Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ت%12تحفظات تو دور اب 4% پر زعفرانیت!ت

ت%12تحفظات تو دور اب 4% پر زعفرانیت!ت

ابھی بھی ہوش میں نہ آئے تو ہر طالب علم کا داخلہ خطرہ میں
حیدرآباد ۔ 19۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت ایک طرف مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کر رہی ہے تو دوسری طرف تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں موجودہ 4 فیصد تحفظات سے مسلم امیدواروں کو محروم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے کئے جارہے تقررات میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا اعلان کیا گیا لیکن مسلم امیدواروں کیلئے جو شرائط عائد کی گئی ہیں، وہ دراصل تحفظات کے حصول میں محروم کرنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے۔ پبلک سرویس کمیشن کی ویب سائیٹ پر ون ٹائیم رجسٹریشن کیلئے بی سی طبقات میں اے بی سی اور ڈی طبقات کیلئے صرف اپنے طبقہ کی نشاندہی کافی ہے جبکہ بی سی ای کے معاملہ میں ایک اور سرٹیفکٹ کی شرط عائد کی گئی جس سے طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خفیہ طور پر سخت شرائط کے ذریعہ مسلم امیدواروں کو تحفظات سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ مسلم امیدوار جیسے ہی بی سی ای کا انتخاب کریں گے، انہیں ایک اور آپشن پوچھا جارہا ہے کہ آیا وہ کریمی لیر کے تحت ہیں یا نان کریمی لیر کے تحت۔ مسلم طلبہ کو نان کریمی لیر یعنی خوشحال طبقہ سے تعلق نہ ہونے کا ثبوت دینے کیلئے متعلقہ ایم آر او سے سرٹیفکٹ طلب کیا جارہا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ یقیناً زیادتی ہے۔ جب اے بی سی ڈی پسماندہ طبقات کیلئے اس طرح کے علحدہ سرٹیفکٹ کا کوئی لزوم نہیں تو پھر بی سی ای امیدواروں کیلئے اس طرح کی شرط لگانا کیا معنی رکھتا ہے ۔ یہ اقدام دراصل حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں کریمی اور نان کریمی لیر سے متعلق شرط موجود تھی جسے تلنگانہ حکومت نے برقرار رکھتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ متحدہ آندھرا کے اس قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم طلبہ کو اس شرط سے مستثنی قرار دیتی لیکن متحدہ آندھرا کے اس قانون کو برقرار رکھنا 4 فیصد تحفظات کی فراہمی میں حکومت کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں جب تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذمہ داروں سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اے تا ڈی زمرہ کے بی سی طبقات کیلئے تحفظات ذات پات کی بنیاد پر ہے جبکہ بی سی ای زمرہ کے تحفظات آمدنی کی بنیاد پر ہیں۔ لہذا 6 لاکھ سے کم آمدنی والے مسلم مسلم طلبہ کو بی سی ای سرٹیفکٹ کے علاوہ نان کریمی لیر سرٹیفکٹ پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ دونوں سرٹیفکٹس متعلقہ ایم آر او کی جانب سے جاری کئے جائیں گے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے نان کریمی لیر سرٹیفکٹ کی اجرائی کیلئے ابھی تک ایم آر اوز کو ہدایات جاری نہیں کی ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی پروفارما حوالہ کیا گیا جس کے متعلق وہ سرٹیفکٹ جاری کرسکیں۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے نان کریمی لیر سرٹیفکٹ کا پروفارما اپنی ویب سائیٹ پر فراہم کیا ہے تاکہ طلبہ اسے ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے متعلقہ ایم آر او کو پیش کرسکیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت خود سرٹیفکٹ کا پروفارما ایم آر اوز کو جاری کردی۔ کمیشن کے بعض ذمہ داروں کی رائے ہے کہ حکومت بی سی ای اور نان کریمی لیر کیلئے ایک ہی سرٹیفکٹ تیار کرے تاکہ مسلم طلبہ کو دو علحدہ سرٹیفکٹ کے حصول کی دشواری سے بچایا جاسکے۔ بی سی ای کے ساتھ نان کریمی لیر کا اضافہ کرتے ہوئے سرٹیفکٹ جاری کیا جائے تاکہ مسلم طلبہ 4 فیصد تحفظات حاصل کرسکیں۔ طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے حکومت کے اس رویہ پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ جو حکومت روزگار میں چار فیصد تحفطات فراہم کرنے میں کئی رکاوٹیں پیدا کررہی ہے، اس سے 12 فیصد تحفظات کی کس طرح امید کی جاسکتی ہے۔ کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مسلم طلبہ کو نان کریمی لیر سرٹیفکٹ کے سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ انہیں رجسٹریشن اور امتحان کے موقع پر یہ سرٹیفکٹ پوچھا نہیں جائے گا۔ سلیکشن کے بعد اسنادات کی جانچ کے موقع پر مسلم امیدوار یہ سرٹیفکٹ پیش کرسکتے ہیں۔ مسلم طلبہ کو چاہئے کہ وہ کمیشن کے ویب سائیٹ سے پروفارما سرٹیفکٹ کا نمونہ حاصل کرتے ہوئے اسے متعلقہ ایم آر او کو پیش کریں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تلنگانہ حکومت بی سی ای اور نان کریمی لیر کیلئے ایک ہی سرٹیفکٹ تیار کرے تاکہ مستقبل میں طلبہ کو دشواری نہ ہو۔مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے درمیان حکومت کا یہ امتیازی رویہ باعث حیرت ہے۔

TOPPOPULARRECENT