Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / بے گناہ کشمیری نوجوان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی سازش

بے گناہ کشمیری نوجوان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی سازش

دہلی پولیس کی کوششوں پر قومی تحقیقاتی ادارہ نے پانی پھیر دیا

نئی دہلی ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج سال 2013ء میں گرفتار سید لیاقت شاہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے این آئی اے کی پیش کردہ چارج شیٹ پر غوروخوض کیلئے 21 اگست تاریخ مقرر کی ہے جبکہ دہلی پولیس کا دعویٰ ہیکہ وہ ممنوعہ حزب المجاہدین کا عسکریت پسند ہے اور دہلی میں حملہ کا منصوبہ رکھتا تھا۔ یہ معاملہ آج ڈسٹرکٹ جج امرناتھ کی عدالت میں سماعت کیلئے آیا، جہاں پر قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) لیاقت کے وکیل کو چارج شیٹ کی کاپی اور دستاویزات حوالے کئے۔ عدالت نے لیاقت کی عرضی کو سماعت کیلئے قبول کرتے ہوئے تاحکم ثانی اسے شخصی حاضری سے استثنیٰ دیدیا۔ کیس کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ آسیم علی جو کہ لیاقت کی پیروی کررہے ہیں، ایک عرضی پیش کرتے ہوئے ان کے موکل کی شخصی حاضری کو مستقلاً استثنیٰ دینے کی استدعا کی اور بتایا کہ وہ ایک غریب شخص ہے اور کشمیر میں کپواڑہ سے دہلی تک سفر کیلئے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اسے مقدمہ کی سماعت کے موقع پر حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ تاہم این آئی اے اپنی چارج شیٹ میں اصل ملزم کی حیثیت سے مفرور شبیر خاں پٹھان کا نام درج کیا ہے، جس نے لیاقت کو عسکریت پسند ثابت کرنے کیلئے ہتھیار چھپائے دیئے تھے۔

ایجنسی نے اپنی چارج شیٹ میں لیاقت کے خلاف دہشت گردی کا الزام حذف کردیا ہے اور وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے لیاقت کو نشانہ بناتے ہوئے سازش تیار کرنے والے دہلی پولیس کے بعض عہدیداروں سے پوچھ تاچھ کیلئے اجازت طلب کی ہے۔ سید لیاقت شاہ کو پولیس کے خصوصی سیل نے 20 مارچ 2013ء کو اس وقت گرفتار کیا تھا، جب وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے براہ نیپال وادی کشمیر واپس آرہا تھا اور دہلی پولیس کا یہ الزام ہیکہ قومی دارالحکومت میں دہشت گردانہ حملوں کیلئے لیاقت واپس آیا ہے۔ تاہم جموں و کشمیر پولیس اس کی گرفتاری پر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ریاستی حکومت کی پالیسی کے مطابق لیاقت مقبوضہ کشمیر سے واپس آیا، جس میں یہ وضاحت کی گئی ہیکہ 1990ء کے اوائل میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر فرار ہوئے ہیں۔ انہیں دوبارہ آبائی مقامات واپس آنے کی اجازت رہے گی۔ اس وقت کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے بھی لیاقت کی بیجا گرفتاری کے مسئلہ کو وزارت داخلہ سے رجوع کیا تھا، جس کے سبب یہ کیس قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) کو منتقل کردیا گیا۔
قبل ازیں اسپیشل سیل نے یہ ادعا کیا تھا کہ لیاقت کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر جامع مسجد دہلی کے قریب حاجی عرفات گیسٹ ہاؤز کے کمرہ نمبر 304 کی تلاشی لینے پر اسلحہ و گولہ بارود اور دھماکو اشیاء دستیاب ہوئی تھیں۔ تاہم این آئی اے نے دہلی پولیس کے دعویٰ کے برعکس پیش کردہ چارج شیٹ میں بتایا کہ اس کی تحقیقات میں لیاقت کے خلاف عائد الزامات ثابت نہیں ہوسکے اور وہ حکومت جموں و کشمیر کی خودسپردگی ؍ سرینڈر پالیسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہندوستان واپس آیا تھا۔ این آئی اے نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ گیسٹ ہاؤز نے ایک کمرہ میں اسلحہ و گولہ بارود رکھنے کا ذمہ دار شبیرخاں پٹھان ہے، جس نے حاجی عرفات گیسٹ ہاؤز بک کروایا تھا اور عدالت نے مفرور جرم قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT