Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر ٹی آر ایس حکومت کی خاموشی افسوسناک

بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر ٹی آر ایس حکومت کی خاموشی افسوسناک

12 فیصد تحفظات پر حکومت کا جھوٹا وعدہ ، بی جے پی کی بے جا تنقید ، ڈگ وجئے سنگھ کا بیان
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس امور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ مالیگاؤں بم دھماکے میں ملوث پرگیہ سنگھ ٹھاکر سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ حب الوطنی قرار دی جاتی ہے جب کہ وہ ذاکر نائیک سے ملاقات کرتے ہیں تو ملک میں انہیں دیش کا غدار جیسا پیش کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت حیدرآباد میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر خاموش ہے ۔ وہ ایک روزہ دورے پر حیدرآباد پہونچے قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے انہیں شیرخورمہ پیش کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کی ، واضح رہے کہ 2012 میں ڈگ وجئے سنگھ نے ذاکر نائیک کے ساتھ ایک شہ نشین پر موجود تھے اور انہیں امن کا نمائندہ قرار دیا تھا ۔ ڈھاکہ بم دھماکے بعد گرفتار ہونے والے نوجوانوں نے ذاکر نائیک کے بیانات سے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد بی جے پی ذاکر نائیک کے ساتھ ڈگ وجئے سنگھ کو بھی نشانہ بنا رہی ہے ۔ جب اس سلسلے میں میڈیا نے ذاکر نائیک سے ان کی ملاقات تنازعہ کا شکار ہونے کا سوال کیا تو ڈگ وجئے سنگھ نے میڈیا اور بی جے پی سے استفسار کیا کہ کیا ذاکر نائیک دہشت گرد ہے ؟ ملک سے غداری کا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے ۔ اگر ہے تو انہیں بتایا جائے ۔ جب کہ مرکزی وزیر داخلہ نے مالیگاؤں بم دھماکے میں ملوث سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سے ملاقات کی میڈیا اور بی جے پی نے اس پر کوئی سوال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی واویلا مچایا گیا ۔ انہوں نے 4 سال قبل ذاکر نائیک سے ملاقات کی تھی جن کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں اس پر واویلا مچایا جارہا ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت انہیں بدنام کرنے اور ان کی امیج کو داغدار بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بلکہ ذاکر نائیک کے پروگرام میں شرکت کرنے پر انہیں مجرم کی طرح دیکھا جارہا ہے ۔ شری شری شری روی شنکر نے بھی ذاکر نائیک سے ملاقات کی تھی اگر روی شنکر قصور وار ہے تو وہ بھی قصور وار ہے ۔ کانگریس قائد نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے مرکز پر بی جے پی کی حکومت ہے ۔ اگر بی جے پی کو کوئی شک تھا تو ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ نریندر مودی کی حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے متنازعہ مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس معاملے میں بی جے پی اور مجلس ایک سکے کے دو رخ ہے ۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی کی جانب سے گرفتار حیدرآبادی مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم نوجوان بے قصور ہے تو کوئی بھی انہیں قانونی امداد فراہم کرسکتے ہیں ۔ کانگریس پارٹی ہر قسم کے دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ اگر کوئی قصور وار ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے مگر بے قصوروں کو ہرگز نہیں پھنسایا جانا چاہئے ۔ معصوم نوجوانوں کو نشانہ غیر قانونی اور غیر دستوری عمل ہے ٹی آر ایس حکومت اپنے آپ کو مسلمانوں کی ہمدرد قرار دیتی ہے ۔ اس معاملے میں حکمران جماعت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ 4 ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا 25 ماہ گذرنے کے باوجود وعدے پر عمل کرنے کے بجائے مسلمانوں کو صرف تسلیاں دی جارہی ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے کانگریس پارٹی حکومت پر دباؤ بنائے رکھے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT