Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / تاجر کے نوجوان لڑکے کا اغوا اور قتل کی سنسنی خیز واردات

تاجر کے نوجوان لڑکے کا اغوا اور قتل کی سنسنی خیز واردات

بھاری تاوان کا مطالبہ ،نعش ڈبے میں دستیاب ، ٹی وی فوٹیج میں نامعلوم شخص کیساتھ گاڑی پر سفر

حیدرآباد۔ 17 مارچ (سیاست نیوز) کروڑہا روپئے تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تاجر کے 15 سالہ لڑکے کا اغوا اور پھر قتل کا ایک سنسنی خیز واقعہ آج شہر میں پیش آیا۔ اسکراپ اور پلاسٹک کے تاجر راجکمار کا لڑکا ابھئے موڈانی کل شام 4:30 بجے اپنے مکان واقع سری کالونی شاہ عنایت گنج سے اِڈلی لانے کی غرض سے مہا لکشمی ٹفن سنٹر گیان باغ کالونی سیتا رام پیٹ گیا ہوا تھا۔ مکان کو لوٹنے میں تاخیر کے سبب ابھئے کی ماں انورادھا نے اپنے بیٹے سے فون کرتے ہوئے تاخیر کی وجہ دریافت کی جس پر ابھئے نے بتایا کہ وہ اندرون 5 منٹ مکان پہنچ رہا ہے لیکن ایک گھنٹہ گذر جانے کے باوجود بھی گھر واپس نہ لوٹنے پر اس کی ماں نے دوبارہ فون کیا تو فون سوئچ آف تھا۔ رات 7:30 بجے راجکمار اور انورادھا نے شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن سے اپنے بیٹے کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی جس کے نتیجہ میں پولیس نے گمشدگی کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکے کی تلاش شروع کی۔ اسی دوران 10 بجکر 5 منٹ پر راجکمار کو ایک نامعلوم موبائیل نمبر 7842276480 سے کال موصول ہوا اور بات کرنے والے آدمی نے خود کو اغوا کنندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ابھئے موڈانی کی رہائی کیلئے 10 کروڑ روپئے تاوان کا مطالبہ کیا

لیکن راجکمار نے اس بھاری رقم ادا کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس صرف 3 لاکھ روپئے نقد رقم موجود ہے اور 20 تولے طلائی زیورات ہیں جس پر اغوا کنندہ نے راجکمار کو 5 کروڑ روپئے کی رقم علاقہ سکندرآباد میں فوری پہونچانے کیلئے کہا۔ مغویہ لڑکے کے والد نے شاہ عنایت گنج پولیس کو اغوا کنندہ کی جانب سے فون کئے جانے اور تاوان کے مطالبہ سے واقف کرایا۔ پولیس نے گمشدگی کے مقدمہ کو اغوا کے مقدمہ میں تبدیل کرتے ہوئے 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی۔  پولیس نے اغوا کنندوں کے موبائیل فون نمبر کی مدد سے ان کی ضلع نلگنڈہ میں موجودگی کا پتہ چلایا۔ اسی دوران رات 11:30 بجے نارتھ زون پولیس کو ایک اطلاع موصول ہوئی کہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب الفا ہوٹل کے روبرو سونی ٹی وی سیٹ کے کارٹون میں ایک نوجوان کی نعش موجود ہے جس کے ہاتھ اور پیر باندھے ہوئے ہیں اور ناک کے نتھنے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔ پولیس نے مقتول نوجوان کی شناخت ابھئے موڈانی کی حیثیت سے کی اور اس بات کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنران پولیس ویسٹ زون مسٹر وینکٹیشور راؤ اور نارتھ زون مسٹر پرکاش ریڈی نعش کے مقام پر پہنچ گئے اور سراغ رسانی دستے (کلوز ٹیم) اور ڈاگ اسکواڈس کو فوراً طلب کیا۔ نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم دواخانہ عثمانیہ منتقل کیا اور شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن کے اغوا سے متعلق ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ شامل کرتے ہوئے ایک مقدمہ بھی درج کرلیا۔ پولیس نے ابھئے موڈانی کے قتل کے بعد گیان باغ کالونی سیتا رام پیٹ میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیجس حاصل کئے جس میں پولیس کو حیرت انگیز ویڈیوز برآمد ہوئے ۔ ان فوٹیجس میں مقتول نوجوان کو نامعلوم شخص کے ہمراہ ایکٹیوا (گہرے نیلے رنگ) پر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے اپنی تحقیقات میں تیزی پیدا کرتے ہوئے مزید شواہد اکٹھا کرنا شروع کردیا اور اغوا کنندہ کے موبائیل کال ہسٹری کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کمشنر پولیس حیدرآباد ایم مہیندر ریڈی نے ابھئے موڈانی کے اغوا اور قتل میں ملوث نامعلوم شخص جسے ایکٹیوا گاڑی پر دیکھا گیا ہے، کی شناخت میں مدد کیلئے عوام سے اپیل کی ہے اور ایک لاکھ روپئے نقد رقم کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغویہ نوجوان کسی جاننے والے شخص کے ساتھ جارہا تھا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ نوجوان کا قتل انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے اور راجکمار کے بعض ملازمین پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کمشنر ٹاسک فورس نے 3 مشتبہ افراد کو وجئے واڑہ سے حراست میں لے لیا ہے اور مزید 2 افراد کی تلاش سرگرمی سے جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT