Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / بے قصوروں کو ہلاک کرنے اسلام کے نام کا استحصال جمعیتہ العلمائے دین کی پیرس میں حملہ کی مذمت

بے قصوروں کو ہلاک کرنے اسلام کے نام کا استحصال جمعیتہ العلمائے دین کی پیرس میں حملہ کی مذمت

نئی دہلی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پیرس میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلم تنظیم جمعیتہ العلمائے دین نے آج کہا کہ اسلام کے نام کا مذہب کے نام پر بے قصور افراد کو ہلاک کرنے کیلئے استحصال کیا جارہا ہے۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو غیرضروری طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں دہشت گردوں سے مربوط کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختی ہیکہ بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر اسلام کے نام کا استحصال کررہے ہیں لیکن ان کی بغیر سوچے سمجھے پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کا نام بدنام ہورہا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گردوں اور جہادیوں سے مربوط ظاہر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کرنا جس کا مقصد نیک ہو یعنی برائیوں کو معاشرہ سے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا ہو تو یہ ایک مبارک کام ہے لیکن بے قصور افراد کو ہلاک کردینا جہاد نہیں کہلاتا۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہیکہ مسلمانوں کو موردالزام قرار دینا اور ان ہولناک ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرانا بے شک منحرف بنیاد پرست طاقتوں کو مستحکم کرنا ہے جو کسی طرح بھی اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انہوں نے پیرس، ترکی اور لبنان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمعیتہ العلمائے دین اور اس سے ملحق تنظیمیں کل ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کریں گی۔ انہوں نے یو پی کے وزیر اعظم خان کے تبصرہ سے کہ پیرس دہشت گرد حملہ عرب ممالک میں بے قصور افراد کی ہلاکت کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے عرب ممالک میں بے قصور عوام کو ہلاک کیا ہے، اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کسی انتقامی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلم قائد نے کہاکہ طاقتور ممالک کو چاہئے کہ وہ دہشت گرد گروپس کی سرپرستی بند کردیں۔ محمود مدنی نے کہا کہ دہشت گردوں نے مسلمانوں کیلئے دنیا بھر میں دردناک ماحول پیدا کردیا ہے۔ ان کی دہشت گرد سرگرمیوں کے بہانے اسلام پر تنقید کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک طاقتور ممالک دہشت گرد گروپس کی سرپرستی بند نہ کریں، دہشت گردی کا دنیا سے خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

TOPPOPULARRECENT