Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / تارکین وطن سے 28 لاکھ سے زیادہ روپئے وصول طلب

تارکین وطن سے 28 لاکھ سے زیادہ روپئے وصول طلب

کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی جانچ کے نتیجہ میں انکشاف، حق معلومات قانون کے تحت جواب
ممبئی 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جملہ 28 لاکھ 86 ہزار روپئے ہندوستانیوں سے وصول طلب ہیں جو ترک وطن کرچکے ہیں۔ ممبئی علاقائی پاسپورٹ آفس میں درج مقدمات کے سلسلہ میں جو ترک وطن کے ہیں، یہ خطیر رقم وصول طلب ہے۔ حق معلومات قانون کے تحت پونے کے کارکن ویہار گروے کے ایک سوال کے جواب میں ممبئی علاقائی پاسپورٹ آفس نے گزشتہ سال سپٹمبر میں اطلاع دی کہ آڈٹ کی جانچ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) نے ممبئی علاقائی پاسپورٹ آفس میں درج تارکین وطن کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 414 ترک وطن معاملات میں سے جو مختلف سفارت خانوں سے وصول ہوئے ہیں دفتر ترک وطن چارجس صرف 126 واقعات میں وصول کرسکا ہے۔ جبکہ 28 لاکھ 86 ہزار روپئے اب بھی وصول طلب ہیں۔ دروے نے سی اے جی کی معائنہ رپورٹ کی ایک نقل طلب کی تھی، حاصل ہونے والی نقل سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1979-80 ء سے 2010-11 ء تک جملہ 74 لاکھ 45 ہزار روپئے تارکین وطن سے وصول نہیں کئے جاسکے جو اُنھیں دیئے گئے تھے کیوں کہ اُن کے پاس واپسی کے لئے ضروری رقم نہیں تھی۔ وطن واپسی میں اِس تیقن کے ساتھ سہولت فراہم کی گئی تھی کہ وہ یہ رقم وطن واپس پہونچنے کے بعد ادا کردیں گے لیکن صرف 45 لاکھ 59 ہزار روپئے وصول ہوئے

جبکہ 28 لاکھ 86 ہزار روپئے ہنوز عدم وصول ہیں۔ پاسپورٹ کے قواعد 2001 ء کے تحت کسی بھی تارکین وطن سے اُس کے پاسپورٹ کو بحال کرنے کی اِس بنیاد پر خواہش کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص معذور ہوگیا ہے اور بیرون ملک اپنے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس کے بعد تارک وطن کا پاسپورٹ بحال کردیا جاتا ہے اور پاسپورٹ جاری کرنے والا محکمہ اُسے تازہ پاسپورٹ جاری کرتا ہے جو اُسے اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ بقایا جات ادا نہ کردیں۔ ممبئی علاقائی پاسپورٹ آفس کے ایک سینئر عہدیدار نے اِس معاملہ کے بارے میں کہاکہ درحقیقت یہ رقم اُن ابنائے وطن پر خرچ کی گئی جنھیں اقل ترین مالی امداد کی ضرورت تھی کیوں کہ مستحق افراد کی مدد کی جاسکے جو اپنے تمام اثاثوں سے محروم ہوچکے تھے۔ یہ اپنے عوام کی ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں کی جانب سے خدمات کا ایک نمونہ تھا۔ لیکن جب بھی کوئی نادہندہ کا پتہ چلتا ہے اور جب وہ تازہ پاسپورٹ کے اجراء کی درخواست دیتا ہے تو ہم اُس سے بقایا وصول کرلیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT