Wednesday , June 28 2017
Home / مضامین / تارکین وطن کیلئے میڈیکل انشورنس

تارکین وطن کیلئے میڈیکل انشورنس

کے این واصف
تارکین وطن کے ساتھ یہاں ایک بڑا مسئلہ بیمار پڑنے پر علاج کا ہوتا ہے ۔ تارکین وطن یہاں چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ گزاریں ، اپنی ساری طاقت و توانائی اس سرزمین پر صرف کریں لیکن کسی سرکاری دواخانے میں ان خارجی باشندوں کو اپنا علاج کروانے کی سہولت حاصل نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حکومت نے کسی بھی خارجی باشندے کے اقامہ کی اجرائی یا تجدید کیلئے میڈیکل انشورنس کے پیش کئے جانے کو لازم قرار دے رکھا ہے لیکن اگر کمپنیاں یا کفیل ایک معمولی قسم کا ہیلتھ انشورنس خرید کر اپنے مکفول کا اقامہ بنوالیتے ہیں اور چھوٹی پریمیم والے ہیلت انشورنس کارڈ پرا یک وقت میں 100 ریال سے زائد کا علاج نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی بڑی بیماری لاحق ہوجائے تو پھر یہ تاریک وطن مجبور ہوجاتا ہے ۔ اکثر صورتوں میں ایسے لوگ وطن چلے جاتے ہیں تاکہ کم خرچ میں اپنا علاج کروالیں۔
اس سلسلے میں اسی ہفتہ سعودی میڈیکل کونسل کے ترجمان کا ایک بیان آیا جو تارکین وطن کیلئے کسی قدر ہمت افزا ہے ۔ ہیلتھ انشورنس کونسل کے ترجمان نے کہا کہ قانون کے مطابق طبی انشورنس کی فراہمی کفیل کے ذمہ ہے ۔ کارکنوں کو میڈیکل انشورنس فراہم نہ کرنے پر کمپنی مالکان کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ہیلتھ انشورنس کونسل کے ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت محنت کے قانون کے مطابق مملکت میں ورک ویزوں پر مقیم تارکین کے اقاموں کی تجدید طبی انشورنس سے مشروط ہے جو کفیل کی ذمہ داری ہے ۔ وہ کارکن جن کی کمپنی یا اداروں نے انہیں فیملی اسٹیٹس فراہم کیا ہوا ہے ان اداروں پر لازمی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو مقررہ قوانین کے مطابق طبی انشورنس فراہم کریں ۔ اگر کوئی ادارہ اپنے کارکن کو مقررہ قواعد کے مطابق طبی انشورنس کی سہولت فراہم نہیں کرتا تو ایسی صورت میں اس کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اس ادارے پر نہ صرف جرمانہ عائد کیا جاتا ہے بلکہ ادارے کی انتظامیہ کو اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ کارکن کی انشورنس کا مکمل پریمیم اور بقایا جات بھی ادا کرے۔ ترجمان کونسل نے مزید کہا کہ نجی سیکٹر میں کام کرنے والے کارکنوں کو چاہئے کہ اگر ان کے کفیل قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہوئے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو میڈیکل انشورنس فراہم نہیں کر رہے تو وہ اپنے ادارے کے بارے میں شکایت کونسل میں درج کروائیں جسے مخفی رکھتے ہوئے کفیل کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی ۔ اس ضمن میں ہیلتھ انشورنس کونسل کی جانب سے تفتیشی ٹیمیں موجود ہیں جو اس امر کا تفصیلی جائزہ لیکر اپنی رپورٹ سے متعلقہ کمیٹی کو مطلع کرتی ہے جس پر ادارے کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر کمیٹی یا کفیل پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ عارضی یا مستقل بنیادوں پر بیرون ملک سے افرادی قوت درآمد کرنے کیلئے ویزوں کے اجراء پر پابندی عائد کردی جائے گی ۔ ترجمان کونسل نے مزید کہا کہ مملکت میں 27 میڈیکل انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن کیلئے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں ۔ انشورنس کمپنیوں کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مقررہ قواعد کی پابندی کریں ، خلاف ورزی پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ مملکت میں وزارت محنت کے قوانین کے مطابق کارکنوں کو طبی انشورنس فراہم کرنا ضروری ہے جس کے بغیر ان کا اقامہ تجدید نہیں ہوسکتا ۔ بعض ادارے فرضی انشورنس بنواتے ہیں جو قانون شکنی شمار ہوتی ہے ۔
دریں اثناء اس سلسلے میں یہاں ایک اور بیان سامنے آیا جس میں کوآپریٹیو ہیلتھ انشورنس کونسل کی جانب سے 25 سے کم کارکن رکھنے والے ادارے اور کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کارکن اور اس کے اہل خانہ کیلئے یونائٹیڈ طبی انشورنس جاری کروائیں ۔ کونسل کی جانب سے لازمی ہیلتھ انشورنس اسکیم کا یہ چوتھا اور آخری مرحلہ ہے جس میں کم تعداد رکھنے والے اداروں کو اپنے کارکنوں کو طبی انشورنس اسکیم کا پابند بنایا گیا ہے ۔ کونسل نے چھوٹے تاجر اور سرمایہ کاروں کیلئے لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونائٹیڈ طبی انشورنس اسکیم کا نفاذ مرحلہ وار شروع کیا تھا جس میں سب سے پہلے مرحلہ میں بڑے ادارے جن کے کارکنوں کی تعداد 100 سے زیادہ تھی ، ان کے کارکن اور ان کے اہل خانہ کیلئے لازمی طبی انشورنس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا ۔ طبی انشورنس کے قانون کو مرحلہ وار نافذ کیا جانا تھا جو کارکنوں کی تعداد کے مطابق تھا ۔ اس حوالے سے کونسل کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ان کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو اپنے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو لازمی انشورنس فراہم نہیں کریں گے ۔ خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں  پر مالی جرمانے کے ساتھ عارضی یا مستقل بنیادوں پر ویزوں کا اجراء بھی روک دیا جائے گا ۔ کونسل کی جانب سے قوانین میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی انشورنس کمپنی کو یہ حق نہیں کہ وہ 65 برس کی عمر کے ملازمین کے انشورنس نہ کریں۔ انشورنس کمپنیوں کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ 5 لاکھ ریال تک کی کوریج فراہم کرے تاکہ صارف کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ہیلتھ انشورنس کی جانب سے اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ اگر کوئی ادارے اپنی انشورنس کمپنی کی فراہم کردہ خدمات سے مطمئن نہیں تو وہ دوسرے برس کمپنی و تبدیل کرسکتا ہے ۔ یونائٹیڈ انشورنس اسکیم کے تحت کمپنی اپنے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے یکساں پالیسی لینے کی پابند ہوگی۔ واضح رہے انشورنس کمپنیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کے باوجود گزشتہ برس سے انشورنس اسکیموں میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، اس حوالے سے صارفین کی جانب سے متعدد شکایات کوآپریٹیو ہیلتھ کونسل کو موصول ہوئی تھیں جن پر غور کرنے کے بعد لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے تاکہ صارفین کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے ۔
یہ بیانات تارکین کے عین حق میں ہے۔ اس سے تارکین کی ہمت افزائی ہوگی اور ان میں حوصلہ پیدا ہوگا ۔ دونوں ہی بیانوں میں کارکنان کو اچھا اور زیادہ کوریج والا انشورنس نہ دلانے پر کفیل یا کمپنی  کے خلاف شکایت درج کروانے کی بات بھی کہی گئی ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں ملازمین کا استحصال ایک عام بات ہے اور اس سے سعودی عرب بھی مستثنیٰ نہیں۔ لیبر قوانین میں ملازمین کے حقوق اپنی جگہ لیکن کفیل حضرات یا کمپنی مالکان اپنے فائدہ کیلئے کچھ نہ کچھ گنجائش نکال ہی لیتے ہیں۔ لیبر قوانین  ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے کافی ہیں لیکن ملازمین کی اکثریت اپنی کمپنی کے باریمیں شکایت درج کروانے سے خوف کھاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمین کا ایک بڑا طبقہ اپنے حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتا ہے۔
انڈین ایمبسی
انڈین ایمبسی ریاض پر حکومت سعودی عرب کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ ا ٹھاتے ہوئے مملکت سے نکل جانے کی کارروائی مکمل کروانے ہندوستانی باشندوں کا ہجوم بدستور قائم ہے ۔ سماجی کارکنان کی ایک بڑی تعداد ایمبسی اسٹاف کے ساتھ ہندوستانی باشندوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایمبسی میں کمیونٹی ویلفیر کے ڈائرکٹر انیل نوٹیال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایمبسی 13 ہزار سے زائد ایمرجنسی سرٹیفکٹس جاری کرچکی ہے۔
ہندوستانی تارکین وطن کی سہولت کیلئے ایمبسی نے دمام ، جبیل، بریدہ ، وادی الدواسر، الخفجی، الاحساء ، حضرالباطن، عرعر، الجوف اور حائل میں اپنے سنٹر قائم کئے ہیں تاکہ ان دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہندوستانی تارکین وطن ا پنے خروج کی کارروائی بآسانی مکمل کرواسکیں۔ اس کے علاوہ انڈین قونصلیٹ جدہ نے بھی قونصلیٹ کے تحت آنے والے علاقوں میں 21 سنٹرز قائم کئے ہیں۔ یہاں سے ہندوستانی تارکین وطن اپنے خروج ہنائی (Final Exit) کی کارروائی مکمل کرواسکتے ہیں۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT