Tuesday , July 25 2017
Home / مضامین / تارکین وطن کیلئے سفیر ہند ریاض اور قونصل جنرل ہند جدہ کی خدمات لائق تحسین

تارکین وطن کیلئے سفیر ہند ریاض اور قونصل جنرل ہند جدہ کی خدمات لائق تحسین

جدہ میں جناب زاہد علی خان کا عارف قریشی کو خصوصی انٹرویو

عارف قریشی
جناب زاہد علی خان مدیر اعلیٰ روزنامہ سیاست حیدرآباد دکن (اسلامک کیلی گرافی اینڈ آرٹ ایگزیبیشن کے سلسلے میں جدہ تشریف لائے تھے ۔ انہوں نے انڈین قونصلیٹ جنرل آفس جدہ کے پریس روم میں قونصل جنرل ہند جدہ جناب محمد نور رحمن شیخ اور دیگر ممالک کے قونصلرس کے ہمراہ اس ایگزیبیشن کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد زاہد علی خان صاحب نے عارف قریشی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے ملک کے کم از کم 30 لاکھ ہندوستانیوں کو اپنے ملک میں روزگار فراہم کیا اور ان کے رہائش و طعام کے علاوہ دوسرے اہم ضروریات کا اہتمام کیا ۔
جناب زاہد علی خان نے سعودی عرب کے سفیر ہند جناب احمد جاوید اور قونصل جنرل ہند جدہ جناب محمد نور رحمن شیخ اور ان کے قونصلرز اور اسٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن کیلئے ان کی خدمات لائق ستائش اور قابل تعریف ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے سعودی عرب  میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کو 90 دن میں سعودی عرب سے بغیر کسی سزا اور جرمانے کے اپنے وطن کو واپس جانے کی ہدایت کی گئی اس شاہی فرمان سے فائدہ ا ٹھا کر غیر قانونی مقیم تارکین وطن عزت سے ا پنے ملک واپس جانا چاہئے اور ہر تارکین وطن کو سعودی عرب کے قانون کا احترام کرنا چاہئے اور خلیج میں مقیم سارے تارکین وطن کو یہ یقین کرلینا چاہئے کہ ان کو ایک نہ ایک دن اپنے وطن لوٹنا ہے ۔

میرے اس سوال پر کیا گلف سے آنے والے ہندوستانیوں کیلئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے کیا سہولت دی جارہی ہے ۔ اس سوال کے جواب میں زاہد علی خان نے کہا کہ این آر آئیز کیلئے ابھی تک تلنگانہ حکومت کی جانب سے کوئی جامع حکمت عملی نہیں بنائی گئی ہے جس طرح کیرالا حکومت نے این آر آئیز کے لئے ایک وزارت قیام کی ہے اور اس وزارت کے تحت این آر آئیز کی ہر طرح کی مدد کی جاتی ہے۔
یکساں سیول کوڈ سے متعلق سوال کے جواب میں زاہد علی خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں 25 کروڑ مسلمان رہتے ہیں، ان کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے لاکھوں لوگ رہتے ہیں، ان سب کو یکساں سیول کوڈ کے دائرے میں لانا ممکن ہی نہیں ناممکن ہے ۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ہمارا ملک دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
بابری مسجد کے سوال کے جواب میں جناب زاہد علی خان نے کہا کہ بابری مسجد کا فیصلہ سپریم کورٹ کے باہر کروانے کی کوشش کی جارہی ہے جو نامناسب پہل ہے جبکہ بابری مسجد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور سپریم کورٹ کو ہی فیصلہ کرنا چاہئے جبکہ ہندوستانی مسلمانوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک کے قانون اور دستور  پر مکمل بھروسے اور سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ۔ وہ ہندوستان کے سارے مسلمانوں کیلئے قابل قبو ل ہوگا ۔ زاہد علی خان نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بابری مسجد تھی اور قیامت تک اسی مقام پر بابری مسجد ہی رہے گی ۔ زاہد علی خان نے مزید کہا کہ ہندوستان کے دستور کے تحت ہرہندوستانی کو اپنے اپنے مذہب پر زندگی گزارنے کا پورا پورا حق دیا گیا ہے ۔ ہمارے ملک کے دستور میں آزادی اظہار خیال ، مذہبی آزادی ، عبادت کی آزادی کی بھی طمانیت دی گئی ہے۔ جہاں تک مسلم پرسنل لا کا تعلق ہے ، وہ صرف قانون نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ کا معاملہ ہے اور ہندوستانی مسلمان مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

تلنگانہ میں 12 فیصد تحفظات کے بارے میں جناب زاہد علی خان  نے بتایا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت قائم ہونے کے چار ماہ کے اندر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کریں گی ۔ انہوں نے ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا جبکہ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات دیئے جاتے ہیں، ہم تو ہمارے تلنگانہ کے چیف منسٹر سے 12 فیصد تحفظات کی بات کر رہے ہیں جو انہوں نے ہی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ میری چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا وعدہ جلد سے جلد پورا کریں تاکہ جلد سے جلد سنہرے تلنگانہ کا خواب بھی پورا ہوسکے۔ شادی مبارک اسکیم کے سوال پر زاہد علی خان نے کہا کہ ہمارے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شادی مبارک اسکیم کے تحت بے شمار گھروں کو اُجڑنے سے بچایا اور بے شمار گھر آباد کئے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ پہلے 51 ہزار روپئے دئے جاتے تھے ، اب 75 ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں مگر میرا یہ کہنا ہے کہ یہ رقم شادی سے پہلے لڑکی والوں کو دی جائے تاکہ لڑکی والے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے کچھ ضروری سامان خرید سکیں۔
میں نے جناب زاہد علی خان سے سوال کیا کہ دوبدو ملاقات کے ذریعہ رشتے طئے کئے جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف امیروں کے رشتے طئے کئے جارہے ہیں۔ میرے سوال کے جواب میں جناب زاہد علی خان نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہمارے پاس کوئی امیر یا کوئی غریب نہیں ہے جو بھی ہمارے دوبدو پروگرام میں شرکت کرتا ہے ہم سب کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے دوبدو پروگرام سے غریب اور امیر سب ہی خاندان کے مسلم لڑکے اور لڑکیاں اپنی اپنی پسند کے لڑ کے اور لڑ کیاں تلاش کرتے ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ امریکہ ، کینیڈا ، لندن اور خلیج میں برسر روزگار ڈاکٹرس ، انجنیئرس بھی اپنی اپنی بیگمات کی تلاش میں دوبدو پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔ ہمار مقصد شادی بیاہ میں گھوڑے جوڑے ، جہیز اور فضول رسومات کا خاتمہ ہو شادی کے دن لڑکی والوں کی جانب سے ایک کھانا ایک میٹھا ہو اس طرح کی شادیوں سے مسلمانوں کے لاکھوں روپئے برباد ہونے سے بچ جائیں گے۔

لا وارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کے بارے میں زاہد علی خاں نے بتایا کہ ادارہ سیاست کی جانب سے لا وارث مسلم نعشوں کی ا سلامی طریقے سے تدفین کی جاتی ہے ، ابھی تک 4000 سے زائد لا وارث مسلم نعشوں کی تدفین ادارہ سیاست کی جانب سے ہوچکی ہے ، ایک میت پر 2500 سے 3000 روپئے کا خرچ ہوتا ہے اور ہر ماہ دس سے پندرہ مسلم لا وارث نعشوں کی تدفین کی جاتی ہے ۔ حیدرآبادی رباط کے مطابق انہوں نے کہا کہ ناظر رباط حسین محمد الشریف نے اس سال سابقہ نظام اسٹیٹ کے 1200 حجاج کیلئے مفت رہائش کا انتظام کیا ہے اور دن میں ایک مر تبہ مفت طعام اور حرم شریف جانے اور واپس آنے کیلئے  ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا ہے ، ان کی خدمات لائق تعریف ہے۔
زاہد علی خان نے تعلیم کے بارے میں کہا کہ ادارہ سیاست کی جانب سے مستحق اور ذہین طلبہ کو مالی تعاون دیا جاتا ہے اور ان کو پبلک سرویس کمیشن ، انجنیئرنگ ، الیکٹریکل الیکٹرانکس کے علاوہ دوسرے کلاس کے لئے کوچنگ کا انتظام کیا جاتا ہے اور پولیس میں بھرتی کیلئے مکمل ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ ابھی تک ہماری دی ہوئی ٹریننگ سے ایک ہزار سے زیادہ لڑکے پولیس میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ مسلمان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں اور ملت کے درخشاں مستقبل کیلئے اپنی خدمات انجام دیں۔ انٹرویو کے آخر میں زاہد علی خان نے کہا کہ یہ خدمات اللہ رب العزت کی عطا کردہ توفیق اور اس رحمت کاملہ کی خوشنودی کی خاطر کی جاتی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT