Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / بے قصور ہو تو تحقیقات سے گھبراہٹ کیوں؟

بے قصور ہو تو تحقیقات سے گھبراہٹ کیوں؟

وزیر خارجہ سشما سوراج سے سی پی ایم کا سوال

نئی دہلی ۔6اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ انہوں نے للت مودی کی نہیں بلکہ کینسرسے متاثرہ ان کی اہلیہ کی مدد کی ہے اور ایک سوال کیا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دینے وزیر اعظم نریندر مودی کیوں پس و پیش کررہے ہیں ۔ سشما سوراج کے استعفیٰ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے مطالبہ کا اصرار کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعت نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں وزیرخارجہ کے بیان پر اعتراض کیا ۔سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے کہا کہ وزیر خارجہ کا عزت و احترام کے ساتھ خیرمقدم کیا جائے گا ۔ اگر وہ تحقیقات میں بے قصور ثابت ہوجائیں ۔ سی پی ایم نے جب یہ مطالبہ کیا کہ متنازعہ سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی سے اعانت کے الزام میں چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے اور ویاپم اسکام کے سلسلہ میں چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان استعفیٰ دیں ۔ واضح رہے کہ سشما سوراج برطانوی سفر کے دستاویزات حاصل کرنے میں للت مودی کی مبینہ اعانت پر تنازعہ کا بن گئی ہے ۔

مسٹر سیتارام یچوری نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں بیان دیا ہے جیسا کہ سابق میں مسٹر راجیو گاندھی نے بوفورس اسکام کے دوران پارلیمنٹ چلائی تھی ۔ اگر وزیرخارجہ کی وضاحت صحیح ہے تو وزیر اعظم معاملہ کی تحقیقات میں پس وپیش کیوں کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کا صرف یہ مطالبہ ہیکہ تنازعات میں پھنسے لیڈروں کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائیجائے اور تحقیقات کی تکمیل تک عہدوں سے مستعفی ہوجائیں ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج لوک سبھا میں ایک جدباتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق انڈین پریمیئر لیگ کے سربراہ کی نہیں بلکہ کینسر سے متاثرہ ان کی اہلیہ کی مدد کی ہے اور یہ استدلال پیش کیا کہ اگر کانگریس صدر سونیا گاندھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرتی تو وہ بھی یقیناً تعاون کرتیں ۔ سشما سوراج نے کہا کہ للت مودی کو سفری دستاویزات کی اجرائی کیلئے حکومت برطانیہ سے کوئی درخواست یا سفارش نہیں کی بلکہ فیصلہ کو برطانیہ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT