Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بے گھر افراد کو امکنہ فراہمی کا دعویٰ ، کئی خاندان فٹ پاتھ پر زندگی گذارنے پر مجبور

بے گھر افراد کو امکنہ فراہمی کا دعویٰ ، کئی خاندان فٹ پاتھ پر زندگی گذارنے پر مجبور

چھتہ بازار میں سڑک پر زندگی کی زندہ مثال ، کسمپرسی پر عوام بھی حیرت زدہ
حیدرآباد۔17فبروری ( سیاست نیوز)  حکومت تلنگانہ کی جانب سے بے گھر خاندانوں کو امکنہ اسکیم کے تحت دو بیڈ روم فلیٹ فراہم کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں اور سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والوںکیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے  شیلٹر تعمیر کرنے کے اعلانات اور فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے والوں کو شیلٹر ہاؤز  منتقل کرنے کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن گذشتہ دو برسوں سے ایک ایسا خاندان پرانی حویلی سے چھتہ بازار آنے والی سڑک پر دیکھا جارہا ہے جو ایک پیڑ کی آڑ میں فٹ پاتھ پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ اس خاندان میں موجود بچے بھی فٹ پاتھ پر شب بسری کرتے ہیں اور دو پہر میں کافی دیر تک یہ خاندان اسی مقام پر رہتا ہے ۔ جس مقام پر یہ بے گھر افراد زندگی گذار رہے ہیں اُس سے چند گز کے فاصلے پر ساؤتھ زون پولیس کا دفتر موجود ہے جہاں سے چبوترہ مہم شروع کی گئی تھی لیکن شاید ان ذمہ دار پولیس عہدیداروں کو بھی چند فرلانگ کی دوری پر موجود یہ مجبور اور بے بس خاندان نظر نہیں آتا جو کہ فٹ پاتھ پر زندگی بسر کررہا ہے ۔ چھتہ بازار سے پرانی حویلی سڑک پر جو اکثر بے ہنگم ٹریفک کے سبب جام رہتی ہے اس سڑک کے فٹ پاتھ پر ایک مکمل خاندان کے زندگی گذارنے سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے بلکہ راہروں کو بھی اس علاقہ سے چوکنا ہوکر گذرنا پڑتا ہے کیونکہ اس خاندان کی کسمپرسی و حالت زار کا مشاہدہ کرنے کے بعد کوئی انہیں کچھ کہنے سے تو قاصر ہے لیکن ایسی جگہ پر یہ خاندان زندگی گذار رہا ہے جہاں کسی بڑے حادثہ کی صورت میں جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف بے گھر خاندانوں کی نشاندہی کرے بلکہ فٹ پاتھوں پر رہنے والے ایسے مجبور خاندانوں کو اولین ترجیح دے جو کسی وجہ سے کرایہ ادا کرنے کے بھی متحمل نہیں ہیں اور وہ بحالت مجبوری اپنے بچوں کے ساتھ سڑک کے کنارے زندگی گذار رہے ہیں ۔  پرانے شہر کے انتہائی قدیم علاقہ پرانی حویلی کے قریب سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر زندگی گذار رہے اس خاندان میں نہ صرف لڑکے ہیں بلکہ سڑک کے کنارے سونے والوں میں معصوم لڑکیاں بھی شامل ہیں ‘ جن کی عمریں اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن حالات نے انہیں گھر سے سڑک پر لاکھڑا کردیا ہے ۔ اس خاندان کی تفصیلات حاصل کرنے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی گئیں لیکن شائد یہ کسی کو اپنے حالات بتانا نہیں چاہتے مگر مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے اس خاندان کی کچھ مدد کردی جاتی ہے اور عموماً رات کے اوقات میں کھانے کی تقسیم اور گرم کپڑوں و بلانکٹس کی تقسیم کے عمل میں اس خاندان کو کافی کچھ حاصل ہوجاتا ہے لیکن جب تک سرپر چھت نہ ہو ایک مکمل خاندان کا سڑک پر زندگی گذارنا کس حد تک تکلیف کا باعث ہوتا ہے اس کا اندازہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے ۔ اسی لئے محکمہ پولیس ‘ بلدیہ یا پھر محکمہ مال کی جانب سے فوری اس مسئلہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایسے فٹ پاتھ پر رہنے والوں کی نشاندہی کی جانی چاہیئے جو اپنے خاندان کیساتھ فٹ پاتھ پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ بعد نشاندہی ان خاندانوں کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور معصوم بچے جو سڑک کے کنارے زندگی گذارنے کے سبب مختلف برائیوں کا شکار ہونے کے خدشات ہوتے ہیں ان سے انہیں بچایا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT