی تصور کی جائے گی ، لیکن اس زغفرانی سیاسی جماعت کو غریبوں کی فکر کہاں ہے ۔ اسے تو وہ لوگ عزیز ہیں جو ارب پتی ہیں اور جو حکومت کے ساتھ ساتھ اس پارٹی کی مدد کے لئے کروڑوں روپے ہر ماہ دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں کارپوریٹ برادری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT