Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / تارکین وطن بحران پر یوروپ میں شدید اختلافات

تارکین وطن بحران پر یوروپ میں شدید اختلافات

TOVARNIK, SEP 19:- Migrants and refugees gather along the tracks at the train station in Tovarnik, Croatia, September 19, 2015. REUTERS/UNI PHOTO-9R

کروئیشیا نے دروازے بند کردیئے ، سلوینیا اور ہنگری کا بھی انکار، مصائب سے دوچار عوام بے یار و مددگار
تورنک(کروئیشیا)۔ 19 سپٹمبر۔ (سیاست ڈاٹ کام) تارکینِ وطن کے معاملے پر مختلف حکومتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یورپ میں شمال مشرق کے راستے سے داخل ہونے والوں کو ایک ملک کی سرحد سے دوسرے ملک کی سرحد کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔17 ہزار سے زائد تارکین ِوطن کے داخلے کے بعد کروئیشیا نے پناہ تلاش میں آنے والوں کے لیے دروازے بند کردیئے ۔ اب وہ ہزاروں افراد کو شمال کی جانب بھیج رہا ہے جس کے باعث سلوینیا اور ہنگری ناراض ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنگری اپنی سرحد پر خاردار باڑ لگا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ اپنی سرحد پر آنے والے تارکین وطن کو آسٹریلیا بھجوا رہا ہے۔خیال رہے کہ اگلے ہفتے یورپی یونین میں تارکینِ وطن کے حوالے سے دو اہم اجلاس منعقد ہوں گے۔ پناہ کی تلاش میں آنے والے ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔ہزاروں تارکینِ وطن رواں ہفتے سربیا کے راستے کروئیشیا میں داخل ہوئے تھے کیونکہ ہنگری نے سربیا سے متصل اپنی سرحد کو بند کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے شمال کی جانب ان کا راستہ کٹ گیا تھا۔جمعہ کو کروئیشیا کے وزیرِ اعظم زوران میلانووچ نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک مزید تارکین وطن کو جگہ دینے کا متحمل نہیں اور ملک میں آنے والے پناہ گزیوں کو ’آگے روانہ کر دیا جائے گا۔‘ملک کے وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تارکینِ وطن کی تعداد 17 ہزار سے بڑھ چکی ہے

 

اور 3000 ہنگری سے گزر چکے ہیں۔ادھر ہنگری نے اپنا موقف بدلتے ہوئے تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دے دی ہے۔جمعہ کو 1000 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ریل گاڑی کو حکام کی جانب سے روکتے ہوئے ڈرائیور کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ سلوینیا کی پولیس نے سرحد پر موجود ایک پل پر آنے والے 500 تارکین وطن پر مرچوں کا اسپرے کیا۔مرکزی یورپ میں موجود حکومتیں اپنی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہی ہیں اور زیادہ تر حکومتیں جرمنی پر الزام لگا رہی ہیں کہ اسی نے سب سے پہلے سفر کرنے کے لیے تارکینِ وطن کی حوصلہ افزائی کی تھی۔اس سے قبل کروئیشیا نے کہا تھا کہ ماسوائے تین مرکزی سڑکوں کے سربیا کے ساتھ منسلک تمام سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔کروئیشیا پہنچنے والے تارکینِ وطن کو پولیس گھیرے میں لے کر ان کیلئے قائم مراکز میں بھجوا دیتی ہے۔ ان میں سے کچھ کو دارالحکومت زغریب بھجوا دیا جاتا ہے تاہم بہت سے پیدل چل کر سلوینا جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ یورپی یونین کے ریگولیشنز کے مطابق تارکینِ وطن جس بھی رکن ملک میں جائے اسے رجسٹریشن کروانی لازمی ہوگی اور وہ اسی ملک میں پناہ کی درخواست بھی کرے گا۔تاہم حقیقی صورتحال اس سے مختلف ہے کیونکہ تارکینِ وطن کی اکثریت جرمنی اور آسٹریا جانے کی خواہش رکھتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT