Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / تاج محل کو آئی ایس سے خطرہ، سکیورٹی بڑھادی گئی

تاج محل کو آئی ایس سے خطرہ، سکیورٹی بڑھادی گئی

لکھنؤ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) تاج محل کو دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے خطرہ کی ایک میڈیا رپورٹ کے تناظر میں سترہویں صدی کی اس یادگار میں سکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل (لاء اینڈ آرڈر) دلجیت سنگھ چودھری نے یہاں نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ایسی اطلاع سرگزشت ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاج محل آئی ایس آئی ایس کا ٹارگٹ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کررہے ہیں تاہم فوری طور پر اس یادگار کے اطراف و اکناف سکیوریٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ایک ویب سائٹ پر تاج محل کے گرافکس دکھائے گئے ہیں جہاں ایک دہشت گرد کوئی ہتھیار کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے پیش نظر سکیورٹی سخت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک موافق آئی ایس آئی ایس میڈیا گروپ نے تاج محل کی مشابہت والا گرافک شائع کیا ہے اور اُسے دہشت گرد تنظیم کا ممکنہ ٹارگٹ بتایا گیا ہے۔ تاج محل دنیا کے عجائبات میں سے ہے۔ یہ گرافک لگ بھگ ایک ہفتہ قبل جاری کیا گیا تھا جس کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے اترپردیش میں تلاشی مہم چلائی جس میں ایک ملزم سیف اللہ ہلاک ہوگیا اور 6 دیگر گرفتار کرلئے گئے۔ ایسی اطلاع ہے کہ سیف اللہ کی ذہن سازی آئی ایس آئی ایس نے آن لائن ذرائع سے کی اور بھوپال میں ایک ٹرین پر حملہ بھی کرایا گیا۔ ویب سائٹ کی گرافک میں آئی ایس آئی ایس جنگجو کو سر پر سیاہ پٹی لگائے اور تاج محل کے قریب اسالٹ رائفل کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے۔ تاج محل کے امیج میں تین چھوٹی داخلی تصاویر بھی نظر آتی ہیں جہاں ایسے الفاظ تحریر ہیں کہ یہ نیا ٹارگٹ ہے۔ عربی اور انگریزی زبانوں میں بھی تشویش کے قابل تحریر موجود ہے۔ تاج محل جو بیرونی اور دیسی سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے اُس کی داخلی سکیورٹی سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے ذمہ ہے جو مرکزی نیم فوجی فورس ہے جسے صنعتی یونٹوں، طیرانگاہوں، میٹرو ریل اور مختلف دیگر حساس مقامات کی حفاظت کا کام سونپا جاتا ہے۔ اترپردیش پولیس اور پرونشیل آرمڈ کانسٹبلری کی جانب سے اطراف کے علاقے کی سکیورٹی انجام دی جاتی ہے۔ 500 میٹر تک سکیورٹی حدود کے باہر پولیس ٹیمیں مغربی باب الداخلہ اور مشرقی باب الداخلہ دونوں طرف گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT