Wednesday , August 16 2017
Home / اداریہ / بے لگام عناصر بی جے پی کیلئے مسئلہ

بے لگام عناصر بی جے پی کیلئے مسئلہ

سوال ان کا جواب ان کا، سکوت ان کا خطاب ان کا
ہم ان کی انجمن میں سر نہ کرتے خم تو کیا کرتے
بے لگام عناصر بی جے پی کیلئے مسئلہ
جس وقت سے مرکز میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ہے اس وقت سے کچھ عناصر بے لگام ہوگئے ہیں۔ وہ مسلسل ایسے ریمارکس کرتے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے سماج میں بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے ۔ اس صورتحال کیلئے جہاں بے لگام عناصر ذمہ دار ہیں وہیں بی جے پی کی اعلی قیادت بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے کیونکہ وہ ایسے عناصر پر لگام کسنے میں ناکام ہے ۔ اگر یہ کہا جائے تو بھی بیجا نہیں ہوگا کہ بی جے پی کی اعلی قیادت اور مرکزی حکومت کے بھی بعض نمائندوں نے عمدا ان عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور ان سے چشم پوشی کرتے رہے تھے ۔ ایسے عناصر سے بی جے پی خود بھی فائدہ حاصل کرنا اور اپنے عزائم کو ظاہر کرنا چاہتی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اب تک کسی بھی ایسے لیڈر یا مرکزی وزیر کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے جس کے بیانات یا جس کی حرکات کی وجہ سے سماج میں بے چینی یا عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہوئی ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی تو دور کی بات ہے کچھ گوشوں سے ان کی مدافعت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کو حق بجانب قرار دیا گیا تھا ۔ چاہے سادھوی پراچی کے بیانات ہوں یا پھر مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی ہو ‘ ساکشی مہاراج ہو یا پھر یوگی آدتیہ ناتھ ہوں سبھی نے ایسے متنازعہ ریمارکس کئے ہیں جن کی وجہ سے سماج میں بے چینی پیدا ہوئی تھی لیکن مرکزی حکومت نے ان پر کسی طرح کی کارروائی نہیں کی ہے بلکہ اس سے عمدا چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے انہیں مزید حوصلہ بخشنے کا کام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے دوسرے قائدین بھی بے لگام ہوگئے ہیں۔ من مانی تبصرے اور ریمارکس کرتے جا رہے ہیںاور سماج میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی ہم خیال سنگھ پریوار کی دوسری تنظیموں کے قائدین نے بھی سماج میں زہر اگلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی طرح کا ایسا ریمارک کرتے جا رہے ہیں جو قابل گرفت ہیں لیکن مرکزی حکومت ہو یا پھر بی جے پی کی اعلی قیادت ہو کسی نے بھی اس کا سلسلہ روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ایک گوشے سے ایسے ریمارکس کئے جاتے رہے تو دوسرے گوشے نے ان کو حق بجانب قرار دینے اور ان کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
گجرات میں دلت نوجوانوں کو مار پیٹ کا واقعہ ہو یا پھر اتر پردیش بی جے پی کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ کی جانب سے مایاوتی کے خلاف ناشائستہ ریمارک ہو بی جے پی کیلئے مشکل صورتحال کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ بی جے پی نے اس صورتحال کو فوری بھانپ لیا ہے اور اس نے دیا شنکر سنگھ کو پارٹی سے معطل کردیا ہے ۔ ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ انہوں نے دلتوں کے خلاف ریمارکس کئے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف ایک عرصہ سے زہر اگلنے والے عناصر سادھوی پراچی ‘ سادھوی نرنجن جیوتی ‘ یوگی آدتیہ ناتھ یا پھر ساکشی مہاراج کسی کے خلاف بھی کارروائی کرنے کو بی جے پی نے ضروری نہیںسمجھا ۔ اس کا ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے اور وہ یہ کہ اس طرح کے عناصر کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے بی جے پی اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرنا چاہتی تھی ۔ جب تک مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ چلتا رہا اس وقت تک بی جے پی نے خاموشی اختیار کرلی اور ہندو ووٹ بینک کو مجتمع کرنے کی کوشش کی لیکن جب یہی بے لگام عناصر دلتوں کے خلاف زبان کھولنے لگے تو پارٹی کو اپنی مشکلات کا اندازہ ہونے لگا ہے ۔ گجرات میں چار دلت نوجوانوں کو مار پیٹ کا مسئلہ چل ہی رہا تھا کہ دیا شنکر سنگھ نے مایاوتی کے خلاف ریمارکس کر دئے ۔ یہ دونوں مسائل ایسے ہیں جن کے نتیجہ میں بی جے پی کو گجرات اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اسی وجہ سے بی جے پی نے فوری حرکت میں آتے ہوئے دیا شنکر سنگھ کے خلاف کارروائی کی ہے ۔ اگر انتخابات کا موسم نہیں ہوتا تو بی جے پی اپنے لیڈر کی مدافعت میں اتر جاتی ۔
بی جے پی کو بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج ابھی تک بھولے نہیں ہیں کیونکہ وہاں پارٹی کے مطابق آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے صرف ایک ریمارک نے انتخابی نتائج کو الٹ کر رکھ دیا تھا ۔ بہار اسمبلی انتخابات کے دوران موہن بھاگوت نے تحفظات کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ظاہر کی تھی ‘ بی جے پی کا قیاس ہے کہ اسی ریمارک نے بہار میں پارٹی کی شکست کو یقینی بنادیا ۔ اب یو پی اور پنجاب میں انتخابات اور پھر گجرات انتخابات میں وہ دلتوں کو خود سے ناراض کرنا نہیں چاہتی ۔ وہ انتخابی نتائج کیلئے فکرمند ہے ۔ وہ صرف چاہتی ہے کہ انتخابات سے قبل ماحول سیاسی اعتبار سے اپنے لئے سازگار رکھا جائے ۔ وہ وقتی کارروائی سے کام چلانا چاہتی ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ بے لگام عناصر پر پارٹی لگام کسنا نہیں چاہتی ۔ انہیں عناصر سے اسکی مشکلات بڑھتی جائیں گی ۔

TOPPOPULARRECENT