Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / تاج محل کے روبرو ہندو تنظیموں کا دھرنا زعفرانی اسکارف کے ساتھ ماڈلس کو آنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج

تاج محل کے روبرو ہندو تنظیموں کا دھرنا زعفرانی اسکارف کے ساتھ ماڈلس کو آنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج

آگرہ ۔ 22 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بجرنگ دل اور دیگر ہندو تنظیموں نے آج تاج محل کے باہر احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ زعفرانی اسکارف کے ساتھ بعض افراد کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ واقعہ چار دن قبل پیش آیا تھا اور ان تنظیموں نے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے مبینہ طور پر یہاں آنے والے ماڈلس کو باب الداخلہ پر ہی زعفرانی اسکارف نکالدینے کی ہدایت دی ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سربراہ بی وکرم نے آگرہ میں بتایا کہ بعض تنظیموں کے ارکان نے یہاں جمع ہو کر نعرہ بازی کی ۔ اس واقعہ نے مرکز کے ساتھ تنازعہ کھڑا کردیا ہے ۔ وزیر سیاحت مہیش شرما نے کہا کہ تاج محل آنے والوں کے لیے لباس کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ہندو تنظیموں نے کل تاج محل کے گھیراؤ کا اعلان کیا تھا اور آج شیوسینا ، ہندو جاگرتی منچ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا ۔جن 34 ماڈلس نے تاج محل کا مشاہدہ کیا وہ 12 اپریل سے جاری دو روزہ سپرماڈل انٹرنیشنل مقابلہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کررہی ہیں ۔ان میں سے بعض دھوپ سے بچاؤ کے لیے زعفرانی اسکارف اوڑھے ہوئے تھیںلیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور کہا گیا کہ پہلے وہ اپنا اسکارف نکال دیں۔ تاج محل کی تعمیر مغل شہنشاہ شاہجہاں نے کروائی تھی جن  کا سالانہ عرس کل شروع ہورہا ہے جو منگل تک جاری رہے گا ۔ خدام روضہ کمیٹی کی جانب سے ایک ہزار میٹر طویل چادر پیش کی جائے گی ۔ اس دوران حکومت نے آج کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا یا سی آئی ایس ایف کا کوئی عہدیدار اس واقعہ میں ملوث نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ گائیڈس یا خاتون سیاحوں کے گروپ ارکان نے یہ اسکارف حاصل کیے تاہم اس معاملہ کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT