Tuesday , March 28 2017
Home / شہر کی خبریں / !بے روزگار نوجوانوں کی آج دھرنا چوک پر ریالی

!بے روزگار نوجوانوں کی آج دھرنا چوک پر ریالی

پولیس کی اجازت نہ ہونے کے باوجود ٹی جے اے سی اپنے موقف پر اٹل، پروفیسر کودنڈا رام نظربند
حیدرآباد 21 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی (ٹی جے اے سی) نے آج کہا ہے کہ بے روزگاری کے مسئلہ کو اُجاگر کرنے کے مقصد سے 22 فروری کو پروگرام کے مطابق احتجاج منظم کیا جائے گا۔ حالانکہ پولیس نے اِس کی اجازت نہیں دی ہے۔ ٹی جے اے سی نے ریالی میں حصہ لینے والوں کو نشانہ بنانے کا پولیس پر الزام عائد کیا۔ صدرنشین ٹی جے اے سی کودنڈا رام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کل یہ احتجاجی ریالی منظم ہوگی کیوں کہ یہ ہمارا حق ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ منصوبہ کے مطابق احتجاج منظم کیا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ احتجاج کرنا ہمارا حق ہے اور ہم اِس کا تحفظ کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ٹی جے اے سی کو عدالت میں احتجاجی پروگرام کی اجازت طلب کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست سے دستبردار ہونا پڑا کیوں کہ احتجاج کے لئے حکام نے متبادل مقامات کی تجویز پیش کی وہ موزوں نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم اِس ریالی کے انعقاد کے لئے اصرار نہیں کررہے ہیں لیکن ریاستی حکومت بے روزگاری کے مسئلہ سے نمٹنے کے سلسلہ میں کسی طرح کی بات چیت شروع کرنے تیار نہیں ہے۔ اِس دوران حیدرآباد پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ ریالی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ پولیس عوام بشمول طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کل اندرا پارک کا رُخ نہ کریں یہاں امتناعی احکام نافذ کئے گئے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اِس سے طلبہ کا مستقبل اور روزگار کے امکانات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ پولیس نے کہاکہ تلنگانہ جے اے سی کے عہدیدار جی وینکٹ ریڈی نے یکم فروری کو احتجاجی ریالی کے لئے اجازت دینے کی درخواست دی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ 22 فروری کو دھرنا پارک پر احتجاجی جلسہ منعقد ہوگا جس میں ایک ہزار تا 1500 بے روزگار نوجوان حصہ لیں گے۔ اس کے بعد پولیس نے جب حصہ لینے والے شرکاء کے بارے میں معلومات کی تب وینکٹ ریڈی نے کہاکہ شرکاء کی تعداد اندازہ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس طرح ٹی جے اے سی نے ہائیکورٹ سے رجوع ہوکر ریالی اور جلسہ عام کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کی سماعت کے بعد پولیس کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ پولیس نے جلسہ کے لئے 6 متبادل مقامات کے نام دیئے لیکن درخواست گذار (ٹی جے اے سی) جلسہ کا مقام تبدیل کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئی اور عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دینے پر زور دیا۔ چونکہ درخواست گذار جلسہ کا مقام تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں اِس لئے عدالت نے آج یہ تجویز پیش کی کہ ناگول میں اجلاس منعقد کیا جائے۔ اِس ضمن میں فیصلہ تحریر کرنا بھی عدالت نے شروع کردیا تھا تبھی ٹی جے اے سی نے رٹ درخواست سے دستبرداری اختیار کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام کو پولیس نے تارناکہ میں واقع اُن کی رہائش گاہ پر نظربند کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں مختلف مقامات پر ٹی جے اے سی کے 600 ارکان اور حامیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دھرنا چوک کے اطراف سکیوریٹی سخت کردی گئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT