Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / تارکین وطن پر ٹیکس کی توثیق

تارکین وطن پر ٹیکس کی توثیق

کے این واصف
مملکت سعودی عرب نے سال رواں کے بجٹ جس کا اعلان ڈسمبر کے آخری ایام میں کیا گیا تھا ، کے بعد مقیم غیر ملکیوں پر ماہانہ فیملی ٹیکس عائد کئے جانے کا اعلان کیا تھا اور پچھلے پانچ ماہ سے اس ٹیکس کے لاگو  کئے جانے پر غیر ملکیوں کی بیٹھکوں اور سوشیل میڈیا پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں اور بے بنیاد اطلاعات گشت کر رہی تھیں ۔ کبھی کہا جارہا تھا کہ حکومت نے فیملی ٹیکس کی تجویز کو واپس لے لیا ہے ۔ کبھی یہ خبر آئی کہ یہ ٹیکس صرف 18 سال سے زائد عمر کے بچوں اور دیگر افراد جیسے غیر ملکی کے ماں باپ یا ان کی کفالت میں موجود نجی ملازمین وغیرہ پر ہی ہوگا ۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے ترجمان مسلسل وضاحت اور تردید بھی کرتے رہے اور بار بار یہ واضح کرتے رہے کہ فیملی ٹیکس سے متعلق سوشیل میڈیا پر گشت کر رہی اطلاعات  غیر درست اور من گھڑت ہیں۔ عام غیر ملکیوں  میں یہ خیال بھی تھا کہ جولائی تک انتظار کیا جائے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت اس پر نظر ثانی کرے اور ماہانہ فیملی ٹیکس کی اپنی تجویز واپس لے لے لیکن پچھلے پیر کو مملکت کے وزیر خزانہ نے ماہانہ ٹیکس کے لاگو کئے جانے کی توثیق کردی ۔ امریکی صدر کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر منعقد ریاض کانفرنس میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران وزیر خزانہ محمد الجد عان نے یقین دلایا کہ حکومت مقیم  غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ ٹیکس وقت مقررہ پر نافذ کرے گی جس کا اعلان کیا جاچکا ہے ۔ دوران گفتگو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مملکت میں مقیم  غیر ملکیوں کے بچوں پر ماہانہ ٹیکس میں اضافہ سالانہ بنیاد پر کیا جائے گا ۔ تاہم ٹیکس کی ادائیگی سے بعض ممالک کے شہری مستثنیٰ ہوں گے ۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر نافذ کیا جا نے والا ٹیکس وقت مقررہ پر لاگو کردیا جائے گا جس کا شیڈول جاری کیا جاچکا ہے ۔ اس پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔ تارکین وطن کے اہل خانہ پر عائد کئے جانے والے ماہانہ ٹیکس کے حوالے سے وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ رواں برس ٹیکسوں کے بارے میں وضاحت سے اعلان کیا جاچکا ہے ۔ حکومت بعض ممالک کے شہریوں کو ٹیکس کی حد میں رعایت دینے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں عرب اور اسلامی ممالک شامل ہیں جن کے شہریوں کے اہل خانہ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیاجائے گا ۔ ان ممالک کے حوالے سے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے اس حوالے سے جامع رپورٹ تیار کی جارہی ہے جس کے بعد ان ممالک کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جن کے شہریوں کے اہل خانہ کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر ذرائع سے آمدنی میں اضافے کیلئے پیش کئے جانے والے بجٹ میں یہ بھی شامل تھا کہ مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے بچوں پر ماہانہ ٹیکس عائد کیا جائے جس کا نفاذ جولائی 2017 ء سے کیا جائے گا ۔ پہلے مرحلے میں فی فرد ماہانہ 100 ریال ، دوسرے مرحلہ کا آغاز 2018 ء میں ہوگا جس میں فی فرد  200 ریال ماہانہ ہوگا  اس طرح 2020 ء تک اس کی رقم 400 ریال ماہانہ ہوجائے گی جو اقامہ کی تجدید کے وقت وصول کی جائے گی ۔

قیاس کیا جارہا ہے کہ یمن اور شام کے حالات کے پیش نظر ان ممالک کے مقیم افراد کو فیملی ٹیکس سے مستثنیٰ کرے گی کیونکہ ان ممالک کے باشندوں کو حکومت ایک عرصہ سے مختلف مراعات دیئے ہوئے ہے لیکن اس سلسلہ میں جب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں آتا تب تک بات واضح نہیں ہوگی۔
ماہانہ فیملی ٹیکس کے عائد کئے جانے کے اعلان کے ساتھ ہی اس کے اثرات سامنے آنے لگے تھے ۔ بہت سے تارکین وطن نے اپنا ذہن بنالیا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو اپنے وطن واپس بھیج دیں گے تاکہ فیملی ٹیکس کے بوجھ سے بچا جاسکے ۔ تارکین وطن کے اس فیصلے کی توثیق اس بات سے ہورہی ہے کہ اکثر تارکین وطن اپنے بچوں کے اسکول میں صداقت نامہ نقل مدرسہ (TC) کی اجراء کئے جانے کی درخواستیں دینے لگے ہیں۔ یہ درخواستیں بہت بڑی تعداد میں نہیں ہیں لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ تارکین وطن کے مملکت کو چھوڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جیساکہ اعلان کیا گیا ہے کہ پہلے سال یہ ٹیکس 100 ریال فی کس ہوگا ۔ اس لئے پہلے سال صرف وہ لوگ ممالک چھوڑ رہے ہوں گے جن کی آمدنی کم ہے یا اتنی نہیں ہے کہ وہ فیملی ٹیکس کا زائد بوجھ برداشت کرسکیں لیکن یہی ٹیکس اگلے سال 200 ریال ماہانہ اور سن 2020 ء تک 400 ریال فی کس ماہانہ ہوجائے گا ۔ لہذا آنے والے برسوں میں ایک بڑی تعداد مملکت کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوجائے گی اور اس کا اثر مملکت کی مارکٹ اور زندگی کے ہر شعبہ پر پڑے گا۔

دریں اثناء وزارت داخلہ مملکت سعودی عرب نے اس سلسلہ میں اس ہفتہ ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ ’’غیر قانونی تارکین سے پاک وطن مہم ‘‘ سے اب تک 2 لاکھ56 ہزار غیر ملکی استفادہ کرچکے جبکہ اب تک 53 ہزار افراد سعودی عرب سے رخصت ہوچکے ہیں۔ مملکت کے تمام 13 علاقوں میں محکمہ پاسپورٹ کے اہلکار پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سعودی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی غیر قانونی تارک وطن کو کسی بھی نوعیت کا تعاون نہ دیں۔ انہیں  رہائش ، سفر ، روزگار یا چھپانے کے حوالے سے کسی طرح کا بھی تعاون نہ کریں۔
سفارت خانہ ہند ریاض نے اس سلسلے میں تازہ ترین صورتحال سے واقف کرانے کیلئے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ سفیر ہند احمد جاوید نے بتایا کہ 22 مئی تک سفارت خانہ ہند ریاض اور انڈین قونصلیٹ جدہ میں ایمرجنسی سرٹیفکٹ کیلئے جملہ 26,442 درخواستیں وصول ہوئیں جس میں سے 25,541 کو وطن واپسی کے سفر کیلئے ایمرجنسی سرٹیفکٹ جاری کردیا گیا ۔ ایمرجنسی سرٹیفکٹ جو جاری کئے گئے اس کی تفصیلات اس طرح ہیں۔ اترپردیش سے 11,390 ء تلنگانہ سے 2736 ، بہار سے 1491 ، آندھراپردیش سے 1120 اور راجستھان سے 853 باشندوں کو ایمرجنسی سرٹیفکٹ جاری کئے گئے تاکہ وہ سعودی حکومت کی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن لوٹ سکیں۔ اس موقع پر ڈائرکٹر ویلفیر انڈین اطیبی انیل بھی موجود تھے۔
مملکت سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی مہلت میں ابھی کوئی ایک ماہ باقی ہے ۔ ایسے تارکین وطن جن کی حیثیت کسی وجہ سے غیر قانونی ہوگئی ہے ، وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور بغیر کسی جرمانے اور سزا وغیرہ کے یہاں سے جلد از جلد نکل جائیں۔ اس سلسلہ میں انڈین ایمبسی ریاض اور انڈین قونصلیٹ جدہ ہر قسم کی سہولت اور امداد بہم پہچانے کیلئے مستعدی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ہماری سماجی تنظیمیں بھی مثالی انداز کی خدمات انجام دے رہی ہیں اور ایمبسی کے ساتھ شانہ بشانہ مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ہندوستانی باشندوں کو ایمبسی اور سماجی تنظیموں کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ لہذا وہ اس سے فائدہ اٹھائیں  اور جلد سے جلد مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن لوٹ جائیں۔

TOPPOPULARRECENT