Friday , October 20 2017
Home / اداریہ / بے سہاراخواتین کو پنشن

بے سہاراخواتین کو پنشن

راہِ وفا سے منزلِ فکر و نظر ہے دور
دیوانگی کو چاہئے اک رہ گذر نئی
بے سہاراخواتین کو پنشن
تلنگانہ کے لوگ انفرادی طور پر حکومت کے محتاج نہیں ہوسکتے۔ کوئی علم والا غور کرے گا تو ٹی آر ایس حکومت کی اچھائیوں اور خرابیوں میں فوری فرق محسوس کرے گا۔ حصول تلنگانہ کے وقت اصول یہ بیان کیا گیا تھا کہ ہر طبقہ کے ساتھ انصاف ہوگا۔ طلباء برادری کو مراعات دیئے جائیں گے۔ کمزوروں کو سہارا فراہم ہوگا۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفطات دے کر انہیں سماج میں اونچا اٹھایا جائے گا مگر ڈھائی سال بعد بھی ایسا کیوں نہیں ہوا۔ ریاستی اسمبلی میں فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر بحث پر زور دیا جارہا ہے مگر چیف منسٹر ہیں کہ اس اسکیم کو جاری رکھنے کا صرف وعدہ ہی کئے جارہے ہیں۔ اس پرانی اسکیم کے ساتھ آنکھ مچولی کرنے والے لیڈر کی زبان سے اب تنہا  رہنے والی غریب خواتین کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپئے وظیفہ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے کہ اس سے ریاست کے غریب خواتین بے سہارا عورتوں کو حکومت سے پنشن ملے گا۔ خواتین کیلئے مالی تحفظ کی پیشکش حقیقی خواتین تک پہنچائی جانی چاہئے۔ حکومت نے بظاہر نیک نیتی سے تمام لیجسلیٹرس سے درخواست کی ہیکہ وہ اسکیم کے تحت اہل خواتین کے نام ہی درج رجسٹر کروائیں۔ انسانی بنیادوں پر اس اسکیم کا اعلان حق بجانب ہے۔ سماج کے تمام طبقات کے کمزور افراد کو حکومت کی سرپرستی میں راحت ملتی ہے تو یہ خوش آئند تبدیلی ہوگی۔ سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کا جب مرحلہ آتا ہے تو یہاں درمیانی آدمیوں کی دھاندلیوں کی شکایات بھی آنا شروع ہوتی ہیں مگر ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوپاتا۔ حکومت نے ایک اچھے مقصد کے ساتھ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کا آغاز کیا تھا۔ ریاستی خزانے سے ہر خاندان کو لڑکی کی شادی کیلئے 51000  روپئے کی مالی اعانت دی جارہی ہے مگر یہ اسکیم دیگر اسکیموں کی طرح درمیانی آدمیوں کیلئے زبردست منافع کا باعث ہونے کی عوامی شکایات میں کمی نہیں آئی۔ حکومت نے ایک اور اسکیم ’’آسرا‘‘ کے نام سے شروع کرنے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ معمر افراد کو پنشن تقسیم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت بلاشبہ ریاست کے معمر افراد اور کمزور و بے سہارا خواتین پر ہمدردی کی نظر رکھتی ہے۔ اس کی کوششوں کو مشکوک ہونے سے روکنے کیلئے یہ بھی ضروری ہیکہ اسکیمات پر ایمانداری سے عمل کیا جائے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کیلئے رقومات کی عدم اجرائی کی شکایات کو صرف کاغذی حد تک محدود رکھ کر حکومت نے ایوان اسمبلی میں اعلان تو کیا ہیکہ وہ رقم جاری کرے گی۔ سالانہ 2000 تا 2500 کروڑ روپئے اس اسکیم کیلئے ضروری ہیں کیونکہ فیس کی وجہ سے ہی کئی اہل طلباء اچھی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ سابق حکومت نے ایک مستحسن قدم اٹھا کر ریاست کے غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ تلنگانہ بننے کے بعد توقع میں اضافہ ہوا تھا کہ نئی ریاست کی نئی حکومت اپنے شہریوں اور طلباء کیلئے پہلے سے زیادہ فراخدلانہ اسکیمات پر عمل کرے گی مگر جب سرکاری خزانہ اس بات کی شکوہ کرنے لگا تو طلباء کو معیاری تعلیم دینے کا عزم سرد پڑ گیا۔ ریاست میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے 370 انجینئرنگ کالجس میں جہاں سے سالانہ 1.50 لاکھ طلباء گریجویٹ ہوکر فارغ ہوتے ہیں لیکن ان کالجس کا انفراسٹرکچر ملاحظہ کیا جائے تو یہ معیار تعلیم کیلئے مناسب نہیں ہوتا۔ حکومت بھی تسلیم کرچکی ہیکہ ان کالجس میں بعض نے انفراسٹرکچر پر توجہ نہیں دی ہے لیکن فیس ری ایمبرسمنٹ سے استفادہ کرنے کیلئے خود کالجس کی فہرست میں شمار کرالیا ہے اور ناقص انفراسٹرکچر کے کالجس کا قیام سرکاری عہدیدار کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ حکومت کو اصل حالات کا علم ہونے کے باوجود کئی کالجس ناقص انفراسٹرکچر یا بغیر انفراسٹرکچر کے بھی طلباء کو تعلیم دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کالجس سے گریجویٹ ہوکر نکلنے والے طلباء جب سرکاری ملازمت کے حصول کی کوشش کرنا شروع کرتے ہیں تو پولیس کانسٹیبل کیلئے بھی درخواست دیتے ہیں۔ انجینئرنگ گریجویٹ نوجوان جب خود کو کانسٹیبل کے عہدہ کے لائق سمجھنے لگتا ہے تو پھر اس ریاست کے تعلیمی معیار پر بڑا سوالیہ نشان لگتا ہے۔
ملک کی معاشی پیداوار میں گراوٹ
سرکاری محکمہ اور تجزیہ کار اگرچیکہ ملک کی مجموعی پیداوار میں کمی کو نوٹ بندی کے اثرات کو اصل وجہ تسلیم کرنے سے گریز کررہے ہیں مگر حقیقت تو یہی دکھائی دیتی ہیکہ جس ملک کی معاشی پیداوار کی شرح کا نشانہ 8 فیصد مقرر کیا گیا تھا اب مالیاتی سال کیلئے 7.1 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ حقیقت میں تو ملک کی معاشی سست رفتار کے بعد اندرون ملک مجموعی پیداوار کی شرح GDP 6.7  تک نیچے گر گیا ہے اور یہ 6 فیصد تک بھی گر سکتی ہے۔ مارچ کے اختتام تک معاشی شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی جائے گی تو یہی شرح گذشتہ سال 7.6 فیصد ردرج کی گئی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو حیرت انگیز اعلان کرکے ملک کی معاشی رفتار پر روک لگادی تھی۔ اس کے منفی اثرات آنے والے دنوں میں ظاہر ہونے لگیں گے۔ سنٹرل اسٹاٹسٹکس کونسل نے پیداوار کی شرح میں سست رفتاری آنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بھی مانا گیا ہیکہ کرنسی کی قلت پیدا کردینے سے کھپت پر اثر پڑا ہے اور کئی شعبوں میں روزگار ختم ہوگیا ہے۔ یہ معاشی  پیداوار پر ایک بڑا کاری ضرب ہے۔ مودی حکومت نے 1000 اور 500 روپئے کے نوٹ بند کرکے کیا بڑا فائدہ حاصل کیا ہے۔ یہ ہنوز واضح نہیں ہوا۔ عوام کو طویل قطار میں کھڑا کرنے کی تکلیف عارضی ضرور ہے مگر طویل مدتی تناظر میں روزگار کی مارکٹ میں سناٹا چھا جانا سب سے زیادہ تشویشناک بات ہے۔ صنعتوں میں پیداوار گھٹ چکی ہے اور اس صورتحال کو عارضی بتا کر حکومت آخر عوام کی آنکھوں میں کب تک دھول جھونکتے رہے گی یہ آنے والے مالیاتی سال کے ابتدائی دو مرحلوں میں ہی پتہ چل جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT